بھارت: اہلخانہ کندھا دینے سے گریزاں، ہندوؤں کی بے آسرا لاشیں مسلمان شمشان گھاٹ پہنچانے لگے

309

بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافے کے بعد ہلاکتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں، وباء نے روایتی انسانی ہمدردی کو بھی بظاہر ختم کر دیا ہے۔ لوگوں کو اپنے عزیز و اقارب کی لاشوں کو کندھا دینے کے لیے کرائے پر افراد حاصل کرنے پڑ رہے ہیں جبکہ مسلمان بے لوث خدمات انجام دینے لگے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی دوسری لہر نے ایسی دہشت پھیلا دی ہے کہ اب کسی کی موت پر تعزیت اور غمگساری کے لیے آنے کی بات تو دور، ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے چند لوگوں کو تلاش کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ حتی کہ قریبی رشتہ دار بھی متوفی کو کاندھا دینے سے کترا رہے ہیں، جس کی وجہ سے میت کو شمشان گھاٹ تک پہنچانا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ ایسے میں بعض لوگوں نے کرائے پر اپنی  خدمات‘ فراہم کرنا شروع کردی ہیں۔ لاش کو  منزل مقصود‘ تک پہنچانے کے لیے پانچ سے دس ہزار روپے تک فی کس ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

ایسے حالات میں جب کہ کورونا سے موت ہوجانے والے لوگوں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ لے جانے اور ان کی آخری رسومات ادا کرنے میں مدد کرنے کے لیے ان کے رشتہ دار بھی تیار نہیں ہورہے ہیں متعدد شہروں سے مسلم نوجوانوں کی طرف سے رضاکارانہ طورپر یہ خدمت انجام دینے کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ مسلمان اجتماعی اور انفرادی دونوں ہی سطحوں پر یہ کام کر رہے ہیں اور ان کے خدمات کی تعریف بھی ہو رہی ہے۔