تحریک لبیک کا فتنہ کیوں؟

448

پاکستان کے، مجرم اور بھگوڑے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن عزیز پر جو نوازشیں ہیں ان میں سے ایک اس ناجائز مذہبی گروہ کی پیدائش اور پرورش بھی شامل ہے جو اس نے اس دن کے لیے بنایا تھا کہ اس خطرناک گروہ کو اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔چنانچہ اب جب کہ پاکستان FATF کے سامنے پھر اپنا مقدمہ پیش کرنے جانے والا ہے، جہاں یہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ اس ملک کو مالی اعتبار سے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے جس سے ملک کی مالی حالت تباہ و برباد ہو جائے، تو اس گروہ کی وجہ سے یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف ہو سکتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومت اس گروہ کے دبائو میں آ کر، فرانس کے سفیر کو ملک بدر کر دے تو اس کا سفارتی اثر نہایت منفی ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلی بات تو یہ سوچنے کی ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ہندوستان پاکستان کے خلاف سرد جنگ میں مصروف ہے ، اور اسی کی ایک کڑی پاکستان کو اقتصادی میدان میں بد حال کرنا ہے۔ اسی لیے ہندوستان ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ کسی طرح پاکستان کو FATF کے ذریعے بلیک لسٹ میں ڈلوایا جائے۔اس لسٹ میں جانے کے نقصانات، پاکستان کی موجودہ نازک صورت حال میں خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا نقصان پاکستان کی عالمی ساکھ کو تباہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کو قرضہ نہیں ملیں گے اور اسکی درآمدات مہنگی ہو جائیں گی۔روپیہ کی قیمت بہت تیزی سے نیچے گر جائے گی، وغیرہ ۔ آپ سوال کر سکتے ہیں کہ ہندوستان نے بھلا کیسے اس اسلامی لشکر کو اس موقع پر متحرک کیا؟ تو اس کا جواب مشکل نہیں۔
13 اپریل 2021کی اخباری خبر کے مطابق، تحریک لبیک پاکستان نے اسلا م آباد، لاہور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کروائے جن میں تین افراد ہلاک ہوئے اور تحریک کے ایک سو ارکان گرفتار کئے گئے۔یہ ہنگامے اس وقت زور پکڑ گئے جب ان کے ایک قائد سعد حسین رضوی کو گرفتار کیا گیا۔ہلاک ہونے والوں میں گوالمنڈی لاہور کا ایک پولیس کانسٹیبل شامل تھا۔ دوسرے روز تک کم از کم چالیس پولیس کے اہلکار زخمی کیے جا چکے تھے۔لاہور پولیس نے سعد حسین رضوی اور تحریک کے دوسرے شریکین کے خلاف دفعہ 302اور دہشت گردی کے قوانین کے تحت ایف آئی آر کاٹی۔جو قاتلوں پر لگائی جاتی ہے۔ آئندہ تین چار دنوں میں پولیس اس جماعت کے دو ہزار سے زائد شر پسندوں کو گرفتار کر چکی تھی۔ اور ہلاکتیں اور زخمی اہلکاروں کی تعداد بھی بڑھ چکی تھی۔
تحریک کے احتجاج نے بڑے شہروں کی بڑی شاہراہوں کو ٹریفک جام کروا دیئے، حتی کہ عام سواریاں کیا اور ایمبولنسز کیا، سب کا گذرنا نا ممکن ہو گیا۔ مظاہرین نے پولیس پر ڈنڈے برسائے، نجی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، جو سب کچھ ٹی وی پر دیکھا جا سکتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ کاروبار زندگی کیا کووڈ نے بند کرنی تھی جو ان رسول اللہ کے خادموں نے کر دی۔پارٹی کے ترجمان طیب رضوی نے بیان جاری کیا کہ جب تک فرانسیسی سفیر کو واپس نہیں بھیجا جائے گا، یہ احتجاج جاری رہیں گے۔وفاقی حکومت نے بھی فیصلہ کر لیا کہ اس احتجاج کو جو غیر قانونی طریقہ سے کیا جا رہا ہے، سختی سے کچلا جائے گا۔
ملک کا اس پہیہ جام سے اربوں کا نقصان ہوا۔اس فیصلہ کی پشت میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید، وفاقی وزیر مذہبی امور، نورالحق قادری، اور نظم و نسق کے اداروں کے افسران شامل تھے۔ وزارت داخلہ نے اسلا م آباد کے حساس مقامات سے انٹرنیٹ سروس بند کروا دی۔اس جماعت کی ویب سائٹ ، اور سوشل میڈیا موجودگی کو روکا گیا۔ ان کے بینک کے اثاثے منجمد کیے گئے، اورسپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا کہ اس جماعت کو آیندہ انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت ختم کی جائے۔
اب ذرا تاریخ کے اوراق کو پلٹیں۔اور اس جماعت کی پیدائش پر غور کریں۔نواز شریف نے اور سابقہ سیاستدانوں کی طرح، مذہبی جماعتوں کی نفری اور فتنہ فساد کی صلاحیت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اس نے مولانا فضل الرحمن کو جن کے زیر نگرانی ملک کے بے شمار اسلامی مدرسے تھے، روپیہ پیسے کے ذریعہ اور حکومتی مراعات، عہدوں وغیرہ سے نوازا۔ مثلاً وہ نواز شریف کی حکومت کے آخر تک کشمیر کمیٹی کے صدر رہے، اور انہیں رہائش گاہ اور گاڑی وغیرہ سب کچھ دیا گیا تھا۔ مذہبی جماعتیں نہ صرف ایک بڑی عددی قوت رکھتی تھیں بلکہ ووٹ بینک بھی تھیں۔ان کو مزید خوش کرنے کے لیے، نواز شریف نے ملک میںشرعیہ قوانین لانے کی بھی کوشش کی جو بااثرجاگیر دار طبقہ اوردوسرے با ا ثر طبقات کی مخالفت کی وجہ سے پایہ ٔ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی۔2013کے انتخابات میں موصوف کو اندازہ ہو گیا تھا، حالات ان کے خلاف بھی جا سکتے ہیں۔اس لیے انہیں کچھ اور بھی سوچنا چاہیے۔
بھارت ممبئی حملہ کے نتیجہ میں بہت تلملا رہا تھا۔ ایک شدت پسند گروہ پاکستان پر حملہ کر کے اس کو اس حرکت کا مزہ چکھانا چاہتا تھا لیکن ایک دوسرے گروہ نے ایٹمی جواب سے بچنے کے لیے،اس حملہ کی نوعیت بدل دی اور پاکستان سے سفارتی، تجارتی اور سیاسی میدان میں جنگ کرنے کا فیصلہ کیا ۔بھارت میں پاکستان کی صورت حال کو سمجھنے کے لیے RAW اور دوسرے اداروں میں تھنک ٹینک بنے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایسے مخالف لوگ ہیں جو مناسب قیمت پر خریدے جا سکتے ہیں جیسے کہ طالبان جو خود کش حملوں میں پانچ دس لاکھ روپے فی کس مل جاتے ہیں اور ویسے تو کرپشن اتنی بڑھ چکی ہے کہ شاید ہی کوئی لیڈر ایسا ہو گا جو خریدا نہیں جا سکتا۔ بھارت کے چوٹی کے فوجی افسر نے کہا کہ انہیں پاکستان سے ہی خود کش حملہ کرنے والے مل جاتے ہیں، انہیں بھارت سے بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ چنانچہ نواز شریف کو بھارت بلایا گیا اور بعد میں بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی ایک پرایئویٹ دورے پر نواز شریف کے گھر آئے۔ وہاں بھی کچھ لین دین کی باتیں ہوئیںاور نواز شریف کے ساتھ کچھ سودا بازی ہوئی۔یہ کوئی مفروضہ نہیں کیونکہ کچھ عرصہ بعد ایک اہم بھارتی لیڈر نے پبلک میں بیان دیا کہ ہم نے نواز شریف پر اتنی سرمایہ کاری کی ہے، اس کا پھل کب ملے گا؟ جب دشمن سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ اس کا ثبوت بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ نواز شریف کو سمجھا دیا گیا کہ اگر وہ چپ چاپ RAW کے رابطہ کار کے مشوروں پر عمل کرتا رہے تو اس کے راز نہیں کھولے جائیں گے۔جب سے نواز شریف لند ن گیا ہے وہاں سے بھارت کے لیے کام کر تا ہے۔
جب پاکستان میں انہی کرایہ کے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر شیطانیت کرنے والوں نے آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام لگایا، تو ان کا ارادہ ایک عیسائی عورت کو پھانسی چڑھانا تھا تا کہ پاکستان کی مغرب میں خوب بدنامی ہو۔یہ کیس اسقدر بے تکا تھا کہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے اس میں دلچسپی لی اور جا کر جیل میں خود آسیہ بی بی سے ملاقات کی، اور کہا کہ شاید پاکستان کو ان توہین کے قوانین پر غور کرنا چاہیے۔اس شریف آدمی کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ کہ تحریک لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی کے بھائی ممتاز رضوی نے جو پولیس میں تھا، مل ملا کر سلمان تاثیر کے محافظ کی جگہ لے لی اور اسلام آباد میں ایک دن ان کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔یہ اس لیے کہ اس نے آسیہ بی بی کو بچانے کی کوشش کیوں کی؟ ممتاز قادری کو کچھ لوگوں نے غازی علم دین کا رتبہ دے دیا۔ اس کا مقدمہ جب عدالت میں گیا تو سینکڑوں وکیلوں نے اس کی پیروی کی خواہش ظاہر کی۔ اور گورنر کی وکالت پر کوئی وکیل تیار نہیں تھا۔ بہر حال یہ مقدمہ چھ سال زیر التوا رہا، آسیہ بی بی9سال جیل میں رہی۔آخر کار دنیا کی بدنامی سے بچنے کے لیے دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو سزائے موت دی۔ اس کے جنازے پرہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ غالباً اسی کو دیکھ کر نواز شریف کو غالباً اشارہ دیا گیا کہ قادری پارٹی بنائی جائے۔ چنانچہ2015 میں جب کہ نواز شریف کی حکومت تھی،یہ جماعت بنائی گئی۔ اس کا نام لبیک یا رسول اللہ رکھا گیا مگر الیکشن کمیشن کے اعتراض پر صرف تحریک لبیک پاکستان کر دیا گیا ۔ اس جماعت نے ایک ضعیف حدیث کا سہارا لیکر اس جماعت کی وجہ بنیاد رکھی۔اس حدیث کے مطابق رسول اللہ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، یعنی اللہ سے بھی اس کا رسول آگے نکل گیا۔ باری تعالیٰ کی شان میں ایسی گستاخی کو کیا کہیں گے؟
چند سال قبل فرانس کے رسالے میں رسول اللہ کی ذات گرامی کے کچھ خاکے شائع ہوئے، تو اس جماعت نے مطالبہ کیا کہ فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجا جائے۔ اسلام آباد میں ایک اہم چوراہے پر پندرہ بیس دن کا دھرنا دیا، سارے شہر کا ٹریفک اور کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے، لیکن نواز شریف کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگی۔ آخر کار خادم حسین کے ساتھ مک مکا کیا گیا ، وزیر قانون کو استعفیٰ دینا پڑااور ایک بے کار سا معاہدہ کیا گیا تو دھرنا ختم ہوا ۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ فرانس کے سفیر کو نکالنے کا اصرار اب کہاں سے آیا؟ اس وقت کی اہمیت تو بھارت کے سینہ میں گڑی ہوئی تھی۔چنانچہ مشورہ لندن میں دیا گیا جہاں سے مریم نواز کے ذریعہ پارٹی کو تحریک لبیک کو اکسا نے اور اعانت کرنے کا حکم دیا گیا۔ قرائین بتاتے ہیں کہ سڑکوں پر تحریک کے کارکنوں کو شہ دینے والے بھی نون لیگ کے کارندے تھے ، جنہیں لوگ پہچانتے تھے۔
یاد رہے اسی بذات نواز نے FATF کی ایک گذشتہ میٹنگ سے پہلے جب عمران خان ضروری قوانین پاس کروانا چاہتا تھا تو نواز نے اپنی پارٹی اور حمائیتوں کو ان قوانین کوپاس کرنے انکار کروایا تھا، خواہ پاکستان کا اس سے کتنا بڑا نقصان ہی کیوںنہ ہو جائے۔
حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ نواز شریف کی پارٹی کے رہنما ابھی بھی آنکھیں بند کر کے اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔اس کی بیٹی تو باپ کے لیے جان و مال سب کچھ دینے کو تیار رہتی ہے۔اور اس کے دیکھا دیکھی دوسرے نمک خوار بھی۔اگر بھارت نواز شریف کو بلیک میل کر رہا ہے ، تو ہمیں ا پنی حکمت عملی پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔مثلاً نون لیگی رہنمائوں سے براہ راست مشاورت کی جائے کہ یہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے وہ نواز شریف کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں خصوصاً جو صاف صاف پاکستان کی بقاء اور سا لمیت پرحملہ کرتے ہیں۔ ورنہ ان پر پاکستان سے بغاوت کے مقدمے چلائے جائیں گے۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ کچھ عدالتیں بھی نواز شریف کے قبضہ میں ہیں۔ لیکن اب اگر سپریم کورٹ نے تحریک لبیک کو غیر قانونی جماعت بنانے سے انکار کیا تو اس کورٹ کی ساکھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔