پولیس

67

انتظامیہ کا سب سے موثر شعبہ پولیس کا ہوتا ہے، پولیس شہروں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیت بروئے کار لاتی ہے پولیس فورس طاقت کا استعمال کرتی ہے مگر اس کی حدودمتعین ہیں، یہ طاقت اس لئے استعمال کرنی ہوتی ہے کہ پولیس کا سابقہ مجرموں سے پڑتا ہے۔ برٹش انڈیا میں پولیس کو THIRD DEGREEاستعمال کرنے کی اجازت تھی کیونکہ خطرناک مجرم آسانی سے اپنے جرم کا اقبال نہیں کرتے تھے اور سخت جان تھے ایک رپورٹ کے مطابق برٹش انڈیا میں مجرم جھوٹ بولنے میں کمال رکھتے تھے اور آسانی سے پولیس کو چکمہ دے جاتے تھے مگر پھر بھی ایسا نہیں تھا کہ پولیس کو تشدد کی آزادی تھی، عدالتیں یہ دیکھتی تھیں کہ بے جا تشدد تو نہیں کیا گیا ہے، تقسیم کے بعد ایسی ہی پولیس اور پولیس کا نظام پاکستان کو ملا، جو چند سال تو چلتا رہا اور اس پر کوئی انگلی نہیں اٹھی، مگر ہوا یہ کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ممتاز دولتانہ اپنے لئے بے انداز اختیارات چاہتے تھے ان کی ملاقات ایک سیکرٹری انور قدوائی سے ہوئی یہ علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے اور اچھے بیوروکریٹ سمجھے جاتے تھے دولتانہ ان کو پاجامہ ماسٹر کہا کرتے تھے انور قدوائی کا تعلق یوپی سے تھا اور وہ کھلے پائینچوں کا پاجامہ استعمال کرتے تھے پنجاب میں اس طرز کے لباس کی تضحیک کی جاتی تھی، دولتانہ یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے، بات چلی کہ نئے ملک کی مشکلات کیا ہو سکتی ہیں تو انور قدوائی نے دولتانہ کو ROBERTY HANSLEYکی ایک کتاب دولتانہ کو دی، اس کتاب میں نو آبادیاتی نظام کے ٹوٹنے کے بعد ان ممالک کی مشکلات کو DISCUSSکیا گیا تھا جو ابھی ابھی آزاد ہوئی تھیں، ROBERT HANSLEYایک پرانا برٹش بیوروکریٹ تھا، اس نے کتاب میں لکھا کہ آزاد شدہ ریاستیں امن و امان کے علاوہ ان عوام کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس اور فوج کا استعمال کریں گی جن کو برس ہا برس سے جلوس نکالنے اور تحریک چلانے کی عادت پڑ چکی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ کتاب ROBERT HANSLEYسے لکھوائی گئی تاکہ تیسری دنیا پولیس اور فوج کا اسی طرح استعمال کرے جیسا کتاب میں بتایا گیا ہے اور عجیب اتفاق ہے کہ تیسری دنیا نے ایسا ہی کیا، اکثر ممالک میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور پولیس کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا۔
پاکستان بیوروکریسی نے پاکستان میں دولتانہ کی خواہش کے مطابق پنجاب پولیس کو ملک کے ہر کونے میں پھیلا دیا اور فوج میں بھی جہلم اور میانوالی کو ہی ترجیح دی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ بنگالی اپنے فزیکل سٹرکچر کی وجہ سے پولیس اور فوج کی ملازمت کے قابل نہیں، پولیس اور فوج کی بھرتی کے نئے تقاضوں کے مطابق یہ درست نہ تھا، پولیس کی بے ہنگم بھرتی اور اس کے وسیع اختیارات کے سبب پولیس شروع سے ہی بے لگام رہی اور تھرڈ ڈگری کا بھی بے تحاشا استعمال ہوتا رہا، بعد میں ہر صوبے کے اندر پنجابی فوج اور پنجاب پولیس کے خلاف آوازاٹھنا شروع ہوئی، یہ احتجاج اس وقت ہوا جب پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کیا گیا، بے نظیر اور پھر نواز شریف کے دور میں پولیس بہت زیادہ متنازعہ ہوئی کیونکہ اس کا سیاسی استعمال شروع ہو چکا تھا اور وہ مکمل طور پر سیاسی شخصیات کے زیر اثر آچکی تھی اسی دوران بے نظیر اور نواز شریف نے سیاسی بنیادوں پر پولیس کو بھرتی کیا، اخبارات میں یہ خبریں لیڈ کے ساتھ لگائی گئیں کہ حکومتوں نے مجرموں کو پولیس میں بھرتی کر لیا ہے، اس کے اثرات اس وقت عمران کے دور میں ظاہر ہورہے ہیں۔
مجھے فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے دوران گفتگو بتایا کہ پاکستان میں پولیس اصلاحات نہیں ہو سکتیں اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ فوج کے شہروں میں اپنے مفادات ہیں، ایک بڑا شہر ایک کور کمانڈر کے ماتحت ہوتا ہے اور ہنگامی حالات میں وہ غیر اعلانیہ طور پر شہر کا کنٹرول سنبھال لیتا ہے اگر پولیس کی جدید طرز پر تربیت کر دی گئی اور پولیس اصلاحات کی وجہ سے پولیس کی تشکیل نو ہو گئی تو پولیس شہروں کے امن و امان کے مسائل حل کر سکتی ہے اور شہروں میں ہنگامی حالات میں بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی لہٰذا فوج پولیس اصلاحات نہیں ہونے دے گی سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عمران کے متعدد اعلانات کے باوجود پولیس میں اصلاحات نہیں ہونے دی گئیں، ناصر درانی نے کے پی میں پولیس کو نئی شکل دے دی مگر جیسے ہی ان کو پنجاب بلایا گیا تو خدشہ پیدا ہو گیا کہ سب سے بڑا صوبہ پولیس کی تحویل میں چلاجائے گا اور اگر ناصر درانی اگر پنجاب میں کامیاب ہو گیا تو پنجاب میں فوج کی ضرورت نہیں رہے گی سو ناصر درانی کے بعد یکے بعد دیگرے کئی آئی جیز تبدیل ہوئے ایسا ہر گز نہ تھا کہ یہ افسر نااہل تھے یا ان میں کوئی کمی تھی بات یہ تھی کہ پولیس کو سیاسی شخصیات کے اثر میں ہی رکھنا مقصود تھا اس لئے پولیس افسران کو ایک جگہ ٹکنے نہیں دیا گیا، کراچی کے دو افسران اسلم چودھری اور رائو انوار نے جب یہ دیکھا کہ ایم کیو ایم کے کئی جرائم پیشہ لوگ ان کی گرفت سے صرف اس لئے نکل جاتے ہیں کہ ان کو عدالت شہادت نہ ہونے کے سبب چھوڑ دیتی ہے تو انہوں نے ان کو جعلی پولیس ENCOUNTERمیں مار دیا، ان میں بہت سے معصوم بھی مارے گئے، انہی میں ڈاکٹر ظفر عارف بھی تھے جو فلسفے کے استاد تھے مگر ان کو حکومت کے مخالفین میں شمار کیا جاتا تھا۔
لبیک یا رسول اللہ تحریک کے دوران کئی پولیس افسران کا قتل اور ان کی تذلیل کا مقصد ہی یہ تھا کہ ملک بھر میں پولیس کا مورال ڈائون کر دیا جائے اور عوام میں یہ تاثر جائے کہ پولیس ناکارہ ہے اور ان حالات سے نمٹنے کے لئے فوج کو ہی بلانا پڑے گا، کراچی میں کیپٹن صفدر کیس میں بھی پولیس کی تذلیل کی گئی، لال مسجد کاواقعہ بھی ایک عام SHOسنبھال سکتا تھا مگر اس کو اتنا الجھ دیا گیا کہ وزیراعظم کو بھی بیچ میں کودنا پڑا، پولیس کی اصلاحات ہو جاتی ہیں تو امن و امان کے مسائل میں بہتر آسکتی ہے اور شہروں میں فوج کی ضرورت رہے گی نہیں، کئی اور وجوہات ہیں ان میں سے ایک یہ کہ ملک پر اس وقت دو سو خاندانوں کی حکومت ہے اور وہ سب پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں یہ سب فیوڈل لارڈز ہیں پولیس اگر ان کے اثر سے نکل گئی تو ملکی سیاست پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے گی، سارے اسلامی غنڈے فوج کے پالے ہوئے ہیں پولیس ان کو ہینڈل کر سکتی ہے اگر ایسا ہوا تو یہ دینی عناصر جن کو فوج حکومتوں کو گرانے اور دھمکانے کے لئے بھی استعمال کرتی ہے پولیس کی دسترس میں ہونگے، عمران بہت کمزور وزیراعظم ہیں اور ان کی اہلیت معلوم، فوج کے بل بوتے پر آئے ہیں اور اسی کے حصار میں ہیں، وہ اپنا کوئی وعدہ پورا نہ کر پائیں گے گو کہ ان کے خیالات درست ہیں مگر اب وہ انتہا پرستوں اور فوج کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور ان سے کوئی امید نہیں رہی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.