گنتی کی سانسیں!!

256

’’سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں‘‘ یہ بات سو فیصد سچ ہے کیونکہ انسان کئی برسوں کا پلان بناتا ہے مگر پتہ چلتا ہے کہ اس کے پاس تو محض گنتی کی چند سانسیں رہ گئی تھیں۔
کچھ سال پہلے جب ممبئی اٹیک ہوئے تو کئی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، ایک بتیس (32)سالہ جاپانی لڑکی بھی اس میں شامل تھی وہ جاپان سے پہلی بار ہندوستان آئی تھی اور وہ بھی صرف چودہ گھنٹے کیلئے، صبح ایک میٹنگ اور پھر شام میں دوسری ،بیچ میں تاج ہوٹل میں لنچ، وہ لنچ جو اٹیک کے بعد اس کا آخری لنچ بن گیا، اس جاپانی لڑکی کے گھر والے شاید سوچ رہے ہوں کہ کاش وہ ہندوستان نہ جاتی یا کم از کم اس دن نہ جاتی لیکن سچ یہ ہے کہ جس کی موت جہاں لکھی ہوتی ہے اُسے وہیں کھینچ کر لے جاتی ہے اور یہی کچھ سبیکا شیخ کے ساتھ بھی ہوا، سبیکا کراچی کی ہونہار طالبہ تھی جس کیلئے مستقبل بانہیں پھیلائے کھڑا تھا وہ گلشن اقبال میں رہتی تھی اور کراچی پبلک سکول میں پڑھتی تھی، سبیکا تین بہنوں میں سب سے بڑی تھی، سبیکا شیخ کو وہ موقع ملا جو پاکستان میں کسی بھی طالب علم کیلئے خواب جیسا ہے۔
امریکہ کاایک پروگرام ہے جسے ’’YES‘‘بھی کہا جاتا ہے اس پروگرام کے تحت کچھ طالب علموں کو امریکہ بلایا جاتا ہے جہاں وہ ایک سال پڑھتے ہیں، وہ امریکہ کی کسی بھی ریاست کے سکول میں داخل ہوتے ہیں اور وہیں کسی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد پاکستانی بچوں کو امریکن کلچر اور تعلیم سے روشناس کرانا ہے۔ یہ پروگرام نائن الیون کے بعد شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان اورامریکہ کے بیچ برج یعنی پل کا کام کرے، سبیکا وہ طالبہ تھی جسے 2017ء کے Yesکے پروگرام کے تحت امریکہ آنے کاموقع ملا۔
21اگست 2017ء کو سبیکا امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن آئیں جہاں انہیں Santafeنامی سکول میں دس مہینے گزارنے تھے، یہ وقت تقریباً گزر چکا تھا اوریکم جون سے سکول بند ہو جانے تھے، سبیکا بہت خوش تھی کہ 9جون کو وہ گھر واپس جارہی ہے جہاں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ عید منائے گی لیکن جمعہ مئی اٹھارہ 2018ء کو اچانک ہنستی مسکراتی سبیکا کو بندوق کی ایک گولی نے ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا، صبح ساڑھے سات بجے کے قریب Dimitriosنامی اسی سکول کا طالب علم ایک لمبا سا کوٹ پہن کر داخل ہوا، کوٹ کے نیچے اس نے اپنے والد کی ایک شاٹ گن اور ایک ریوالور چھپائی ہوئی تھی وہ آرٹس روم میں داخل ہوا جو طالب علموں سے بھرا ہوا تھا، ایک لڑکی کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اور کہ تم آج مرنے والی ہو اور گنز نکال لیں، لڑکی اٹھ کر بھاگی اور اس نے گولی چلا دی، لڑکی کے پائوں میں گولی لگی اور پھر اس نے کمرے میں موجود دوسرے لوگوں پر گولیاں چلانی شروع کر دیں جس میں سبیکا بھی تھی، دس لوگوں کو اس فائرنگ کی وجہ سے موت ہو گئی۔
پلان کے مطابق Dimitriosخودکشی کر لیتا گولیاں چلانے کے بعد لیکن اس کی ہمت نہیں ہوئی یہ اس نے پولیس کو بعد میں بتایا، آپ کو جان کر حیرانی ہو گی کہ امریکہ میں 2001ء سے آج تک سکول میں گھس کر فائرنگ کے دو سو واقعات ہوئے۔ 2002ء کولن بائن سکول میں پندرہ بچے جاں بحق ہوئے، 2012ء میں کیٹک میں 28اور اب ہیوسٹن کے سکول میں دس بچے، ایک نہیں بلکہ دو سوبار یہ فائرنگ کے واقعات ہو چکے ہیں اس کے باوجود حکومت اس سلسلے میں کوئی بڑا قدم کیوں نہیں اٹھاتی؟
نائن الیون کے بعد امریکہ نے ٹریلین آف ڈالرز دہشت گردی روکنے کی کوشش میں لگا دئیے ہیں لیکن یہ اٹیکس بھی دہشت گردی کے حملوں سے کم نہیں ہیں اور ان کو روکنا بھی اتنا مشکل نہیں ہے، آج آپ اگر کینیڈا یا میکسیکو سے اپنی گاڑی میں آم رکھ کر لارہے ہوں تو سوال جواب کرتے آفسیرز کو Scanمیں نظر آ جاتا ہے کہ اس گاڑی میں آم ہیں ۔تو پھر سکول کی تمام Entrancesپر گن یا بمز کیلئے Scannerلگانا کتنا مشکل ہے؟ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ حملے ذہنی طور پر ڈسٹرب طالب علم کررہے ہیں لیکن جس لڑکے کی گولی کا نشانہ سبیکا شیخ بنی وہ سٹوڈنٹ فٹ بال کا کھلاڑی تھا، اس سکول میں اس کے کئی دوست بھی تھے پھر بھی اس نے ایسا قدم اٹھایا۔
امریکہ میں سب سے کامیاب لوگ امیگرنٹس ہیں وہ اس لئے کہ وہ اپنا ایک گول بناتے ہیں اور پھر اُسے حاصل کرنے کیلئے جدوجہد میں لگ جاتے ہیں، ہم اپنے بچوں کو یہاں کے سکول سسٹم سے پورا فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں اور اسی لئے ہمارے بچے سب سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں، انجینئر، ڈاکٹرز بنتے ہیں اور ہر شعبے میں آگے نکلتے ہیں، سبیکا یہاں سے سبق لینے آئی تھی چلیے اس کی اس قربانی سے ہم سبق سیکھتے ہیں، سبق یہ کہ ہمیں ان سکولوں کو محفوظ بنانا ہے جہاں ہمارے بچے دن کا بڑا حصہ گزارتے ہیں، وہ امریکی سکول سسٹم جو ہمارا اورامریکہ کاکل بہتر بنائے گا۔
سکول میں گن کنٹرول ہونا چاہیے، اس کیلئے آوازاٹھائیں، اپنے لوکل کانگریس مین سے بات کریں، کوئی پلان بنائیں، کوئی پرامن مظاہرہ کریں، کچھ بھی کریں لیکن اتنی کوشش ضرورکریں کہ ہمارا کوئی بھی بچہ ایسے حادثے کا شکار نہ ہو۔ جب نائن الیون ہوا تھا تو سبیکا پیدا بھی نہیں ہوئی تھی، امریکہ کی وہ کوشش جس سے وہ امریکہ کا امیج بہتربنانے کی پچھلے ستر سال سے کوشش کررہے ہیں سکول شوٹنگ کے واقعات سے وہ کوششیں فیل ہو جاتی ہیں۔