نیا عالمی منظر نامہ

366

گذشتہ چند دنوں میں ملک کے اندر اور باہر اتنے اہم واقعات رو نما ہوے ہیںکہ پچھلے ہفتے میڈیا کے راڈار پر چھائے ہوے تمام معاملات اور شخصیتیں قصہ ٔپارینہ ہو گئے ہیں ملک کے اندر وزیر اعظم عمران خان اورجہانگیر ترین میں ہو نے والی کشمکش کی جگہ تحریک لبیک کی ہڑتال اور اس پر لگنے والی پابندی نے لے لی ہے ،سندھ اسمبلی میں صرف تین سیٹیں رکھنے والی اس جماعت نے پورے ملک کو تین روز تک بند کئے رکھاا س ہڑتال کے دوران پولیس کے دو اہلکار شہید اور آٹھ سو کے قریب زخمی ہوے موٹر ویز اور جی ٹی روڈ بند رہے سات مذہبی کارکن بھی جان بحق ہوے تمام بڑے شہروں میں ٹریفک جام رہی پنجاب میں پیرا ملٹری فورس طلب کر لی گئی، کئی مقامات پر رینجرز تعینات کر دئے گئے تحریک لبیک کے سربراہ مولانا سعد رضوی کو گرفتار کرکے ان پر قتل کے مقدمات بنا دئے گئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک ٹی وی انٹرویو میںانکشاف کیا کہ’’ یہ لوگ پاکستان کو اندر سے تباہ کرنا چاہتے تھے اور اسے ایساملک بنانا چاہتے تھے جہاں ایمبولینس بھی نہ چل سکے‘‘ وزیر داخلہ نے تحریک لبیک پر پابندی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوے کہا کہ ’’ ریاست کی رٹ کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائیگا‘‘ یہ بیان انہوں نے چند روز پہلے دیا تھا آجکل شیخ صاحب اسی کالعدم قرار دی ہوئی جماعت سے مذاکرات کر رہے ہیںتحریک لبیک بھی شیخ صاحب سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے باوجود انکے ساتھ مکالمہ کر رہی ہے تازہ خبروں کے مطابق حکومت نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے اور اب اسے ایک قرارداد کی صورت میں منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا
یہ تو ملک کے اندر کی صورتحال تھی باہر جو کچھ ہو رہا ہے اس نے پورا عالمی منظر نامہ بدل کے رکھ دیاہے صدر بائیڈن نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ گیارہ ستمبر تک امریکی افواج افغانستان سے واپس بلا لیں گے منگل ہی کے روزامریکی اخبارات میں شائع ہونیوالی ایک انٹیلی جینس رپورٹ میں حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان سے فوج واپس نہ بلائے کیونکہ انخلا کے بعد افغانستان میں حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ امریکہ کو عراق کی طرح یہاں بھی اپنی افواج واپس بھیجناپڑیں گی اس کے بعد میڈیا میں جو بحث شروع ہوئی ہے وہ ابھی تک جاری ہے ادھر طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی واپسی تک کسی بھی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے یوںاستنبول میں 24 اپریل کو امریکہ کی منعقد کی ہوئی کانفرنس اب ایک سعیٔ لا حا صل لگ رہی ہے اشرف غنی نے کہا ہے کہ انکی حکومت امریکہ کے چلے جانے کے بعد بھی طالبان کا مقابلہ کرتی رہے گی‘ ادھر اسرائیل نے اتوار کو Natanz میں واقعہ ایران کی جوہری تنصیب پر سائبر حملہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے ایران نے اسکے جواب میں کہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے عمل کو بیس فیصد سے بڑھا کر ساٹھ فیصد کر دیگا جسکا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت جلد ایک جوہری طاقت بننے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامین نتن یاہو اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننے دیں گے جس دن اسرائیل نے مبینہ طور پر ایران کی جوہری تنصیب پر حملہ کیا اس دن امریکہ کے سیکرٹری آف ڈیفنس جنرل لائیڈ آسٹن اسرائیل ہی میں تھے وائٹ ہائوس کی ترجمان Jen Psaki نے کہا ہے کہ ایران پر حملے سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہے گلف نیوز کے مطابق ایران نے خلیج فارس میں ایک میزائل حملے میں اسرائیل کے بحری جہاز کو نقصان پہنچایا ہے
مشرق وسطیٰ سے دور تائیوان اور یوکرین میں حالات اس سے کہیں زیادہ مخدوش ہیں اوپر کی سطروں میں جس انٹیلی جینس رپورٹ کا ذکر کیا گیا ہے اس میں لکھاہے کہ Broad National Security challenges are posed by Moscow and Beijing یعنی ماسکو اور بیجنگ امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے شدید خطرات پیدا کر رہے ہیں اس سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور روس امریکہ کے مقابلے میں اپنا عالمی اثر رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیںچین نے پیر سے تائیوان کی سرحدوں کے قریب جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں امریکہ نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ وہ ہر حالت میں تائیوان کی خود مختاری کا دفاع کرے گا بحرالکاہل اور بحیرہ جنوبی چین کے ساحلوں سے بہت دور Black Sea ( بحر اسود)میں امریکہ نے یوکرائن کے دفاع کے لئے دو بحری بیڑے روانہ کر دئیے ہیںروس گزشتہ دو ہفتوں سے یوکرائن کی سرحدوں پر اپنی فوج جمع کر رہا ہے لائیڈ آسٹن اسرائیل کا دورہ مکمل کر کے نیٹو کے ہیڈ کوارٹر برسلز پہنچ گئے ہیں جہاں سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن بھی موجو د ہیں بلنکن نے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں یوکرائن کی سرحدوں پر روسی فوج کا اجتماع بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے نیٹو کے سیکرٹری جنرلJen Stoltenberg نے کہا ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ہزاروں کی تعداد میںCombat Ready یعنی جنگ کیلئے تیارفوج جمع کر دی ہے مغربی ذرائع ابلاغ میں یہ بحث جاری ہے کہ ولادیمیر پیوٹن واقعی یوکرین پر بھی کریمیا کی طرح قبضہ کرنا چاہتا ہے یا وہ صرف صدر بائیڈن کے اعصاب کا امتحان لے رہا ہے
اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں مثبت تبدیلی یہ آئی ہے کہ منگل کے روز صدر بائیڈن نے روس کے صدر پیوٹن سے فون پریوکرائن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پیوٹن نے بائیڈن سے کہا کہ امریکہ روس کی سرحدوں پر واقع ممالک کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اس گفتگو کے بعد یہ اطلاع بھی آئی ہے کہ بحر اسودسے امریکی بحری جہازواپس آ رہے ہیں
گذشتہ جمعے کو چین اور انڈیا کے مابین مشرقی لداخ کے مسئلے پر ہونے والے مذاکرات کا گیارواں رائونڈ بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گیا نئی دہلی میں ہونے والے ان مذاکرات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین لداخ میں اپنی پیشقدمی کے بعد واپس جانے پر آمادہ نہیں ہے
پاکستان کے ارد گرد عالمی منظر نامہ اتنی تیزی سے بدل رہا ہے کہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حالات اس علاقے کے کئی ممالک کو اچانک Suck in یعنی اپنے اندر کھینچ لینے کی طاقت رکھتے ہیں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کا ایک بڑا حصہ ان خارجی معاملات کو نظر انداز کرکے ملک کے اندر ہونیوالے سنسنی خیز واقعات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو خطے میں آنے والی تبدیلیوں سے بھی آگاہ کیا جائے تا کہ وہ آس پاس رونما ہونے والے واقعات کی تفہیم کر سکیں !!!