بابراعظم بے اختیار کپتان کے طعنوں سے تنگ آگئے

67

  بابر اعظم بے اختیار کپتان ہونے کے طعنوں سے تنگ آگئے، ان کا کہنا ہے کہ بار بار یہی سوال کیا جاتا ہے۔

ورچوئل میڈیا کانفرنس میں بابر اعظم سے پوچھا گیا کہ شعیب ملک نے کہا ہے کہ کپتان کو ٹیم سلیکشن میں فیصلوں کا اختیار نہیں۔

جواب میں کپتان نے کہاکہ ہر پریس کانفرنس میں مجھ سے یہ سوال کیا جاتا ہے، اب یہ باتیں ختم ہوجانا چاہیں کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں، ٹیم میری بنائی ہوتی ہے، میں مینجمنٹ سے رائے لیتا ہوں، سب دیکھ رہے ہوتے ہیں، میدان میں بھی ٹیم کو خود لڑاتا ہوں،میں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں، مجھے موجودہ کوچنگ سیٹ اپ سے کوئی مسئلہ نہیں، فیصلوں میں اختیارات کے حوالے سے سوالات کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، وائٹ بال کوچ کے تقرر کے بارے میں پی سی بی بتاسکتا ہے۔

شعیب ملک سمیت سینئرز کو موقع دینے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں نئے کھلاڑیوں کو چیک کرنے کا موقع تھا،ہم نے مڈل آرڈر میں تجربات کیے جو کامیاب ثابت نہیں ہوئے، کئی چیزیں کھل کر سامنے آئیں،کئی خلا پْرکرنا ہوں گے،میں واپسی پر سلیکٹرز کو اپنی رائے دوں گا،ٹیم کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں گے۔

ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں بیک وقت 4اوپنرز دستیاب ہونے کے سوال پر بابر اعظم نے کہا کہ میری محمد رضوان کے ساتھ شراکت اچھی جارہی ہے، کمبی نیشن کو دیکھتے ہوئے فخرزمان کو تیسرے نمبر پر کھلایا، ٹیم کی ضرورت کے مطابق جہاں موقع ہوا شرجیل خان کو بھی شامل کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.