پڑوسیوں کا حق!!

88

کورونا آج ہماری زندگی میں ایسے شامل ہو گیا ہے جیسے کہ پہلے کبھی کچھ نارمل تھا ہی نہیں۔ اگر ہم فیس بک وغیرہ پر کوئی ایسی تصویر دیکھ لیں جس میں چار پانچ لوگوں سے زیادہ نظر آرہے ہیں تو لگتا ہے یہ کوئی جرم سرزد ہو گیا ہے یعنی یہ سوشل فاصلہ قائم نہیں رکھ رہے ہیں پھر دل کو تسلی دیتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ Covidپھیلنے سے پہلے کی تصویر ہو گی۔ کبھی کبھی یہ گمان درست بھی نکل آتا ہے۔
امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں نے Covidکی احتیاطی تدابیر کا بہت زیادہ خیال رکھا، ایک دوسرے سے فاصلے سے ملنا، ایک دوسرے کے گھروں پر بلا ضرورت وزٹ نہ کرنا، بڑی دعوتیں پارٹیاں ارینج نہ کرنا حتیٰ کہ مسجدوں میں محدود تعداد میں جانے کی ہدایت پر بھی اپنی لوکل اتھارٹیز سے کوئی مطالبہ نہیں کیا جبکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے بڑے بڑے مورچے نکالے، چرچوں میں جمع نہ ہونے کی ہدایت پر بھی برہمی کااظہار کیا لیکن مسلمانوں نے ایسی کبھی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ CDCکی گائیڈ لائن پر عمل کریں گے تو اس سے اس موذی وباء کے رکنے کے زیادہ امکانات ہوں گے۔
پاکستان میں بھی سب ہی نے بہت تعاون کیا چاہے وہ ایک اخروٹ بیچنے والا ہو یا سبزی کا ٹھیلا لگانے والا یا کسی سپر سٹور کا مالک، سب نے اپنے کاروبار بند کر کے لاک ڈائون کا ساتھ دیا۔
پاکستان میں عوام کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے کہ جس کا کہنا ہے کہ کرونا تو باہر کے ملکوں کی بیماری ہے۔ ہمارے تو پھیپھڑے بہت مضبوط ہیں یہ بیماری ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی لیکن ساتھ ہی ایس او پیز کا خیال بھی رکھا جارہا تھا۔ ایئرپورٹ ،شاپنگ مالز، ٹرانسپورٹ ہر جگہ لیکن ہم ابھی ترقی پذیر ملک ہیں ہماری معیشت اور وسائل ایسے نہیں کہ ٹریلین آف ڈالرز عوام کی مدد کیلئے بانٹ سکیں جیسا کہ امریکہ میں ہوا۔
امریکن حکومت نے چھوٹے بزنسز کو، ریسٹورنٹ، ہوٹلز، فرنٹ لائن وکرز اور وہ لوگ جن کو کوئی بھی مسئلہ تھا ان کے بینک اکائونٹس میں حکومت نے ایک اچھی خاصی رقم ٹرانسفر کر دی جو ڈوبتے کو تنکنے کا سہارا بن سکی لیکن پاکستان کے پاس یہ کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے، یہاں تو کاروبار ،دفاتر ایک لمبے عرصے تک بند ہو جائیں تو لوگ کورونا سے پہلے بھوک سے مر جائیں۔
کئی مہینوں تک لاک ڈائون کرنے کے بعد پاکستان میں آہستہ آہستہ کاروبار حیات نارمل کی طرف لانے کی کوشش کی گئی ہے، پہلے سکول، شاپنگ مالز، دفاتر تھوڑے تھوڑے کر کے کھولے گئے اور پھر ویکسین بھی آگئی اور اس پر بھی کام ہونے لگا۔
مختلف فیزوں میں ملک کو کھولنا کافی مشکل کام تھا کیونکہ لوگوں کو یہ آگاہی دینا کہ تمام تر تدابیر کے باوجود کرونا ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا بڑا مشکل کام تھا بلکہ ہے کیونکہ لوگوں نے ایس او پیز کی پابندیاں کرنی تقریباً چھوڑ دیں جس کے نتیجے میں کرونا تیزی سے پھیلنے لگا خاص طور سے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں۔
کچھ ہفتوں سے پاکستان میں کورونا نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے کئی ممالک نے پاکستان آنے جانے پر پابندی لگا دی اور پاکستان نے جس ملک پر پابندی لگائی ہے وہ ہندوستان ہے، وہاں پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہی مچی ہوئی ہے۔ ہندوستان کی فلائٹس پر فی الحال پابندی لگی ہوئی ہے۔
دنیا میں کرونا کسی بھی ملک میں اتنا نہیں پھیلا جتنا ہندوستان میں، ایک دن میں 334لاکھ لوگوں کو ایک ساتھ کرونا ہوا وہ بھی لگاتار دو دن یعنی دو دنوں میں 650لاکھ سے زیادہ لوگوں کو کورونا ہوا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ ہندوستان میں اتنی زیادہ اموات ہورہی ہیں کہ چتا جلانے کیلئے لکڑیاں اور شمشان گھاٹ میں جگہ میسر نہیں۔
پاکستان ہندوستان کے تعلقات جیسے بھی ہوں لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ پڑوسیوں کا حق کتنا ہوتا ہے، اسی لئے چاہے ہم کتنی مشکل میں ہوںان کے لئے بھی ہمیں خیال ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے باوجود تمام مشکلات اور محدود وسائل کے ہندوستان کو نہایت خلوص سے مدد کی پیشکش کی ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے اپنے ملک کی عوام سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ماسک پہنیں اور حفاظتی تدابیر کا خیال رکھیں کیونکہ اس طرح کافی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے ایدھی ٹرسٹ نے پرائم منسٹرہندوستان کو مدد کی پیش کش کی ہے۔Covidکے سلسلے میں ہندوستانی حکومت کو ایک خط میں لکھا ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں اپنی پچاس ایمبولینسز اور عملہ بھیج کر مدد کرنا چاہتے ہیں انسانیت کے ناطے اور پڑوسی ہونے کے حق سے۔
اس وقت جب کہ دنیا کے تمام ممالک ہندوستان جانے سے پرہیز کررہے ہیں وہیں پاکستان نہ صرف مدد کیلئے ہندوستان جانے پر تیار ہیں بلکہ ان لوگوں کی مدد کرنے پر تیار ہے جن سے تمام لوگ دور بھاگ رہے ہیں۔
انشاء اللہ پاکستان میں حالات بہتر ہوں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کووڈ کے خاتمے کے بعد بھی ہندوستان کو یاد رہے کہ مشکل وقت میں پاکستان ہمارے ساتھ کھڑا رہا تھا ہو سکتا ہے کہ پاکستان کا یہ خیر سگالی کا قدم ہمارے پڑوسیوں سے ہماری دوستی کی ایک نئی شروعات ہو۔!!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.