سری لنکا: ایسٹر دھماکوں کے کیس میں اہم مسلمان رہنما گرفتار

304

کولمبو: سری لنکن پولیس نے 2019 میں ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں پر ہوئے حملوں کی تحقیقات تیز کرنے کے دباؤ کے بعد ملک کے ایک اہم مسلمان قانون ساز کو گرفتار کرلیا۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ سراغ رسانوں نے آل سیلون مکل پارٹی (اے سی ایم پی) کے سربراہ اور ایک سابق وزیر ریشد بدیع الدین کو پروینشن آف ٹیررازم ایکٹ کے تحت حراست میں لے لیا۔

انہوں نے بتایا کہ ریشد بدیع الدین اور ان کے بھائی کو رات گئے کولمبو میں قائم ان کے گھر پر مارے گئے چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق ‘انہیں پی ٹی اے کے تحت اس بات کے واقعاتی اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کہ ان کے حملہ کرنے والے خود کش حملہ آوروں کے ساتھ روابط تھے’۔

گرفتار افراد کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل کا کہنا تھا کہ صدارتی انکوائری کے دوران ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو حملہ آوروں کو ان سے منسلک کرتے ہوں، گرفتاری سیاسی انتقام ہے۔

وکیل رشدی حبیب نے ایک بیان میں کہا کہ ‘گرفتاری سیاسی مقاصد کے تحت کی گئی جو اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ 2019 کے اتنخابات میں اے سی ایم پی نے کس طرح صدر گوتاپایا راجا پکسا کی مخالفت کی تھی۔

قبل ازیں سری لنکا کے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ کارڈینل میلکوم رانجیتھ نے حکومت پر تفتیش روک دینے کا الزام عائد کیا تھا جس کے 3 روز بعد یہ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔