کیا خاقان عباسی نے امریکن ایئرپورٹ پر پینٹ اتروانے پر دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں جوتا اتار کر ماروں گا؟

61

یہ سال 2018کا ذکر ہے جب عدالت نے نواز شریف کو کرپشن کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا جس کے بعد میاں صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا اور بقیہ مدت کیلئے شاہد خاقان عباسی کو نواز لیگ نے وزیراعظم بنا دیا۔ مارچ 2018ء میں اس وقت کے پاکستان کے وزیراعظم خاقان عباسی بحیثیت وزیراعظم پاکستان نجی دورے پر امریکہ تشریف لے گئے۔ امریکہ کے شہر نیویارک کے جان ایف کینڈی ایئرپورٹ پر پاکستان کے ایک سیٹنگ پرائم منسٹر کے امیگریشن حکام نے کپڑے اتروا کر جو بے عزتی کی اس کے مناظر پوری دنیا نے ٹی وی سکرینوں پر دیکھے۔ وہ ویڈیو آج بھی انٹرنیٹ پر خاقان عباسی کا منہ چڑارہی ہے۔ وہ تو اس وقت پاکستان کے وزیراعظم تھے مگر آج اگر ایک سیاہ فام سابق امریکی صدر باراک اوباما پاکستان کے نجی دورے پر آئے تو ذرا آپ اس کے کپڑے ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے اتروا کر دیکھئے، کیا اتنی ہمت ہے آپ کی؟ لیکن ہمت تو آپ اپنے آپ کو پہاڑی بکرا کہنے والے سابق وزیراعظم پاکستان شاید خاقان عباسی کی دیکھئے جس کو سپیکر نے گزشتہ ہفتے ضابطے کی کاروائی کرتے ہوئے وقت سے زیادہ بولنے پر روکا تو انہوں نے پہلے تو بدزبانی کی جس کے بعد سپیکر اسد قیصر نے حکم دیا کہ عباسی کی غیر قانونی اور غیر پارلیمانی اور غیر مہذب زبان کو کارروائی کی ریکارڈنگ سے حذف کر دیا جائے تو اس پہاڑی بکرے نے کھڑے ہو کر اسد قیصر کو دھمکی دی کہ میں تمہیں جوتا اتار کر ماروں گا۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ذاتی طور پر بہت مہذب اور شریف النفس انسان ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو اس کا جواب دے سکتے تھے کہ میں بھی تمہیں دو جوتے ماروں گا مگر انہوں نے خود کو گھٹیا پن کے اس معیار پر گرانے سے احتراز کیا۔ ہائوس میں ہر وقت سارجنٹ ایٹ آرم موجود ہوتے ہیں۔ اسد قیصر اگر چاہتے تو وہ سارجنٹ کو اپنا استحقاق استعمال کرتے ہوئے اس بدزبان شخص کو ہال سے باہر نکال پھینکنے کا حکم بھی دے سکتے تھے مگر انہوں نے صرف قانونی راستہ اختیار کیا اور خاقان عباسی کو نوٹس دیا کہ سات دن کے اندر وہ معافی مانگیں وگرنہ ان کی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی خاقان عباسی نے یہ اعلان کیا کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے۔ خاقان عباسی ذہنی طور پر پسماندہ احساس کمتری کے شکار لوگوں میں شامل ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بے عزتیاں کرنے اور کپڑے اتارنے اور ننگا کرنے کا حق صرف گورے امریکیوں کو حاصل ہے وگرنہ اس قدر کھلی شرمناک بے عزتی کرنے والے امریکی آفیسر کو بھی وہ کہہ سکتے تھے کہ اگر ایسا کیا تو میں جوتا اتار کر تمہیں ماروں گا مگر وہاں ان کی زبان گنگ ہو گئی اور شرافت کے ساتھ اتارے گئے کپڑے اور پینٹ کی بیلٹ ہاتھوں میں سنبھال کر سر جھکا کر چلتے بنے۔ ان کے ہاتھ اور زبان صرف اپنے ہم وطنوں کیلئے ہی تیز و طرار ہیں۔
ہمارے خیال میں اب خاقان عباسی کو دئیے گئے نوٹس پر من و عن عمل کرتے ہوئے اس جاہل شخص کو اسمبلی کی رکنیت سے خارج کر دینا چاہیے۔ مسلم لیگ نواز کے لوگ کچھ حد سے زیادہ باہر ہورہے ہیں جب تک ان کے گلوں میں ہاتھ نہیں ڈالے جائیں گے یہ لوگ ریاست کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ اب ایک اور ن لیگی جاوید لطیف کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر ریاست کے خلاف بیان دینے پر سیشن کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور اس غدار پاکستان نے اپنی ضمانت کی درخواست دی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا اور وہ اب جیل کی ہوا کھارہا ہے۔ ریاست کو اب ایک واضح لائن ڈرا کرنا پڑے گی کہ سعد رضوی، جاوید لطیف، خاقان عباسی جیسے افراد کو مفاد عامہ، مفاد ریاست کے تحت باہر رہنے کا حق دیا جائے یا نہیں؟؟؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.