افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں پر امریکہ نے پابندی لگادی

232

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک انتظامی حکم نامے میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے ان ملازمین پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جو یہ تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا امریکی افواج نے افغانستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے روس پر الزام عائد کیا کہ اس نے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے ہیگ میں قائم ٹربیونل سے ساز باز کی، جس نے امریکہ کی حاکمیت اور خود مختاری کو چیلنج کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک جعلی عدالت کی جانب سے اپنے لوگوں کو خطرے میں ڈالنے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکنان نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی واشنگٹن کیلئے ڈائریکٹر اینڈریا پریسو کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کی توہین کا اظہار ہے، اور یہ رکاوٹ ڈالنے کی ایک شوریدہ سر کوشش کی ترجمانی کرتا ہے۔

ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کو بھیجے گئے خط کے مطابق، صدر ٹرمپ کا حکم نامہ، وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو وزیر خزانہ سٹیو منوچن کے مشورے سے یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عالمی عدالت برائے جرائم کے ان ملازمین کے امریکہ میں موجود اثاثوں کو منجمد کر دیں، جو امریکی افواج کے خلاف تحقیق میں ملوث ہیں۔

حکم نامے میں مائیک پومپیو کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کی امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر سکتے ہیں۔

آئی سی سی کے پراسیکیوٹر فاتوبین سودا سن 2013 سے لیکر سن 2014 کے درمیان افغانستان میں ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں۔ ان تحقیقات میں اس عرصے کے دوران، طالبان کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکتیں، اس کے ساتھ افغان حکام کی جانب سے قیدیوں پر مبینہ تشدد، اور ذرا کم درجے پر امریکی افواج اور سی آئی اے شامل ہیں۔ اس سال مارچ میں ان تحقیقات کی اجازت دے دی گئی تھی۔

عالمی برادری نے سن 2002 میں اس عالمی عدالت برائے جنگی جرائم کو قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی عدالتی کاروائی کرنا تھا۔ عدالت کے پاس صرف یہ اختیار ہے کہ وہ اس صورت میں کاروائی کرے گی جب، رکن ملک، جرائم کے خلاف کاروائی کے قابل نہ ہو یا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ امریکہ کبھی اس عدالت کا رکن نہیں رہا۔

کسی بین الاقوامی ادارے کے خلاف یہ صدر ٹرمپ کا تازہ ترین اقدام ہے۔ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات منقطع کر دیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران سب سے پہلے امریکہ کی پالیسی کو فروغ دیا ہے۔

افغانستان آئی سی سی کا رکن ہے۔ تاہم اس کا موقف ہے کہ جنگی جرائم کے خلاف کاروائی مقامی سطح پر عمل میں لائی جانی چاہئیے۔