خدا کی قسم لاجواب کی!

269

ہمارے بچپن میں، جب ٹیلی وژن کی بدعت نہیں تھی اور ریڈیو پاکستان کی نشریات ہی ہمارے لئے معلومات کا وسیلہ ہونے کے علاوہ تفریح کا ذریعہ بھی تھیں، تو رات کو نو بجے کے بعد، جب اس زمانے میں شرفاء کے گھروں میں لوگ رات کے کھانے سے فارغ ہوچکے ہوتے تھے، ہم سب بھائی بہن، ابّا اماں کے ساتھ، وہ دلچسپ پروگرام سنا کرتے تھے جس کا عنوان تھا، دیکھتا چلاگیا! پروگرام پیش کرنے والے تھے اس دور کے ریڈیو پاکستان کے بہت مقبول آرٹسٹ اور دلنشیں آواز کے مالک، ایس ایم سلیم، جو بعد میں امریکہ میں آکر بس گئے تھے اور ابھی چند برس پہلے ہی ہیوسٹن میں ان کا انتقال ہوا ہے۔
دیکھتا چلا گیا کے عنوان کے تحت وہ ہمارے اس روشن اور آباد شہر کراچی کی سڑکوں پر اور بازاروں میں رونما ہونے والے دن بھر کے دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے جن میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ حیرت اور تحیر کا سامان بھی ہوتا تھا!
شہر کراچی، جسے میں اب اپنا کھویا ہوا شہر مرحوم کہتا ہوں، اب ایسا بدل گیا ہے کہ ہم جیسے باسیوں کو اجنبی اور ناآشنا لگنے لگا ہے کیونکہ وہ شہر جسے ہم اپنے بچپن اور لڑکپن میں جانتے تھے اور جس سے ہمیں عشق تھا، وہ تو کہیں گم ہوگیا ہے اور اس کی جگہ جس عمارتوں اور آبادی کے اژدہام میں گھرے شہری جنگل نے لے لی ہے وہ نہ ہمیں بھاتا ہے نہ اس میں کوئی ایسی دلکشی باقی چھوڑی گئی ہے جو ہمیں ذہنی طور پہ اس سے باندھے رکھے!
لیکن ہم اپنے تئیں اپنے اس گمشدہ شہر سے اب بھی بہت مضبوط جذباتی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور یہ وہ بندھن ہے جو ہمارے ساتھ تادمِ آخر رہے گا اور کوئی نظامِ جبر یا وہ وڈیرہ شاہی جو ہمارے شہر کے حسن اور رنگینی کو کھاگئی اسے ہم سے چھین سکے گی!
شہر مرحوم کراچی کا حسن اور سہاگ تو اجڑگیا، بلکہ جان بوجھ کر باقاعدہ منصوبے کے تحت اجاڑ دیا گیا یا اجڑنے دیا گیا، لیکن اس کے دورِ شباب کا تحیر شہر سے نکل کے پاکستان کے انوکھے سیاسی کلچر پہ محیط ضرور ہوگیا ہے اور ایسا ہوا ہے کہ اب جو ہم ہزاروں میل دور سے بیٹھ کے اپنے اس ابتدائی اور اصلی وطن پہ نظر دوڑاتے ہیں تو جو عنصر سب سے نمایاں نظر آتا ہے اور ہمیں ہر گاہ اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے وہ تحیر ہے!
پاکستان میں وہ ہوتا ہے جس کا تصور بھی دوسرے ممالک کے بارے میں نہیں کیا جاسکتا! مثال کے طور پر ابھی جب ہم یہ کالم لکھنے بیٹھے تو اس سے پہلے کہ ہم رقم طراز ہوتے ایک بریکنگ نیوز پہ جم کے، سکتے کے سے عالم میں کھڑے کے کھڑے رہ گئے، یا کہئے کہ بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے!
حیرت کی زیادہ تر خبریں پاکستان کے تعلق سے ان رسوائے زمانہ خاندانوں سے متعلق ہوتی ہیں جو گذشتہ تیس چالیس برس سے نہ صرف پاکستان سے چمٹے ہوئے ہیں بلکہ اسے دیمک کی طرح سے چاٹتے بھی رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان کے انوکھے سیاسی کلچر کے بطن سے جنم لینے والے ڈراموں کے سب سے نمایاں کردار ہوتے ہیں۔
دو سیاسی خاندان سرِ فہرست ہیں سیاہ کاریوں کے حوالے سے، ایک تو بھٹو۔زرداری یا زرداری۔ بھٹو، اور دوسرے رائے ونڈ کے شریف جنہوں نے شرافت کی وہ دھجیاں اڑائی ہیں کہ لوگ اب شریف لفظ کو سنتے ہیں تو کانوں کو ہاتھ لگالیتے ہیں اگرچہ کانوں کو ہاتھ لگانے والے زیادہ تر وہ شرفاء ہی ہوتے ہیں جو صحیح اور غلط کے فرق کو پہچانتے ہیں اور اس تقسیم کو اب بھی معاشرہ میں توازن اور اعتدال کیلئے اسے ریڑھ کی ہڈی سمجھتے ہیں ورنہ تو پاکستانی معاشرے کے زوال اور بربادی کے المیہ میں جو عنصر سب سے نمایاں ہے وہ یہی ہے کہ عوام الناس کھوٹے اور کھرے کے فرق کو نہیں جانتے، یا اگر جانتے تھے تو اب اسے بھول چکے ہیں۔
ویسے ان دنوں عمران خان کی اپنی تحریکِ انصاف میں سے بھی ایک حضرت، یعنی ان کے سابق جگری دوست اور دستِ راست، جہانگیر ترین بھی زرداری اور شریف برادران کے نقشِ قدم پر چلنے کیلئے بہت بے چین دکھائی دیتے ہیں اور ہر طرح سے بہت ہاتھ پیر مار رہے ہیں کہ وہ بھی سیاہ کاروں کی فہرست میں وہی مقام حاصل کرلیں جو ان دو بڑوں کا ہے!
ترین صاحب یہ مقام حاصل کرتے ہیں یا نہیں یہ تو بعد میں، یا شاید بہت جلد، معلوم ہوجائے گا لیکن جن دو واقعاتِ تحیر کی ہم اس وقت بات کرنا چاہتے ہیں ان دونوں کا ہی تعلق شریف خاندان سے ہے!
وہ جو ہم نے آغازِ کلام میں کہا کہ قلم اٹھانے سے پہلے ہی ایک خبر نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیا تو وہ یہ ہے کہ شہباز شریف کی ضمانت کیلئے جو درخواست ان کے پسندیدہ اور ہمدرد لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی اس نے بڑا ڈرامائی رخ اختیار کرلیا ہے اور بریکنگ نیوز یہ ہے کہ دو معزز جج صاحبان کا جو بنچ اس درخواست کو سن رہا تھا اس کے دونوں اراکین بجائے اس کے کہ کسی ایک فیصلہ پر متفق ہوتے فیصلہ میں اختلاف کا شکار ہوگئے ہیں!
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ تو آپ جانیں بے شمار ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن کے بارے میں مورخ انگشت بہ دنداں رہتے ہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کا انوکھا ہی وقعہ ہوا ہے کہ سماعت کے بعد ایک جج، جن کا نام اسجد ہے، نے اپنے ساتھی جج، جو ان سے سینئر ہیں اور جن کا نامِ نامی ڈوگر ہے، کو بتادیا تھا کہ وہ شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست پر انہیں ضمانت دینے کے حق میں نہیں ہیں لیکن ان کے انکار کے باوجود ڈوگر صاحب نے اعلان کردیا، جسٹس اسجد کو بتائے بغیر اور ان کی رائے کے بغیر، کہ بنچ نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کرلی ہے!
ڈوگر نام پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں بہت بدنام ہے۔ ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کیونکہ وہ ابھی تیرہ چودہ برس پہلے ہی کی بات ہے کہ اس وقت کے فرعونِ ساماں، پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو دھونس اور دھاندلی سے برطرف کرکے اپنی پسند کے ایک جسٹس ڈوگر سے اپنے غیر آئینی اقدام پر صاد کروالیا تھا۔ تو آج بھی یہی ہوا کہ جسٹس اسجد نے ضمانت دینے سے انکار کردیا لیکن ان کے رفیق جسٹس ڈوگر نے شہباز کو پرواز کیلئے پر عطا کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے ساتھی جج کے ساتھ کھلی بے ایمانی اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے ضمانت کا اعلان بھی کردیا۔!
جسٹس اسجد نے اب معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے سربراہ، یعنی چیف جسٹس کو بھیج دیا ہے۔ دیکھیں وہاں سے کیا ہوتا ہے۔ ویسے تو لاہور ہائی کورٹ کی روایت تو یہی ہے کہ شریف خاندان کیلئے اس کا دل بہت کھلا ہوا ہے اس حد تک کہ عام لوگ بھی اسے شریف خاندان کی ذاتی عدالت کہنے لگے ہیں!
برطانیہ کے ایک اخبار نے حال ہی میں نواز شریف اور ان کے ایک نامی سہولت کار، ملک ریاض کے ایک کارنامے سے پردہ اٹھایا ہے۔ ملک ریاض آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے قارون کہے جاتے ہیں اور نواز اور زرداری کی مدد سے پاکستان بھر کی بہترین زمینوں پہ قبضہ کرکے بڑی بڑی بستیاں آباد کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ نواز نے پاکستان کو لوٹ ، لوٹ کر دنیاُ بھر میں جو جائیداد یںکھڑی کی ہیں اس میں ایک لندن کے سب سے مہنگے علاقے، ہائیڈ پارک میں وہ مینشن ہے جو 2007 میں خریدا گیا تھا اور پھر2015 میں اسے نواز کے صاحبزادے حسن نواز نے ساڑھے بیالیس ملین پاوٗنڈ میں ملک ریاض کو بیچ دیا۔ آج اس محل کی قیمت کا اندازہ پچاس ملین پاوٗنڈ ہے۔ لیکن دو برس پہلے برطانیہ کی اینٹی کرائم ایجنسی یعنی انسدادِ جرائم کے ادارے نے ملک ریاض کی چوری پکڑلی جسمیں وہ پاکستان سے ناجائز ذرائع سے دولت نکال نکال کر برطانیہ میں جمع کرتے رہے تھے۔
لیکن پھر یہ محیر العقول کام ہوا کہ برطانیہ کی ایجنسی اور ملک ریاض میں حکومتِ پاکستان کی مداخلت سے ایک ماورائے عدالت معاہدہ ہوگیا جس کے تحت ملک ریاض نے پچاس ملین پاوٗنڈ کا وہ لندن کا محل اور اس کے ساتھ140 ملین پاوٗنڈ نقد برطانیہ کے حوالے کئے تاکہ190 ملین پاوٗنڈ کی رقم برطانوی قوانین کے تحت اس ملک کو، یعنی پاکستان کو، واپس کردی جائے جہاں سے مال چوری کرکے قارونِ پاکستان نے برطانیہ میں اثاثے بنائے تھے۔ لیکن پھر ایک اور چمتکار ہوا، ہماری اس حکومت کی رضامندی سے جس کا دعوی مسلسل یہ رہا ہے کہ وہ کرپشن کو نیست و نابود کرکے ایک نیا اور پاک صاف پاکستان بنانا چاہتی ہے!
تو طے یہ پایا کہ190 ملین پاوٗنڈ کی رقم ملک ریاض کے پاکستانی کھاتوں میں جائیگی تاکہ اس سے وہ اپنے اس ہرجانہ کو ادا کرسکیں جو پاکستان کی سپریم کورٹ نے ان پر اس عجیب و غریب معاہدہ سے چھہ مہینے پہلے کیا تھا کیونکہ عدالت میں ثابت ہوگیا تھا کہ ملک ریاض نے سندھ حکومت کی مدد سے ملیر کی بہترین زمینوں کو ہتھیا کر اس پر اپنا بحریہ ٹاؤن بسا لیا تھا! عدالتِ عالیہ نے ان پر 460 ارب روپے کا ہرجانہ عائد کیا تھا۔ لیکن نئے پاکستان بنانے کی دعویدار حکومت نے تمام سابقہ حکومتوں پر بازی لیجاتے ہوئے بڑی دریا دلی سے یہ مان لیا کہ ملک ریاض برطانیہ سے واپس لوٹائی جانے والی190 ملین پاوٗنڈ کی خطیر رقم اس جرمانے کو چکانے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں!
دیکھا آپ نے کہ چور کی چوری پکڑی گئی لیکن حکومت نے جائز سمجھا کہ چوری کا مال چور کو ہی لوٹا دیا جائے۔ ملک ریاض سے زیادہ خوش نصیب چور اگر آپ نے دیکھا ہو تو ہمیں ضرور بتائیے گا ہم انتظار کرینگے! فی الحال تو ہم اتنا کہہ کے صبر کرینگے کہ، جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی!
اب ایک اور کارنامہ ہورہا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان نے گزشتہ ہفتے ملک بھر میں جو غنڈہ گردی کی تھی اور جسمیں پانچ پولیس اہلکاروں کے سوا دو سو سے زائد دیگر اہلکار اور عوام زخمی بھی ہوئے تھے اس کے بعد حکومت نے درست فیصلہ کرتے ہوئے اس دہشت گرد تنظیم پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت پابندی لگادی۔ دیر آید درست آید۔ یہ اقدام تو بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھا لیکن دیر سے سہی یہ اچھا ہوا ہے حکومت کو ہوش آگیا کہ کٹھ ملاؤں کی یہ تنظیم اب دہشت گرد بن چکی ہے اور ریاست کی حاکمیت کو مذاق اڑارہی ہے، اسے کھلے عام چیلنج کررہی ہے!
جس پیمانے پر اس تحریک نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو للکارا ہے اس سے ثبوت ملتا ہے کہ پاکستان دشمن ممالک، جن میں بھارت اور افغانستان سرِ فہرست ہیں، اس کے دہشت گردوں کو تربیت دینے کے علاوہ ان کو اسلحہ بھی فراہم کررہے ہیں جس کا کھلم کھلا استعمال ہورہا ہے! حکومت کی طرف سے پابندی کے باوجود دہشت گردوں کے حوصلے پست نہیں ہورہے۔ تازہ ترین واقعہ یہ ہوا ہے کہ لاہور میں اس دہشت گرد تنظیم کے شرپسندوں نے بارہ پولیس اہلکاروں کو اپنے مرکز میں یرغمالی بنالیا ہے اور ایک ڈی ایس پی پر بہیمانہ تشدّد بھی کیا گیا ہے!
لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت اب ایکبار پھر دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہے! مذاکرات اور دہشت گردوں سے؟ کیوں اور کس لئے؟
پہلے بھی یہی غلطی ہوئی تھی کہ دہشت گردوں کے ساتھ ایک ہی میز پر مذاکرات کرکے انہیں حکومت کے برابر فریق ہونے کا اعزاز دیا گیا جس سے ان کے حوصلے آسمان پہ پہنچ گئے اور وہ یہ گمان کرنے لگے کہ وہ غنڈہ گردی اور دہشت پھیلا کے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔! سوال یہ ہے کہ جس تنظیم کو حکومت نے دہشت گرد قرار دیکے اسے کالعدم کردیا اب اس سے مذاکرات کے کیا معنی؟
پاکستان کی ریاست نے دہشت گردی سے نجات حاصل کرنے کی صبر آزما مہم میں ہزارہا جانوں کی قربانی دی ہے لیکن ملک سے اس ناسور کو جڑ سے ابھی تک نہیں اکھیڑا جاسکا ہے۔ ضرورت مذاکرات کی نہیں ہے ثابت قدمی سے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی ہے اور اس کام میں تاخیر یا تعطل ملک و قوم کے حق میں زہرِ قاتل ہوسکتا ہے!
عمران خان بقول ان کے پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانا چاہتے ہیں تو پھر لاہور میں اس دہشت گرد تنظیم کے مرکز کو منہدم کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ میرے رسولﷺ نے مدینہ میں نفاق کے مرکز یعنی نام نہاد مسجدِ ضرار کو منہدم کروادیا تھا تحریک لبیک کا مرکز بھی ایک نام نہاد مسجدِ ضرار ہے جسے گرانا پاکستان کے حق میں ناگزیر ہے!