تحریک لبیک پاکستان پر پابندی، حکومت نے اپنی رٹ بحال کرنی شروع کر دی!!

269

حکومت پاکستان نے بالآخر تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا اعلان کر دیا۔ شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں اس کا باقاعدہ اعلان کیا، یہ پاکستانی عوام اور پوری دنیا کے لئے بہت حیران کن تھا۔ ماضی قریب میں کسی بھی ملک میں بحیثیت مجموعی کسی سیاسی پارٹی پر اس طرح کی پابندی نہیں لگائی گئی، پاکستان میں آخری بار بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی پرپشاور میں دھماکے کے بعد پابندی لگائی تھی۔ خان ولی خان اس وقت اس کے سربراہ تھے۔ واقعہ تھا حیات محمد خان شیرپائو کی شہادت کا، بھٹو نے اس سے تین فائدے حاصل کئے پہلا تو یہ کہ کہا جارہا تھا کہ حیات محمد شیر پائو بے نظیر بھٹو سے شادی کرنا چاہتے تھے اور کیونکہ وہ پارٹی میں بہت طاقتور تھے اور صوبہ سرحد پیپلز پارٹی کے سربراہ تھے تو بھٹو صاحب ان کو انکار کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے دوسری وجہ خان عبدالولی خان بہت بااصول اپوزیشن لیڈر تھے ان کی پارٹی نے مفتی محمود کے ساتھ مل کر بھٹو کو بہت ٹف ٹائم دیا ہوا تھا تو نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگانا بہت ضروری تھا یہ نیشنل عوامی پارٹی بعد میں عوامی نیشنل پارٹی بن گئی جو ابھی بھی اسفندیارولی کی قیادت میں قائم ہے۔ تیسری وجہ بھٹو صاحب کی ظالمانہ ذہنیت تھی وہ کسی کو بھی اپنی پارٹی کے اندر بہت زیادہ مقبول ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ حقیقت آہستہ آہستہ سامنے آرہی تھی کہ اقتدار میں آنے کے بعد بھٹو صاحب کے دونوں جانشین غلام مصطفی کھر اور کراچی سے معراج محمد خان پارٹی میں غیر مقبول ہوتے جارہے تھے اور حیات شیرپائو بہت تیزی سے اوپر آتے جارہے تھے۔
اس لئے ان کو راستے سے ہٹانا ضروری تھا کہا جاتا ہے کہ وہ دھماکہ بھٹو صاحب نے ہی خود کروایا تھا جس میں حیات خان شیرپائو شہید ہو گئے۔ حیات شیرپائو موجودہ سیاست دان آفتاب شیر پائو کے بھائی تھے۔ بھٹو نے اس دھماکے کے بعد اپنے تینوں مقاصد حاصل کر لئے اور NAPپر قانونی طور پر پابندی لگا دی گئی جو آج تک قائم ہے۔ اس وقت کی سپریم کورٹ نے اس پابندی کی تصدیق کر دی تھی۔
بات ہورہی تھی TLPپر پابندی کی تحریک لبیک پاکستان گورنر پنجاب کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو پھانسی دینے کے بعدابھر کر پاکستانی سیاسی منظر نامے پر سامنے آئی تھی، خادم حسین رضوی مرحوم نے اس پارٹی اور اس نام کو عوام میں روشناس کرایا۔ خادم حسین رضوی ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ ان کے پاس الفاظوں کا بے پناہ ذخیرہ تھا۔ زبان میں اتنی روانی تھی کہ وہ گھنٹوں بغیر رکے بولتے رہتے تھے اور سننے والے مجمع پر جیسے جادو کر دیتے تھے۔ سیاسی طور پر اس پارٹی کی رجسٹریشن ان کے دور میں ہوئی سب سے پہلا معرکہ جو قومی اسمبلی کے الیکشن میں پڑا وہ NA-120 لاہور کا تھا جس میں اس پارٹی کے مدمقابل مرحومہ کلثوم نواز تھیں یہ حلقہ اب NA-125کہلاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے موجودہ پنجاب حکومت کی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد تھیں سب سے حیرت کی بات ہے کلثوم نواز سیٹ جیت تو گئیں لیکن ووٹوں کی گنتی کی تعداد سے پی ٹی آئی کی یاسمین راشد دوسرے نمبر پر تھیں لیکن تیسرے نمبر پر تحریک لبیک کا امید وار تھا۔ اس نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سے زیادہ ووٹ لے کر پاکستان کے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا تھا۔ اگر خادم حسین رضوی مرحوم کے مذہبی رجحان کو دیکھیں تو وہ بریلوی یا سنی مسلک کے بہت قریب تھے۔ نواز شریف اکثر شکوہ کرتے تھے کہ ان کی پارٹی کے سنی ووٹ کاٹنے کے لئے تحریک لبیک پاکستان کو کھڑا کیا گیا ہے۔ خادم حسین رضوی مرحوم نے پہلا سیاسی دھماکہ اس وقت کیا جب وہ اپنا دھرنا لیکر فیض آباد پنڈی پہنچے اور اس وقت ن لیگ کی حکومت کو ہلا کررکھ دیا۔ اس وقت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تھے اور وزیر داخلہ احسن اقبال تھے۔ ن لیگ کی حکومت بے بس ہو گئی تھی تب فوج اور آئی ایس آئی کو مداخلت کرنی پڑی تھی اور ایک معاہدہ ہوا تھا تب جا کر یہ دھرنا ختم ہوا تھا ۔حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں دوبارہ گستاخی پر عمران خان کی حکومت میں یہ دھرنا ایک بار پھر فیض آباد آیا۔ عمران حکومت کی یہ غلط کوشش تھی کہ کسی طرح ایک معاہدہ دوبارہ ہو جائے اور دھرنا ختم ہو جائے پھر دیکھیں گے کہ کس طرح معاہدہ پر عمل کو ٹالا جا سکتا ہے۔ فرانس کے صدر نے جس طرح شاتم رسول کی ہلاکت پر ردعمل دیا وہ عالم اسلام کے کسی بھی مسلمان کو قبول نہیں۔ عمران خان اور ترکی کے صدر اردگان نے بھی اس پر فرانسیسی صدر کو وارننگ دی وہ قابل تحسین ہے لیکن مسئلہ ٹی ایل پی کے موجودہ رہنما اور خادم حسین رضوی کے صاحبزادے سعد رضوی کی سوچ اور انداز فکر کا ہے اور اپنی بات پر اڑے رہنے کا ہے۔ فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے واپس بھیجنے کا ہے جس کو کسی قیمت پر بھی قبول نہیں کیاجا سکتا ۔پاکستان کی حکومت پہلے ہی عالمی دبائو میں ہے۔ FATF نے ہمیں گرے لسٹ میں رکھا ہوا ہے۔ ملک معاشی طور پر بہت کمزور ہے۔ کرونا اپنے جوہر دکھا رہا ہے اور تیسری لہر نے ملک میں تباہی پھیری ہوئی ہے ۔مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں دھرنے اور فرانسیسی سفیر کے ملک بدری کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پھر اس کا انجام یہی ہونا تھا۔ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ عمران حکومت کے لئے وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اب دہشت گردی اور ریاست کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ ملک ایک امن پسند ملک ہے لیکن کسی بھی گروپ سے ڈکٹیشن نہیں لے گا۔
ٹی ایل پی پر اب پابندی لگ چکی ہے۔ ان کے اکائونٹس منجمد ہیں۔ سعد حسین رضوی کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک ہو گیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پکڑ دھکڑ میں صبر سے کام لے اور وقت کو آگے جانے دیں۔ آہستہ آہستہ یہ تنظیم ختم ہو جائے گی لیکن اس بات پر نظر رکھیں کہ کوئی سیاسی طاقت اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور یہ پارٹی کسی دوسرے نام سے اپنی سیاست کو واپس پاکستانی معاشرے میں داخل نہ کر پائے۔