امریکہ کی End Game اور پاکستان

71

رپورٹر اگر خبر میں اپنی رائے شامل کرنا چاہے تو خبر ہارڈ نیوز نہیں رہتی تجزیہ بن جاتی ہے ایسی خبر کو News Analysis کہتے ہیں اسمیں رپورٹر کو تاثرات و واقعات بیان کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے ان رعایتوں کے باوجود حقائق سے رو گردانی نہیں کی جا سکتی بلکہ ہر بیان کردہ واقعے کو خبر کیلئے ناگزیر ثابت کرنا شرط ہوتا ہے میں جس خبر کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ سولہ اپریل کے نیویارک ٹائمز میں شہ سرخی کے ساتھ شائع ہوئی ہے اسے تین ایسے رپورٹروں کی بائی لائن دی گئی ہے جو اکثر اسلام آباد ‘ کابل اور نئی دہلی سے خبریں بھیجتے ہیں اس کے فٹ نوٹ میں لکھا ہے کہ اسکی تیاری میں Mark Mazzetti اور Eric Schmitt نے بھی تعاون کیا ہے یہ دونوں صحافی عرصہ دراز سے افغان جنگ کے بارے میں لکھ رہے ہیںاس تجزیاتی خبر کی ساخت و پرداخت بتاتی ہے کہ یہ زیادہ تر انہی دو صحافیوں کی لکھی ہوئی ہے خبر کا یہ فارمیٹ رپورٹروں کو انشراح صدر سے اپنی بات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے زیر نظر خبر طویل بھی ہے اور دلچسپ بھی اسکی سرخی چونکا دینے والی ہے اس میں لکھا ہے U.S. Pullout Puts Pakistan in Tight Spotیعنی امریکی انخلا نے پاکستان کو ایک مشکل مقام پر لا کھڑا کیا ہے خبر کا آغاز 2014 کے ایک واقعے سے کیا گیا ہے یہ افغان جنگ کے عروج کا زمانہ تھا اسمیں بیان کردہ واقعہ مشہور مزاحیہ پروگرام ’’ مذاق رات‘‘ سے لیا گیا ہے خبر میں لکھا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل Joke Night میں مہمان خصوصی تھے اس پروگرام میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ جب تاریخ لکھی جائیگی تو یہ بھی لکھا جائیگا کہ پاکستان نے امریکہ کی مدد سے سوویت یونین کو شکست دی تھی‘‘ اس جملے پر حاضرین نے خوب تالیاں بجائیں خبر کے مطابق جنرل صاحب نے کچھ توقف کے بعد کہا’’ پھر پاکستان نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی‘‘ رپورٹر وںنے اس جملے کی یہ وضاحت کی ہے کہ پاکستان امریکی امداد لیکر طالبان کو دیتا رہا اور طالبان افغانستان میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرتے رہے یعنی پاکستان اگر طالبان کی مدد نہ کرتا تو امریکہ کو شکست نہ ہوتی امریکہ ہمیشہ ہی سے اس ’’ ڈبل گیم‘‘ کی شکایت کرتا رہا ہے مگر اس نے کبھی بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی اس نے کبھی پاکستان کی اس قربانی کو اہمیت نہیں دی کہ جب ستمبر 2001 میں افغانستان پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تو صدر پرویز مشرف نے صدر جارج ڈبلیو بش کی تمام شرائط بلا توقف قبول کر لی تھیںپاکستان نے گذشتہ بیس برسوں میں امریکہ کے لئے بے پناہ قربانیاں دینے کے عوض صرف یہ مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان میں انڈیا کا کوئی عمل ڈخل نہیں ہونا چاہیئے امریکہ نے نہ صرف اس اکلوتی شرط کو نظر انداز کیا بلکہ انڈیا کو کابل میں اپنا نائب بنا کر اسے درجن بھر کونسلیٹ بنانے کی اجا زت بھی دے دی اسکے بعد انڈیا نے پاکستانی طالبان کیساتھ ملکر پاکستان کے طول و عرض میں خون کی جو ہولی کھیلی وہ امریکہ کیلئے فیئر گیم تھی ڈبل گیم نہ تھی آج امریکی میڈیا پرانے قصے کہانیاں سنا کر اپنی شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے مگر اس میں یہ اعتراف کرنے کی جرات نہیں کہ امریکہ اگر پاکستان کیساتھ ڈبل گیم نہ کرتا تو آج اس جنگ کے نتائج مختلف ہو سکتے تھے مشکل یہ ہے کہ امریکی دانشور واشنگٹن میں بیٹھ کر تاریخ کو اپنی عینک سے دیکھتے ہیں اور اسے اپنی دولت اور وسائل کی روشنائی سے لکھنے کی کوشش کرتے ہیںمگر نتیجہ ہر بار وہی نکلتا ہے جو ویتنام میں نکلا تھا مگر یہ اسے تسلیم کرنے کی بجائے اپنی ضد اورہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں
اس خبر کے اگلے حصے میں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ آج امریکی انخلا کے موقع پر پاکستان میں خوشیاں منائی جا رہی ہیںاور اسکے حکمرانوں کو بیس سال پرانے خواب کی تعبیر مل گئی ہے اس خواب کی وضاحت کرتے ہوے لکھا گیا ہے کہ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ ’’ افغانستان سے اس تباہ کن سپر پاور کو نکال دیا جائے جس کے آنے سے پہلے پاکستان کے زیر اثر رہنے والے طالبان اس ملک پر حکومت کر رہے تھے ‘‘ خبر کے مطابق اب کابل میں طالبان کی کسی بھی صورت میں واپسی کے بعد گھڑی کی سوئیاں مخالف سمت میں چلنا شروع ہو جائیں گی This would dial the clock back to a time when Pakistan played gatekeeper to Afghanistan اسکے بعد پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میںلکھا گیا ہے کہ اس جوہری طاقت رکھنے والے ملک کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہمسایہ ملک میں ہونے والا تشدد اسکی سرحدوں سے امڈ کر اسکے گلی کوچوں تک چلا آئیگا اور پھر اسے خود اس تشدد پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگاوطن عزیز میں جن خدشات کا اظہار ایک طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے اسی کو اپنے نقطہ نظر سے امریکی صحافیوں نے بیان کرتے ہوے لکھ اہے کہ افغانستان میں اگر خانہ جنگی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے تو پاکستان پر اسکے وہی اثرات مرتب ہوں گے جو 1990 میں سوویت یونین کی پسپائی کے بعد ہوے تھے ان اثرات کا ذکر کرتے ہوے لکھا گیا ہے کہ اس صورت میں ایکمرتبہ پھر لاکھوں کی تعداد میں افغانی پاکستان کا رخ کریں گے اوروہ اس ملک میں پہلے سے موجود اپنے رفقا ء کار کیساتھ ملکر تشدد کی کاروائیوں میں اضافے کا باعث بنیں گے اس خبر میں اس حقیقت کو امریکہ کیلئے باعث اطمینان قرار دیا گیا ہے کہ افغانستان میں ایک نئی خانہ جنگی اس لحاظ سے مختلف ہو گی کہ اسمرتبہ طالبان کو ایک حملہ آور سپر پاور کو برا بھلا کہہ کے ہمدردیاں حاصل کرنے کی سہولت میسر نہ ہو گی اسکے ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ پڑوسی ملک سے آنے والی تشدد کی ہر لہر نے پاکستان کی سول سوسائٹی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے دانشور وں اور Professionalsکو خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہے اور معاشی طور پر ایک کمزور ریاست کیلئے نا مساعد حالات پیدا کئے ہیں
افغانستان میں امریکہ کی End Game وہ نہیں جو نظر آرہی ہے صدر بائیڈن کی نئی حکمت عملی کا ذکر اگلے کالم میں ہو گا

Leave A Reply

Your email address will not be published.