وزیر اعظم صاحب: کورونا کی وباء پرقابو پانا ہے تو۔۔۔

63

محترم وزیر اعظم صاحب۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پاکستان کے زیادہ تر عوام نا خواندہ ہیں یا اسقدر تعلیم یافتہ نہیں کہ وہ خود کورونا وائرس سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں اور اس سے بچنے کے طریقہ بھی جان لیں ۔ جہاں تک کووڈ۔ 19کا تعلق ہے اس کا تو ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی علم نہیں تھا۔عوام بے چارے کیا سمجھتے۔ اور جب تک انہیں اس وباء کے مہلک نتائج اور اس سے بچنے کے طریقوں سے آگہی نہیں ہو گی وہ معصوم اس کا شکار ہوتے رہیں گے۔ اور لاک ڈاون کی مصلحتوں کو حکومت کی بلا وجہ کاروائی سمجھتے رہیں گے۔ یاد رہے کہ عوام کی اکثریت کو حفاظتی ٹیکے لگنے میں بھی ایک عرصہ لگے گا ۔اگر آپ اور آپ کے رفقاء سمجھتے ہیں کہ ٹی وی اور سوشل میڈیا میں ساری معلومات دی جا رہی ہیں، تو یہ آپ کی جھوٹی تسلی سے زیادہ کچھ نہیں۔ ان معلومات سے ایک چھوٹا سا طبقہ تو ضرور فائدہ اٹھاتا ہے مگر ملک کی آبادی کی اکثریت نہیں۔ اس کے لیے آپ کو ان چینلز کے ذریعے آگہی دینی ہو گی جنہیں ماہرین دو طرفہ کہتے ہیں کیونکہ ان میںمخاطب اور خطیب آمنے سامنے ہوتے ہیں، تعلیم دینے والا نہ صرف مخاطبین کی زبان میں انکو سمجھاتا ہے اس کے ساتھ وہ انکے سوالات کا جواب بھی دیتا ہے جس سے حاضرین کی بڑی تعداد معاملہ کو بہتر طریقے سے سمجھ پاتی ہے۔ جس طرح حفاظتی ٹیکوں سے ایک hard immunity پیدا ہوتی ہے اسی طرح موثر آگہی سے بھی لوگ خود اپنی حفاظت کرنا سیکھ جاتے ہیں اور اپنے عزیز و اقارب کو سمجھا سکتے ہیں۔اور آگہی کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔اگر عوام کو صحیح معلومات نہیں دیں گے تو افواہوں کا لامتناہی سلسلہ چلتا رہے گا۔ اس لیے ہماری مؤدبانہ گذارش ہے کہ آپ ملک بھر میں ایک تربیتی پروگرام چلائیں، جسے ’’کووڈ کو سمجھیں اور سمجھائیں پروگرام ‘‘ یا کوئی اوراچھا سا نام دے دیں۔ اس پروگرام کے تحت چھوٹی چھوٹی کلاسوں میں جس میں بیک وقت بیس سے پچیس افراد سے زیادہ نہ ہوں۔ سیکھنے والے مساجد کے امام، اساتذہ، پولیس مین، ٹائیگر فورس ، اور سیاسی کارکن وغیرہ ہوں۔ اگر سیاسی جماعتیں اس پروگرام کا حصہ بننا چاہیں تو ان کو بھی شا مل کریں۔ جتنے زیادہ لوگوں کو تربیت مل سکتی ہے، اتنا ہی بہتر۔
پاکستان میں ہر ضلع میںسرکاری ہیلتھ ایجوکیٹزز موجود ہیں، ان کو اس کام پر لگایا جا سکتا ہے۔سب سے پہلے ہم نے تربیت کا ایک نصاب بنانا ہو گا۔ اس کے بعد تربیت کنندگان کو اس نصاب کو استعمال کرنے کی تربیت دینی ہو گی۔ اور پھر وہ ان لوگوں کی تربیت کریں گے جن کا واسطہ پبلک سے براہ راست ہوتا ہے، اور ہم انکا ذکر کر چکے ہیں۔اس نصاب میں کیا ہو گا ، ہم اس کا بھی ذکر کریں گے۔
چند روز پہلے، وفاقی وزیر اسد عمر نے بیان دیا کہ پاکستان میں کووڈ کی جو تیسری لہر آئی ہوئی ہے وہ خطرناک ہے اور یہ بہت تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔حکومت پنجاب نے آج سے سخت لاک ڈائون کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے مطابق حکومت کے محکمہ برائے بنیادی اور ثانوی صحت عامہ نے، وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد، مریضوں کی تعداد میںتیزی سے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیش نظر، جس سے صحت عامہ کو فوری اور یقینی خطرہ لا حق ہے، اپنا حکم جاری کیا ہے اس خطرہ سے بچائو کے لیے تمام اقدامات لازمی کر دیے گئے ہیںجن سے اس بیماری کے سد باب اور قابو پایا جا سکے۔تمام تجارتی اور کاروباری اداروں، دوکانوں وغیرہ کو شام کے چھ بجے کے بعد بند کر دیا جائے گا۔اور ہفتہ اتوار بالکل بند۔ اس حکم سے استثناء ان کاروباروں کو ہو گا جو کھانے پینے کی اشیاء، دوائیاں، پٹرول پمپ ، درزی، حجام، وغیرہ کو دیا گیا ہے۔ ریسٹورانٹ اور کھانا فروخت کرنے والے صرف خرید کر لے جانے والوں کو کھانا دے سکیں گے۔شادی ہال، کمیونٹی مرکز، اور ایسے دوسرے مراکز بند رہیں گے۔ ان شہروں میں جہاں وباء کا زور ہے ، وہاں گھر سے باہر بھی شادی کا انتظام نہیں کیا جا سکے گا۔ صوبہ بھر میں جہاں عوام کا کٹھ ہو گا نقاب پہننا لازمی ہو گا۔تمام دفاتر میںصرف ملازمین کی نصف تعدادگھر سے کام کرے گی۔ دفتری اوقات صبح نو بجے سے دو بجے سہ پہر تک ہو ں گے۔ان کے علاوہ سنیما، تھیٹر، درگاہیں، مزار وغیرہ کچھ شہروں میں بند رہیں گے۔کوئی کھیل نہیں ہو گا۔شہر میں بسوں کوپچاس فیصد سواریاں لے جانے کی اجازت ہو گی۔
بھارت میں حالات اتنے سنگین ہو گئے ہیں کہ کووڈ کے مریضوں کو ہسپتالوں میں جگہ نہیں مل رہی اور ہسپتالوں میں آکسیجن ختم ہوگئی ہے یا ہونے والی ہے۔ شرح اموات انتہائی بلند سطح پر آ گئی ہے۔دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں مریض آکسیجن کی کمی سے ہلاک ہو رہے ہیں۔کئی ہسپتالوں میں سیلنڈر پھٹنے اور دوسرے حادثات سے بھی کئی جانیں ضائع گئیں۔حالات حکومت کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔اور ابھی اور بھی خراب ہوں گے۔ پاکستان کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور ہر ممکن صورت حال سے نپٹنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے،راقم کی درخواست ہے کہ وزیر اعظم اس بیماری سے نبرد آزما ہونے کے لیے تر جیحی بنیادوں پر عوام کی آگاہی کی مہم شامل ہو، اسلئے کہ جب تک عوام اس بیماری کے سیاق و سباق کو نہیں سمجھیں گے، وہ حفاظتی تدابیر پر پوری طرح عمل نہیں کر سکیں گے۔اس کی مثال آپ اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں کہ لوگ پُر ہجوم مقامات پر اگر ماسک پہنے ہوئے بھی ہوتے ہیں تو وہ ناک سے نیچے، بلکہ منہ سے بھی نیچے لگایا ہوتا ہے۔اس لیے کہ وہ وائرس کی چھوت کے عمل کو سمجھتے ہی نہیں۔ اور زیادہ تو خیر اس حرکت سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔ موٹر سائکل سوار کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ، لیکن کئی لوگ پہنے پھرتے ہیں۔ بطور ایک اقوام متحدہ کے سابق تعلیم صحت کے مشیر کے میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کو صحیح مشورہ دوں جو ان کو ان کے ڈاکٹر مشیروں سے کم ہی ملے گا۔ ڈاکٹر اپنی تربیت کے لحاظ سے علاج پر زیادہ زور دیتے ہیں بہ نسبت پرہیز کے۔راقم کو یقین ہے کہ اگر عوام الناس کو انکی اپنی زبان میں ایسے ماحول میں اس مرض کے بارے میں آگاہی دی جائے جہاں وہ سوال بھی کر سکیں اور وضاحت طلب کر سکیں تو ایسی آگاہی زیادہ موثر ہو گی جو ذرائع ابلاغ عامہ سے انہیں دی جارہی ہے۔
راقم کی رائے میںاس کار خیر میں ہر ایسے گروہ کی تربیت کی جائے جس کا رابطہ عوام الناس سے روزآنہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔اس تربیت میں ان کو آگاہی پھیلانے کے طریقے سمجھائے جائیں اور یہ کہ بتانا کیا ہے۔ تربیت دینے کے لیے پہلے ان کے تربیت کنندگان کو تربیت دینی ہوگی یعنی ایسے لوگ جن کی بات یہ لوگ غور سے سننے کے عادی ہیں۔امام اور ٹایئگر فورس کو جب بلایا جائے تو ان کو پانچ سو سے ایک ہزار جیب خرچ دیا جائے اور ایک وقت کا کھانا، تب ہی یہ پروگرام کامیاب ہو گا۔اس پروگرام کو ہنگامی بنیادوں پر چلانا ضروری ہو گا۔
اگرچہ یہ زیادہ سے زیادہ یک روزہ تربیتی پروگرام ہو گا۔ اس میں جن باتوں کو ذہن نشین کروایا جائے گا ان میں مندرجہ ذیل نقاط کی وضاحت شامل کریں:
کورونا وائرس کیا بیماری ہے؟اس کی علامات کیا ہیں؟ اس کے جرثومے ایک متاثر شخص سے کسی تندرست انسانی جسم میں کیسے داخل ہوتے ہیں؟ اور کچھ لوگ اس بیماری سے کیوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں؟ اور کیسے کوئی متاثر شخص اپنے پورے خاندان اور ملنے والوں میں اس کے جرثومے تقسیم کرتا ہے؟ اس کی علامات دوسری بیماریوں سے مختلف ہیں۔ نقاب پہننے سے اس بیماری سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور دوسروں کو بچایا جا سکتا ہے؟ ماسک کب پہننا ضروری ہے؟ پلاسٹک کی شیلڈ کیوں بہتر ہے؟ ہاتھ کب اور کیوں کئی دفعہ صابن سے دھونا چاہئیں؟ اور چھ فٹ کا فاصلہ کیوں اور کب رکھنا چاہیے۔ کورونا کی عام علامات کیا ہیں؟ اور کب کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے؟ اور کن حالات میں ہسپتال جانا چاہیے؟ کورونا سے بچائو کا ٹیکہ کیا کرتا ہے اور کیوں لگوانا چاہیے؟ جسمانی مدافعت کا کیا کردار ہے؟ اور یہ کیسے بڑھائی جا سکتی ہے؟ اس کے علاوہ اکثر پوچھے جانے والے سوالات کا تسلی بخش جواب۔
جہاں تک ممکن ہو ، تربیتی مواد میں تصاویر سے اہم نقاط کو واضح کیا جائے۔ یا وڈیو سے۔ اس کے علاوہ وہی نقاط ایک با تصویر کتابچے کی شکل میں تقسیم کیے جائیں۔ اسی کتابچے کی تصویر سے پوسٹر اور بل بورڈ بنا کر شہر کے اہم سڑکوں پر آویزاں کیے جائیں۔ ہر جگہ تربیت مقامی زبان میں کی جائے۔ اور طبی اصطلاحات کو کم سے کم یا آسان فہم لفظوں میں بتایا جائے۔ جو لفظ یا اصطلاح سمجھانا مشکل ہو اس کی شکل دیکھائیں۔جیسے ventilator۔ جہاں تک ممکن ہو، تربیت کنندگان ایسے اشخاص ہوں جن سے ان کے زیر تربیت اصحاب کبھی تربیت لے چکے ہوں۔
مندرجہ ذیل بیماری سے متعلق وہ موٹی موٹی باتیں ہیں جن پر لوگ اکثر سوال کرتے ہیں۔یہ امریکہ کے ایک متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس نے بتائیں ۔ اخبار بالٹی مور سن (Baltimore Sun) سے ماخوذ ہیں، جنہیں تربیتی پروگرام میں شامل کیا جا سکتا ہے:
۱: ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ مہینوں، بلکہ شاید سالوں رہنا پڑے ۔اس لیے ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔ہمیں اس حقیقت کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔ ۲: ہم اس وائرس کو ختم نہیں کر سکتے جو کہ جسم کے خلیوں میں داخل ہو چکا ہو۔ بے تحاشا گرم پانی پینے سے کوئی فائدہ نہیں۔۳: ہاتھ دھونا، چہرہ پر ماسک یا پلاسٹک کا بڑا نقاب پہننا اور دو میٹر کا سماجی فاصلہ رکھنا، اس بیماری سے بچائو کا بہترین طریقہ ہے۔۴: اگر گھر میں کوئی کورونا کا مریض نہیں تو صفائی کے لیے دروازے کے دستہ وغیرہ پر جراثیم کش دوائیاں استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔۵: اے ٹی ایم مشینوں اور سامان کے ڈبوں سے بیماری نہیں پھیلتی۔ بس اپنے ہاتھ کئی دفعہ دھوتے رہیے۔۶: اگر آپ بازار سے کھانا پینا لیتے ہیں یا ڈبوں میں بند کھانا تو اس سے یہ بیماری نہیں پھیلتی جیسے کہ کچھ پیٹ کی بیماریاں ۔۷: اگر عارضی طور پر آپ کی سونگھنے کی حس کم ہو جائے تو ضروری نہیں کہ آپ کو کورونا ہی ہوا ہے۔یہ کچھ دوسری وجوہات سے بھی ہو سکتا ہے۔۸: اینٹی ملیریا کی دوائیوں کو کورونا سے بچائو کے لیے استعمال نہ کریں۔ ان سے دل کے امراض ہو سکتے ہیں۔ ۹: گھر آکر ضروری نہیں کہ آپ فوراً اپنے کپڑے بدلیں یا نہائیں۔ صفائی اچھی چیز ہے لیکن خبط نہیں۔۱۰: ہمارے لیے سماجی فاصلہ رکھنا، پر ہجوم جگہوں میں نہ جانا، صابن سے ہاتھ دھونا، اور نقاب پہننا سب سے بہتر عادتیں ہیں۔۱۱: کورونا وائرس ہوا میں زیادہ دیر معلق نہیں رہتا، یہ ایک سانس سے منتقل ہونا والا قطرہ ہے جس کے لیے منہ کانزدیک ہونا ضروری ہے۔۱۲: آپ کھلی فضا جیسے باغ یا پارک میں ، سماجی فاصلہ کے ساتھ، جا سکتے ہیں ۔ لیکن اگر کسی سے ملاقات ہو جائے تو نقاب پہننا مت بھولیں۔۱۳: ہاتھ دھونے کے لیے کوئی بھی صابن استعمال کریں۔ کسی خاص جراثیم کش صابن کی ضرورت نہیں۔یہ وائرس ہے ، بیکٹیریا نہیں۔۱۴: جوتوں کے ساتھ وائرس گھر میں نہیں آتا۔۱۵: سرکہ، گنے کا رس اور ادرک کے استعمال سے آپ وائرس کا علاج نہیںکر سکتے ، شاید اپنے نظام مدافعت کو بڑھا سکتے ہیں۔۱۶: نقاب کو متواتر ایک لمبے عرصہ تک بھی نہیں پہننا چاہییے کیونکہ آپ کو تازہ ہوا اور آکسیجن کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔صرف پُر ہجوم جگہوں پر پہنیں۔۱۷: دستانے پہننا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مت پہنیں۔دستانوں میں جراثیم لگ سکتے ہیں جنہیں غلطی سے آدمی منہ پر لگا سکتا ہے۔۱۸: ہر وقت گھر کے اندر صاف فضا میں رہنا بھی ٹھیک نہیں۔ کچھ دیر باہر بھی نکلیں جہاں جراثیم ہوتے ہیں اور ان سے آپکے جسمانی مدافعتی نظام کو طاقت ملتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.