’’نام مومنہ اور کرتوت کافراں والے‘‘

68

پی آئی اے نے ایک نیا فتویٰ دے دیا ہے کہ ’’فضائی میزبان دوران پرواز روزہ نہ رکھیں‘‘ یہ کس کا دیا ہوا فتویٰ ہے؟ کیا کسی عالم دین کا قول ہے یا فتویٰ ہے تو ظاہر ہے اس کی وضاحت بھی کی ہو گی یا پھر پی آئی اے نے خود اتنی اونچی اڑان بھری ہو گی۔ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔ بہرحال اس کی وجہ تسمیہ ضرور بتائی جانی چاہیے۔ چونکہ یہ خالص مذہبی معاملہ ہے بہت سی کالیں آرہی تھیں تو پوچھنا مناسب لگا۔ تو حضور آپ سے التماس ہے کہ خود ہی جواب دے دیں۔
دوسری طرف ایک دلخراش خبر یہ آئی ہے کہ بیچارے کیپٹن (ر) صفدر شدید علیل ہیں۔ کچھ تکلیف بھی پہنچی حالانکہ ’’خود کردہ را علاج نیست ‘‘ایک چلتر قسم کی عورت کے چکر میں اپنا سب کچھ دائو پر لگا بیٹھے ورنہ ایک قابل فخر محکمے سے وابستہ تھے جس کا عہدہ اب بھی ان کے نام سے وابستہ ہے۔ ان کے عشق کے طوفانی قسم کے قصے تو میڈیا میں آچکے ہیں ان پر تبصرہ بیکار ہے۔ بہرحال دروغ بہ گردن راوی کہ مریم صاحبہ نے چند سال پہلے لندن سے اپنے شناختی کارڈ پر بجائے مریم صفدر کے مریم نواز کا شوشہ لگا لیا تھا تو بعض حضرات نے گل افشانی فرمائی تھی کہ محترمہ نے طلاق لے لی ہے اور قرائین بھی کچھ ایسی ہی صورت حال بتاتے ہیں۔ مثلاً جب قائد کے مزار پر ڈرامے کے بعد پولیس نے چھاپہ مارا تھا تو دونوں الگ الگ کمروں میں استراحت فرمارہے تھے۔ صفدر صاحب اکثر ہجوم میں ان کی حفاظت کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ تو ان کے کالج کے زمانے سے محافظ بنے ہوئے تھے۔ ڈرائیور تھے اور اپنی ڈیوٹی اب بھی بجاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن محترمہ بے انتہا لاتعلق ہی نظر آتی ہیں۔ اندر کی کہانی کیا ہے یہ تو اللہ جانے لیکن سنا ہے نواز نے انہیں پندرہ سو ریال ماہوار پر نوکری سے نواز رکھا ہے۔ ویسے قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے۔ عوام تو اس یتیم داماد کے لئے دعائے خیر ہی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے جو ناسمجھی میں اپنے پیر پر کلہاڑا مارا تھا۔ اسی کے زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شفائے کلی عطا فرمائے۔ یہ بیچارے تو چاپلوس ہیں۔ اتنے آگے بڑھ گئے تھے کہ پھولن دیوی کے اعزاز میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے توبہ کرنی چاہیے ایسی لٹیری عورت کی مہم کو کس کی مہم سے تشبیہ دی تھی۔ صفدر صاحب نے اپنے منہ پر اتنے تھپڑ مارے ہیں کہ چہرہ ہی غائب ہو جائے؟
پھولن دیوی اپنی پلاسٹک سرجری نہ ہونے پر پریشان ہیں چونکہ ان کا dermatologistلندن میں ہے۔ وہی بوٹک وغیرہ لگاتا ہے تاکہ پھولن دیوی جوان نظر آئیں۔ دوسری آفت یہ آ پڑی ہے کہ بھگوڑے کی جو جائیدادیں پاکستان میں ہیں ان کی نیلامی کا کاغذ مل گیا ہے حالانکہ ِاس پاک پوتر دیوی نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ اس کی لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں۔ جھوٹ بولنے میں تو پھولن دیوی نے ایم فل کیا ہوا ہے۔ دوسری کثر پپو (جس کے دودھ کے دانت ٹوٹنے کے بعد شاید اُگے ہی نہیں) کہا ہے کہ (لندن کے ایک صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے) ساری لندن کی جائیداد کی ٹرسٹی ہماری باجی ہیں۔ ’’نام مومنہ اور کرتوت کافراں والے‘‘
وہاںپاکستان میں بھی جو جائیدادیں ہیں وہ غیر ملکی جائیدادوں کی عشر عشیر بھی نہیں۔ ’’وہ تو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں‘‘ بہر حال بڑے بابا جی کہتے تھے ’’پترا!بھاگتے چور کی لنگوٹی بھلی‘‘۔ اب دیکھئے کیا ہنگامہ ہوتا ہے؟ نواز شریف کو پھولن دیوی نے کہہ دیا ہے کہ وہ بالکل صحت مند میں اور پارٹی چلارہے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے ،پھجا دولت سمیٹ کر بھنگڑہ ڈالنے کو تیار ہے اور جب تک اس کا ڈیزل ختم نہیں ہو جاتا یہ ہر حکومت میں ناچتا رہے گا۔ اس کی تو مثال ہے ’’جہاں ڈھلے پرات وہاں ناچے ساری رات یہ انوکھا نام نہاد مولانا ہے جو طوائف سے بھی بدتر ہے۔ اسے نہ مذہب سے واسطہ ہے نہ زمین سے محبت ،یہ تو اس کا ہے جو اس کی دہاڑی لگا کر پیسہ دے۔ اس کے تو آگے پیچھے فرشتے لعنت بھیجتے ہوں گے۔ شیطان کان پکڑ کر فرشتوں کو اشارے کرتا ہو گا کہ میرا اس ملعون سے کوئی واسطہ نہیں ۔
فراری اشتہاری کو یہ گلا ہے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ عوام کو یہ سمجھاتا رہتا ہے کہ وہ بے قصور ہے۔ اس کے پاس اقامہ ہے، اس لئے نکالا ہے۔ عوام بیچارے کیا جانیں کہ اقامہ کی کیا اہمیت ہے، بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اس لئے نکال دیا۔ یہ بودے سے جواز پیش کرتا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں اقامہ کی کیا اہمیت ہے۔ یہ یہاں کی دولت لوٹ کے لے جانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ان کے اور بھائی بند بھی شامل ہیں۔ جیسے خواجہ برادران، خواجہ آصف، خاقان عباسی، بہت سے نام ہیں اس گندے جوہڑ میں نہانے والوں کے۔
ابھی چند دنوں پہلے خاقان عباسی نے اسمبلی کے سپیکر کو جوتا مارنے کی دھمکی دی ہے اور ہٹ دھرم چور کہتا ہے میں معافی نہیں مانگوں گا۔ میں صرف اپنے اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ رہزنوں کے سردار تمہیں یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ضمن میں کیا فرماتا ہے۔’’ جس شخص کو بھی تم نے نقصان پہنچایا ہو (چاہے وہ کسی قسم کی اذیت ہو) جب تک وہ شخص تمہیں معاف نہیں کرے گا، میں بھی تمہیں معاف نہیں کروں گا‘‘۔ تم لوگوں کی تربیت پتہ نہیں کون سے چنڈو خانے میں ہوئی ہے۔ حرام کے مال پر اترانے والے، دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنے والے تم کتنے گھٹیا لوگ ہو۔ ذرا عوام میں جا کر اپنی کہانیاں سنو۔ تم نے کتنے گھر اجاڑے ہیں اپنے آپ کو سرد ہوائوں سے بچانے کے لئے کتنے گھر جلائے ہیں۔ عوام اب کہتے ہیں کہ بزرگوں نے کہا صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے لیکن جب نتیجہ ملا تو احساس ہوا صبر کا پھل کڑوا، بے انتہا کڑوا ہوتا ہے۔ یہ انسان کو بزدل بنا دیتا ہے۔ کبھی تم نے کوزے میں بند پانی میں طغیانی آتے دیکھی ہے۔ جب تک پانی میں تموج پیدا نہیں ہو گا کہ تو پتہ کیسے چلے گا کہ یہ دریا ہے یا سمندر تو پھر اپنے خون میں جوش پیدا کرو۔ اپنا راستہ خود بنائو۔ اس وطن کے محب وطن نوجوانوں اپنے ملک کو مزید لٹنے سے بچا لو۔ مسیحا بار بار نہیں آتے؎
چلتے ہیں دبے پائوں کہ کوئی جاگ نہ جائے
غلامی کے اسیروں کی یہ خاص ادا ہے
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پر یکجا
اس قوم کا حاکم ہی بس اس کی سزا ہے
(فیض احمد فیض)
؎اے پیارے ہم وطنوں سنو!
ہے نزع کی حالت میں یہ تہذیب جواں مرگ
شاید ہوں کلیسا کے یہودی متولی!
باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے
شرکت میانہ، حق و باطل نہ کر قبول
علامہ اقبال

Leave A Reply

Your email address will not be published.