فاطمہ پر نیو یارک میں تیزاب پھینکا گیا

61

فاطمہ اکرام کے گردن اور بازو بھی تیزاب سے جل گئے ہیں۔ نیویارک پولیس نے ملزموں کی نشاندہی کرنے والے کیلئے 10ہزارڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ایک پاکستانی طالبہ اپنے گھر کے دروازے میں داخل ہونے والی تھیں کہ ایک نامعلوم شخص باہر سے بھاگتا ہوا آیا اور اس نے سیاہ رنگ کا محلول لڑکی پر پھینک کر فرار ہوگیا۔نسلی تعصب کا نشانہ بننے والی پاکستانی نڑاد نافعہ فاطمہ کے واقعہ پر پاکستانی نیشنل میڈیا بھی خاموش ؟ موم بتی مافیا بھی خاموش ؟ ماروی سرمد کا فنڈڈ ٹولہ بھی خاموش ؟ کیوں کہ یہ سب مغرب کے ایجنٹ اور پالتو ہیں۔نیو یارک میںہمارے پڑوس کے محلے میں 17مارچ کو ایک 21سالہ پاکستانی لڑکی نافعہ فاطمہ اکرام رات کو جاب سے واپس اپنے گھر آ رہی تھی ، اپنی گاڑی سے اتر کر اپنے گھر کے دروازے کی جانب چل رہی تھی کہ گھر کے گیراج کے پاس اچانک پیچھے سے ایک بندہ دوڑتا ہوا آیا اس کے ہاتھ میں سفید رنگ کا گلاس تھا جس میں تیزاب تھا اور تیزی سے فاطمہ کے اوپر پھینک کر رفو چکر ہو گیا۔ یہ منظر سڑک پر نصب کیمرے سے لیا گیا۔ نافعہ فاطمہ بوکھلا گئی کہ شاید کوئی پانی پھینک گیا ہے ، تیزاب اس کے چہرے بازو گردن اور حلق تک کو جھلس گیا۔ فاطمہ نے آنکھوں میں لینز لگائے ہوئے تھے وہ آنکھوں کے اندر جھلس گئے۔ چیخ پکار سن کر فاطمہ کے والدین باہر دوڑے آئے اور بیٹی کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا۔ نافعہ فاطمہ والدین کی اکلوتی اولاد ہے۔ہسپتال میں زندگی موت کی جنگ لڑرہی ہے ، ایک آنکھوں کی بینا ئی قریبا ختم ہو چکی ہے واقعہ کو مہینہ سے زائد عرصہ ہو چکا تھا مگر امریکی میڈیا نے اس خبر کی ہوا نہ لگنے دی۔ ہفتہ قبل ہماری نظر ایک ویب سائٹ پر پڑی جو کسی پاکستانی لڑکی شازیہ انجم نے فاطمہ کے علاج کے لئے عطیات اکٹھے کرنے کے لئے بنائی تھی۔فاطمہ کی سٹوری نے ہمارا دل چھلنی کر دیا۔ یہ واقعہ کسی بھی انسان کے ساتھ کسی بھی ملک میں پیش آئے تکلیف دہ ہے جبکہ فاطمہ ایک پاکستانی مسلمان بیٹی ایک نام نہاد مہذب معاشرے میں تیزاب کی نذر ہو جائے کسی صورت برداشت نہ ہو سکا۔ ہم نے یہ سٹوری اپنے فیس بک پیج پر بمع تصاویر امریکی پاکستانی میڈیا اور عورتوں کی آزادی مارچ کے ٹولے کی بے حسی پر برہمی کا اظہار کے ساتھ ان الفاظ میں پوسٹ کر دی ‘‘ (اس خبر کو اتنا شیئر کرو کہ پاکستانی خاموش میڈیا اور عورتوں کے حقوق کی علمبردار آنٹیاں شرم سے ڈوب مریں )یہ ہے حقیقی چہرہ مہذب ریاست امریکہ کی جو عورتوں کے حقوق کا چمپٔین بنا پھرتاہے۔ انتہا پسند امریکی نے پاکستانی لڑکی فاطمہ پر تیزاب پھینک دیا۔ یہ واقعہ پاکستان میں پیش آجائے تو اس کے خلاف فلمیں بنا کر آسکر ایوارڈ لئے جاتے ہیں۔ پاکستانی لڑکی ہمارے ساتھ neighborhood میں رہتی ہے میرے بیٹے کی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ، Crime ate H کی نذر ہوگئی ،ایک مہینہ سے زائد ہو گیا اس واقعہ کوکسی پاکستانی اور مسلم میڈیا نے اس خبر کو بریک نہیں کیا۔میرے شور شرابے پر امریکی لوکل میڈیا نے دو روز قبل خبر لگائی۔میرا جسم میری مرضی والے مغربی فنڈڈ ٹولے کو اس بد نصیب کے ساتھ ظلم دکھائی نہیں دے گا؟۔ فاطمہ کی بینائی چلی گئی، زندگی تباہ ہوگئی۔ والدین کی اکلوتی اولاد امریکہ میں تعصب کی بھینٹ چڑھ گئی لیکن عورت مارچ کا حمایتی پاکستانی میڈیا اور فنڈڈ آنٹیاں خاموش ہیں ؟؟؟اپنے یو ٹیوب چینل پر بھی شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ، ہماری کوشش رنگ لائی اور دو دن بعد ہی امریکی لوکل کچھ ویب سائٹس اور ایک دو اخبارات میں خبر شائع ہو گئی اور اس کے بعد پاکستانی سفارتخانہ بھی حرکت میں آیا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ سے پاکستان بلکہ پوری دنیا کے میڈیا نے اس ہولناک واقعہ کو خبر کیوں نہ سمجھا اور مہینہ پہلے ہونے والے واقعہ کو اگر مجھ جیسی ایک ماں نہ اٹھاتی تو کیا کسی کی غیرت نہ جاگتی ؟۔مجرم کی گرفتاری پر دس ہزار ڈالر انعام رکھا گیا ہے۔ مجرم کا تعلق کسی بھی رنگ نسل سے ہو لیکن تیزاب پھینکنے کا واقعہ امریکہ جیسے مہذب ملک میں پیش آیا جو عورتوں کے حقوق کا ٹھیکیدار بنا پھرتا ہے ؟ پاکستانی نثراد نافعہ فاطمہ اپنی زندگی سے قریبا ہاتھ دھو بیٹھی ہیں جس پر نیویارک میں تیزاب حملہ کیا گیا تھا. تیزاب اس کے حلق اورآنکھوں میں چلا گیا تھا . اس سے نافعہ کی بینائی کلی طور پر تباہ ہوگئی ہے اور اس کا چہرہ بالکل جھلس چکا ہے جس کے نقش نگار بری طرح متاثر ہوچکے ہیں .امریکا میں پاکستانی کمیونٹی پر چند ہفتوں میں یہ تیسرا حملہ ہے . اس نسل پرستانہ حملے پر امریکی میڈیا خاموش ہے اور اس بات کا کہیں ذکر نہیں ملتا کہ امریکا جیسے ملک میں اس قدر انسانی حقوق اور نسل پرستانہ حملے ہو رہے ہیں ۔ جب کہ امریکا انسانی حقوق کا سب سے بڑا چیمپئن بنتا ہے . نافعہ ، جو نیو یارک کی نجی ہوفسٹرا یونیورسٹی میں پری میڈیسن کی تعلیم حاصل کررہی ہے ، اور ڈاکٹر بننے کا ارادہ رکھتی ہے ، کو اس کی والدہ نے اسے اسپتال پہنچایا ، اس کے والد ، 50 سالہ شیخ اکرام نے بتایا کہ نافعہ کو ملازمت سے گھر آتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا۔پاکستان کا میرا جسم میری مرضی والا مغربی فنڈڈ ٹولہ اب کہاں غائب ہے ، کوئی احتجاج نہیں کوئی بینر نہیں کوئی احتجاج نہیں؟ امریکہ میں ایک پاکستانی پر ایک امریکی تیزاب پھینک گیا تو اب اس ٹولے کی ماں مر گئی ہے جو بولتی بند ہے ؟ —

Leave A Reply

Your email address will not be published.