صدر ٹرمپ نے پولیس پر نسلی تعصب کے الزامات بلاجواز قرار دے دیے

291

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند برے اہلکاروں کی وجہ سے پوری پولیس فورس کو مورد الزام ٹھیرانا درست نہیں ہے۔

 ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ "ہر ادارے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ ان چند لوگوں کی بنیاد پر سب کو برا نہیں کہہ سکتے۔”

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 46 سالہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد امریکہ میں مظاہرے جاری ہیں اور پولیس پر نسلی تعصب کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں سال تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوسری مدت کے لیے اُمیدوار ہیں اور امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری اُن کے انتخابی منشور کا اہم جزو ہے۔

اپنی تقریر میں صدر نے کہا کہ نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ لیکن ہم لاکھوں امریکیوں پر نسلی تعصب کا لیبل لگا کر اس جانب کوئی پیش رفت نہیں کر سکتے۔

امریکہ میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے بعد سیاسی گرما گرمی بھی عروج پر ہے۔ اپوزیشن جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی صورتِ حال میں خرابی کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قرار دے رہی ہے۔

البتہ حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کے رہنما اس معاملے پر محتاط ردعمل دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ پر بھی یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ نسلی تعصب کو ہوا دے کر دائیں بازو کے ووٹرز کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جمعرات کو ڈیلس میں خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں نسلی تعصب کے واقعات کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینا ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ میں مقیم اقلیتوں کو صحتِ عامہ کی سہولتیں اور اُنہیں کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں احتجاج کا سلسلہ ایک ایسے وقت جاری ہے جب کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ کو معاشی مسائل کا سامنا ہے۔