لبیک پر پابندی!

301

ہندوستان میں اسلام ہزار سال سے ہے مگر یہ اسلام ہے ہی نہیں یہ تصوف تھا جو اسلام کا برقع پہن کر ہندوستان آیا، تاریخ بتاتی ہے کہ صوفیوں پربغداد میں برا وقت آیا تو وہ بھاگ کر ہندوستان آگئے جہاں پہلے ہی سماج میں توہم پرستی تھی تصوف کو یہ بہت زرخیز زمین مل گئی جہاں یہ پودا خوب پھولا پھلا، ہندوستان میں جب ان صوفیوں کو پذیرائی ملی تو بغداد کی گلیوں میں گھومنے والے سر پرعمامہ باندھے ہندوستان وارد ہو گئے اس وقت بدایوں اور ملتان صوفیاء کی جنت ہوا کرتی تھی، برسبیل تذکرہ ایک واقعہ بھی سنتے چلیں، ایک فنکار بزرگ ملتان آئے ان کے آنے کی خبر جب دیگر بزرگوں کو پہنچی تو خیال آیا کہ ان کے کاروبار کو مندی کے رجحان کا سامنا ہو گا، ایک فطین بزرگ نے نو وارد کی خدمت میں دودھ سے بھرا ایک پیالہ بھیج دیا اشارہ یہ تھا کہ ملتان پہلے ہی بزرگوں سے بھرا ہوا ہے آپ کی گنجائش نہ نکل پائے گی کہیں اور قسمت آزمائی کریں، نو وارد ان سے بھی زیادہ پہنچا ہوا تھا اس نے گلاب کا پھول اسی پیالے پر رکھ کر واپس کر دیا، مطلب یہ تھا کہ ہم اپنی جگہ بنا لیں گے اور واقعی انہوں نے اپنی جگہ بنا لی، یہ ذہین لوگ تھے اور لوگوں کی سادگی و معصومیت سے کھیلنا جانتے تھے، تاریخ کے ورق پلٹیںآپ کو معلوم ہو گا کہ عرب سے کوئی عالم دین ہندوستان وارد نہ ہوا، اب سوال یہ ہے کہ ان بزرگان کو بڑے بڑے خطابات کیسے عطا ہو گئے تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مغل بادشاہوں کی جانب سے خطابات عطا کرنے کی ایک رسم پہلے ہی موجود تھی اسی رسم کا اتباع ہوا اور مریدین کی جانب سے ایسے القاب استعمال کئے گئے تاکہ ان کی قدر و منزلت سے مرعوب ہو کر لوگ ان سے رجوع کریں اور کاروبار چمکے دوسرے یہ کہ ان کو خود بھی خود نمائی کا بہت شوق رہا، اسی تصوف نے آگے چل کر پیری مریدی کے کاروبار کو فروغ دیا اور قبروں کی پوجا شروع ہو گئی، رضا احمد خان نے اس کو باقاعدہ فرقے کی شکل دے دی۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں بھی یہ کاروبار خوب چمکا، ظاہر ہے جس عقیدے سے پیغمبر اسلام کا نام جڑا ہو تو عقیدت عود کر آتی ہے، فوج نے پاکستان میں اسلام کو اپنے مقاصد کیلئے خوب استعمال کیا، سیاست میں مولویوں کی اچھل کود تو ایوب کے زمانے سے ہی شروع ہو چکی تھی مگر راتوں رات کراچی میں ایجنسیوں نے شاہ احمد نورانی کی قیادت میں جمعیت علماء پاکستان بنا کر سب کو حیران کر دیا اور گلی گلی یہ نعرہ لگایا گیا کہ نبی کا جھنڈا اونچا رہے گااور پانچ فٹ کے ڈنڈے پر ایک کپڑے کے ٹکڑے کو نبی کا جھنڈا تسلیم کر لیا گیا، ایجنسیوں نے اس جماعت کے اسی طرح حصے بخرے کر دئیے جس طرح ایم کیو ایم کے کئے تھے، انہی ایجنسیوں نے راتوں رات تحریک لبیک یا رسول اللہ بنائی اس کو حکومتوں کے خلاف استعمال کیا اور بار بار زندگی مفلوج کر کے رکھ دی، مذاق یہ ہوا کہ حکومتوں نے ان تخریب پسندوں سے مذاکرات بھی کئے اور معاہدے اور یہ تاثر دیا گیا کہ یہ اٹنگی شلوار والے اتنے مضبوط ہیں کہ ان کے خوف سے حکومت کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں، عمران خان کی حکومت نے تحریک لبیک سے عجیب معاہدہ کیا کہ چھ ماہ کے اندر فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دیا جائیگا، چھ ماہ گزرے تو حکومت کو الٹی میٹم دیدیا گیا اور لبیک کے کارکنوں نے سارے ملک کو مفلوج کر کے رکھ دیا، عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ مذہبی جماعتیں اتنی طاقت ور ہیں کہ یہ حکومت وقت کی شہ رگ کاٹ سکتی ہیں اور واقعی لبیک کے کارکنوں نے تین پولیس افسران کا قتل کر کے ملک بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا، ان کو معلوم تھا کہ ان کوایجنسیوںکی آشیرباد حاصل ہے، سو وہ یہ سمجھتے تھے کہ پولیس اور انتظامیہ ان کی ٹھوکر میں ہے، مگر حکومت کو اشارہ مل چکا تھا لہٰذا کریک ڈائون ہوا یہ ایک Soft Operation تھا اورانتظامیہ کو سڑکیں اور ہائی ویز کلیر کرانے میں تین دن لگے، اور حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی عائد کر دی، پابندی تو اس سے قبل سپاہِ صحابہ اور جماعت الدعوۃ پر بھی لگی مگر یہ جماعتیں دوسرے ناموں سے کام کررہی ہیں، لبیک پر پابندی بھی اس نوعیت کی ہے، دکھانے کے لئے چند لوگ پکڑے جائیں گے اور کچھ عرصے کے بعد چھوڑ دئیے جائیں گے، پاکستان میں کسی ایسے سانپ کا سر نہیں کچلا گیا جس نے قوم کو ڈسا، اور یہ تو وہ لوگ ہیں جو عدالت میں بھی اپنے مخالف کو قتل کردیتے ہیں، عمران جب خود ختم نبوت کے بڑے پرچارک ہوں تو ان کو یہ حوصلے تو ہونگے ہی۔
بھٹو نے قوم کے گلے میں اسلامی جمہوریہ کا طوق لٹکایا، احمدیوں کو کافر قرار دیا اور اسلامی آئین دے کر چلا گیا، یہ قوم کے ساتھ سنگین مذاق تھا، پھر ناموس رسالت کے قانون نے ان دہشت گردوں کے ہاتھ میں خطرناک ہتھیار دے دیا جس کی زد میں بے شمار معصوم آچکے ہیں۔ یہ قانون ایک SOCIAL / POLITICAL MONSTERبن چکا ہے عمران خان کاایک بیان بھی قابل توجہ ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو ناموس رسالت کا قانون کاعقیدہ بھولنے نہیں دیں گے، اسی بیانیہ کے پیچھے دہشت گردی کو پناہ ملتی ہے اس سے دنیا کو خوف زدہ کیا جاتا ہے، دنیا کے دکھانے کو کچھ مار دئیے جاتے ہیں اور پھر ڈھنڈرا پیٹا جاتا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف کام کررہی ہے، پاکستان میں دو کام شائد کبھی نہ ہوں، پولیس اصلاحات نہیں ہونے دی جائیں گی، اگر پولیس کی جدید خطوط پر تربیت کر دی جاتی ہے تو شہروں میں فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی، جدید تربیت یافتہ پولیس د ہشت گردوں سے بھی نمٹ سکتی ہے، ایسے میں سوال اٹھیں گے کہ اتنی بڑی فوج رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ سو جمع خاطررکھئے نہ پولیس اصلاحات ہوں گی نہ فوج دہشت گردی کی سرپرستی سے الگ ہو گی اور قوم پر یہ احسان رہے گا کہ پاک فوج کی وجہ سے عوام چین سے سوتی ہے مگر لاہور کے بارے میں سوشل میڈیا پر بتایا جارہا ہے کہ رینجرز اور پولیس کے افسران اغواء کر لئے گئے ہیں۔
تحریک لبیک کے ان ہنگاموں کے پیچھے ایک اور سوچ بھی ہو سکتی ہے عمران خان کی حکومت کو اپنی کم مائیگی کا احساس بہت جلد ہو گیااور اپنی نااہلیت کا بھی لہٰذا یہ حکمت عملی اپنائی گئی کہ دانستہ تنازعات کو اچھالا جائے اورعوام کی توجہ اپنی نااہلی سے ہٹائی جائے، یہ عمل مسلسل رہا ہے تو گمان گزرتا ہے یہ ہنگامے بھی کسی سیاست کا حصہ ہیں عمران دنیا سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ناموس رسالت پر قانون سازی کی جائے اور یہ عقیدہ ہمارے دل میں ہے تو لبیک اور عمران کا بیانیہ تو ایک ہی ہے اور شیخ رشید کہہ چکے ہیں کہ ہم نے لبیک پر پابندی دنیا کے دبائو پر لگائی ہیں۔