پاکستان نہ کھپے کی گونج کیوں!

92

۲۷ دسمبر 2007ء کو جب مسلم دنیا کی واحد اور پاکستان کی دو مرتبہ منتخب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو روالپنڈی کمپنی باغ بنام لیاقت باغ کی مقتل گاہ پر قتل کیا گیا یہاں پر ٹھیک 44سال پہلے 1951ء کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور پاکستان بنانے والے لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تھا تو بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کے ردعمل میں پورے سندھ میں اہل سندھ کی زبان پر صرف ایک ہی نعرہ بلند تھا کہ پاکستان نہ کھپے جس کا راقم الحروف گواہ ہے کہ جب ہم نے لاڑکانہ جاتے وقت مناظر دیکھے تھے وہ ناقابل بیان تھے جس کو زائل کرنے کے لئے آصف علی زرداری اور نواز شریف نے اہم رول ادا کیا تھا کہ جب زرداری صاحب نے نواز شریف کی لاڑکانہ آمد پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا کیونکہ پنجاب میں قتل ہونے والی بے نظیر بھٹو کے سوگ و غم میں پنجاب کی سیاسی قیادت شریک ہوئی تھی جس سے محسوس ہورہا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو پنجاب اسٹیبلشمنٹ قتل کرنے میں ملوث ہو سکتی ہے مگر سیاسی قیادت غم زدہ اور افسردہ نظر آئی تھی چونکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے بانی پاکستان قائداعظم کو بناایمبولینس اور میڈیکل ڈاکٹر گاڑی پنکچر ہونے پر کراچی کی بند روڈ پر مار دیا گیا دوسرے بانی پاکستان لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا۔ تیسری شخصیت قائداعظم کی سگی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو پہلے غدار اور بھارتی ایجنٹ قرار دیا پھر ایک دن گھر سے مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔
چوتھے ٹوٹے پھوٹے باقی ماندہ پاکستان کے وزیر اعظم زیڈ اے بھٹو کو سولی پر چڑھایا گیا۔ پانچویں مسلم دنیا کی واحد اور پاکستان کی پہلی دومرتبہ منتخب وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں قتل کیا گیا جو اہل سندھ پر نہایت ناگوار گزرا جس نے انہیں پاکستان کھپے کا نعرہ بلند کرنے پر مجبور کیا جس کو فی الحال وقتی طورپر زرداری صاحب نے روک رکھا ہے۔مگر آئندہ کسی بھی سانحے پر پھر یہ نعرے شدت پکڑ جائے گا جس طرح پاکستان بنانے والی قوم بنگالیوں پر مسلسل ظلم و ستم بڑھتا رہا جو آخر کار پاکستان نہ کھپے کا باعث بنا، تاہم آج پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سیاسی قیادت مریم نواز کو قتل کرنے کی دھمکیوںپر پنجاب سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن میاں لطیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آخر کب تک یہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہے گاجوکہیں پاکستان نہ کھپے کا باعث نہ بن جائے۔لہٰذا جب تک قاتلوں کو سزانہیں دی جائے گی پاکستان نہ کھپے کانعرہ بلند ہوتا رہے گا۔ جس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ سندھ کے بعد پنجاب میں پاکستان نہ کھپے کی بے چینی پیدا ہوچکی ہے جو مریم کے قتل کی دھمکی کے بعد پیدا ہوئی ہے کہ اگر پنجاب کی قیادت کو قتل کر دیا گیا جس سے پنجاب میں جو افراتفری پیدا ہوگی اس سے پورے ملک میں افراتفری کا عالم ہوگا جو پاکستان ٹوٹنے کا باعث بنے گا جس کو پاکستان نہ کھپے کہا جائے تو پھر کیا کہا جائے گا جس کا شاید طاقت ور اداروں کو ادراک نہ ہے کہ جب کسی ملک میں افراتفری پیدا ہو جاتی ہے تو وہ ملک افغانستان اور صومالیہ بن جاتا ہے جس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے لہٰذا پاکستان میں سیاستدانوں کی قتل و غارت گری کو روکا جائے کہ کہیں بنگال والے حالات نہ پیدا ہو جائیں اس لیے مریم کے قتل کی سازش میں ملوث لوگوں کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزائیں دی جائیں تاکہ پاکستان نہ کھپے کی بحث و مباحثے پر وقت ضائع نہ کیا جائے بشرطیکہ ملک کی اصلی طاقتوں میں موجودہ متحدہ پاکستان برقرار رکھنا مقصود ہو۔ بہرکیف پنجاب کی ڈائن اپنے بچے خود کھانے لگی ہے جو باقی ماندہ ملک کے لئے لمحہ ٔفکریہ ہے کہ اگر پنجاب کی سیاسی قیادتوں کو قتل و غارت گری سے خوف زدہ کیا جائے گا تو باقی ماندہ پاکستان کا کیا ہو گا۔ حالانکہ مریم نواز کے قتل کی دھمکی کے بعد اداروں کو حرکت میں آجانا چاہیے تھا جن کو سازش کرنے والوں کو اب تک لٹکا دینا چاہیے تھا لیکن اس قتل کی دھمکی کے بعد کسی ادارے کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہے کہ ملک کی مشہور اور ہر دلعزیز خاتون سیاستدان مریم نواز کو پہلے سندھ کراچی کے ہوٹل کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو کر چادر اور چار دیواری کو پامال کیا گیا جن کے شوہر کیپٹن(ر) صفدر کو ان کے کمرے سے اس طرح گرفتار کیا گیا جس نے شاید کوئی بہت بڑا جرم کیا تھا یا پھر مریم نواز کو اسیر باپ نواز شریف کے سامنے گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ قیدیوں کی تمام سہولتوں سے محروم رکھا گیا۔ جیل کے کمرے میں کیمرے لگائے گئے جو ان کی نقل و حرکت کو دیکھتے رہے۔ آج ان کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جس کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی اور پنجاب کی واحد بڑی پارٹی کے کارکنوں اور رہنمائوں سے پاکستان کھپے کی امید رکھنا مشکل ہو گا۔ بہرحال میاں لطیف کے احتجاجی بیان پر غورو فکر کرنا ہو گا کہ ملک کس سمت جارہا ہے جو اب حکمرانوں کے انتقام سے نہیں چل سکتا ہے۔ آج پاکستان کو استحکام چاہیے انتقام نہیں۔ جو ملک کو نہ کھپے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ظاہرہے جب ملک کے سب سے بڑے صوبے جس کی آبادی پاکستان کی آبادی سے آدھی سے زیادہ ہے یہاں اس قسم کی بے چینی ملک میں انتشار کا باعث بن سکتی ہے جس کا پھیلائو چھوٹے صوبوں تک پھیل سکتا ہے جو آخر کار پاکستان نہ کھپے کا باعث بن سکتا ہے جس سے اجتناب کرنا ہو گا کہ آئندہ کسی قسم کا سیاستدان کا قتل نہ ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.