کورونا… رجوع الیٰ اللہ کی ضرورت کے ساتھ ہی ساتھ اجتمائی طور پر مکمل احتیاط – انفرادی ماسک کا استعمال اور پارٹیوں پر نہ جانا بھی لازم ہے

63

دنیا بھر میں کورونا کے وبائی مرض کی تباہ کاریاں جاری ہیں، اس ناگہانی بلا کی ویکسین اگرچہ دریافت کی جا چکی ہے اور اس کا استعمال بھی تیز رفتاری سے جاری ہے مگر تاحال یہ ویکسین بھی وبا پر قابو پانے یا اس کے تباہ کن اثرات کو کم کرنے میں کوئی موثر کردار ادا کرنے میں ناکام ہی دکھائی دیتی ہے، پاکستان یا اس کی طرح کے ترقی پذیر بلکہ پسماندہ ممالک کا تو کیا ذکر، امریکا اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ہونے کے دعویدار ملکوں میں بھی یہ مرض سختی سے اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے اور ان ممالک کی کثیرآبادی اس کا شکار ہے، مضبوط معیشتوں کے حامل، شعور و آگہی سے مالا مال اور ہر طرح کے وسائل کی دستیابی کے باوجود ان ترقی یافتہ ممالک بھی کورونا سے نجات ممکن نہیں ہو سکی حالانکہ یہاں قوانین پر عملدرآمد اور احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کی شرح بھی خاصی بہتر بتائی جاتی ہے۔ پاکستان کے ہمسایہ بھارت میں تو کورونا کا یہ قہر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، اس وبا کی نئی لہر نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ہر طرف افراتفری کا عالم ہے، صحت کا نظام جواب دے گیا ہے شہروں میں اسپتالوں کے باہر لوگوں کے ہجوم جمع ہیں، اسپتال مکمل طور پر مریضوں سے بھر چکے ہیں، ملک بھر میں آکسیجن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور آکسیجن کی عدم دستیابی کے سبب مریض موت کے منہ میں جا رہے ہیں مرنے والوں کو ہندو تہذیب کے مطابق جلانے کے لیے شمشان گھاٹ کم پڑ گئے ہیں جس کے باعث لوگوں کو کھیتوں میں میتیں جلانے کی ہدایات دی جا رہی ہیں، مختلف حصوں میں کورونا سے بچائو کی ویکسین کی ہزاروں خوراکیں چوری اور آکسیجن کے سلنڈر لوٹ لیے گئے ہیں، ملک کی عدالت عظمیٰ نے اس صورت حال کو ایمرجنسی قرار دے دیا ہے، وبا سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کے جائزہ کے دوران عدالت عظمیٰ نے آکسیجن اور اہم ادویات کی فراہمی کے علاوہ ویکسی نیشن کی دستیابی سے متعلق حکومت کو قومی منصوبہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ بدھ کو بھارت میں تین لاکھ پندرہ ہزار نئے مریض سامنے آئے جب کہ دو ہزار ایک سو چار افراد ہلاک ہو گئے، جمعرات کو نئے مریضوں کی تعداد تین لاکھ 32 ہزار 358 ریکارڈ کی گئی جب کہ مرنے والوں کی تعداد دو ہزار 255 سے متجاوز بتائی گئی ہے۔ دنیا بھر میں ایک دن میں کورونا سے ہلاکتوں اور نئے مریضوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار سرکاری طور پر فراہم کیے گئے ہیں جب کہ آزاد ذرائع کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ایک جانب تو مرض کے ٹیسٹ کی سہولت بہت کم دستیاب ہے اور دوسری جانب اسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کے سبب بہت سے مریض گھروں میں ہی دم توڑ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ بھارت کا ہمسایہ ہونے کے باوجود پاکستان میں حالات وہاں سے بہت بہتر ہیں تاہم وہاں بھی وزیر اعظم عمران خاں نے اس حوالے سے منعقدہ ایک خصوصی اجلاس کے بعد قوم کو متنبہ کیا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو ہمارے حالات بھی بھارت کی طرح قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں لوگ ابھی تک اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اموات اور ٹیسٹ کے مثبت نتائج کی شرح گزشتہ برس کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا کے سبب جان سے ہاتھ دھونے والوں کی تعداد 144 بتائی گئی ہے جب کہ متاثرین کی شرح بھی نو سے دس فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فوج اور رینجرز کو بھی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ توجہ بھی دلائی ہے کہ حالات سختی اور لاک ڈائون کا تقاضا کر رہے ہیں مگر غریب لوگوں کے روز گار اور معاشی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے وہ ابھی زیادہ سخت اقدامات سے گریزاں ہیں۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے اپنے اجلاس کے بعد شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عید کی خریداری ابھی سے مکمل کر لیں اور رمضان کے آخری دنوں کا انتظار نہ کریں کیونکہ ممکن ہے عید کے قریب حکومت زیادہ سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائے۔ انہوں نے کاروباری مراکز شام چھ بجے سے بند کرنے اور سرکاری دفاتر میں حاضری پچاس فی صد تک اور اوقات کار دو بجے تک محدود رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ دنیا بھر کے علاوہ خطے کے ممالک اور خود پاکستان کے اندر کورونا کے بڑھتے ہوئے خطرات کا تقاضا ہے کہ پوری قوم مل کر اس وبا کا مقابلہ کرے، ماہرین اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ تاجروں اور دیگر متعلقہ لوگوں کو اپنی حکمت عملی کی تیاری اور مختلف تدابیر پر عمل درآمد کے ضمن میں اعتماد میں لے اور اعلانات سے قبل ان سے مشاورت کو یقینی بنائے۔ کورونا کا سب سے بہترین علاج بلاشبہ احتیاط اور مزید احتیاط ہی سے ممکن ہے تاہم اس ضمن میں عوام میں بڑے پیمانے پر شعور بیدار کرنے اور آگہی کے فروغ کی شدید ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے ذرائع ابلاغ کو متحرک کرنا از حد ضروری ہے حکومت کو ذرائع ابلاغ کے مالکان اور فیصلہ سازوں کو بلا کر انہیں اس سلسلے میں ذمے داری کا احساس دلانا چاہیے اور اگر ضروری ہو تو قانون سازی سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہیے تاکہ ذرائع ابلاغ کو قومی اہمیت کے اس فریضہ کی ادائیگی پر مجبور کیا جا سکے۔ کورونا کے پھیلائو اور اس کی تباہ کاریاں پروردگار عالم کی جانب سے آزمائش بھی ہیں بلکہ دنیا میں بڑھتی ہوئی برائیوں، بدامنی اور ظلم و ستم کی سزا بھی ہو سکتی ہے اس لیے اس جانب بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے کردار کی اصلاح اور گناہوں سے توبہ کی طرف بھی متوجہ ہوں۔ گزشتہ برس جب اس وباء کا آغاز ہوا تھا تو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ہدایت پر ’’رجوع الی اللہ‘‘ مہم چلائی گئی تھی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ نہ صرف اس مہم کو از سر نو منظم کیا جائے بلکہ اسے وسعت بھی دی جائے اور سرکاری سطح پر اس کا اہتمام کیا جائے۔ وزیر اعظم اپنی ذات اور کابینہ کے ارکان سے آغاز کریں اور اسے معاشرے کے عام آدمی تک وسعت دے کر رب کائنات سے اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں پر رو رو کر معافی طلب کی جائے، آئندہ ان میں ملوث نہ ہونے کے یقین اور عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اس وبا سے محفوظ رکھنے کی التجا کی جائے، یقین کامل ہے کہ رب رحیم و کریم اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتے ہوئے کورونا کی وبا اور دیگر مسائل و مصائب سے ہماری حفاظت فرمائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.