اہلیان کراچی خاموش کیوں؟

289

راقم الحراف کا بچپن اور نوجوانی کا دور کراچی کی یادوں سے بھرا پڑا ہے۔ مجھے خوشی قسمتی سے زمانۂ طالب علمی کے دور میں طلباء کے پلیٹ فارم سے طلباء تحریکوں اورطلباء سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ہے۔ بچپن میں دورِ ایوبی، نوجوانی میں جنرل یحییٰ اور پھر عملی سیاست میں جنرل ضیاء کا دور ملا اور وکلاء برادری میں جنرل مشرف کی مخالفت کا موقع ملا جن کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے پاکستان میں اپنا کیریئر تباہ کیا جس کا مجھے ذرا برابر بھی افسوس نہیں ہے کہ راقم اسلامیہ کالج کراچی طلباء یونین آرٹس اور قانون کا دو مرتبہ صدر منتخب ہوا تو پاکستان ٹوٹ رہا تھا یا پھرٹوٹ چکا تھا جس کی طلباء پلیٹ فارم پرمخالفت کی گئی کہ اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار سونپا جائے۔ فوجی آپریشن بنگال میں بند کیا جائے، سیاسی مذاکرات کئے جائیں وغیرہ وغیرہ جس کی پاداش میں جیل یاترا نصیب ہوئی یا پھر جمہوری بھٹوحکومت کی ایمرجنسی، ڈی پی آر اور دفعہ 144کے نفاذ کے خلاف کئی مرتبہ جیل جانا پڑا، جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک کیس میں جلاطن ہونا پڑا جس کا سہرا اپنے بزرگ رہنمائوں اور سیاستدانوں سید سعید حسن، معراج محمد خان، فتح علی یاب، علی مختار رضوی، امیر حیدر کاظمی،شہنشاہ حسین، رانا اظہر علی خان، منور حسن، نفیس صدیقی، حسین نقی جوہر اور دوسرے رہنمائوں کو جاتا ہے جن کے نقش قدم پر چل کر جدوجہد جاری رکھی ہے۔ جنہوں نے اپنے دور طالب علمی میں پاکستان گورنر جنرلوں اور فوجی جنرلوں کی مخالفت کرتے ہوئے کراچی بدر ہوئے جن کو اس وقت بارہ اماموں کا لقب دیا گیا تھا جو دورِ ایوبی میں شہر کراچی سے نکال دئیے گئے یہ وہ زمانہ تھا جب مجوزہ طلباء رہنمائوں کو سننے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں طلباء سکولوں اور کالجوں میں جلسہ گاہوں میں پہنچتے تھے، آج وہ طلباء تحریکیں ایک خواب بن کر رہ گئی ہیں جو کسی زمانے میں سیاستدانوں کے لئے مددگار ثابت ہوتی تھیں۔ جب شہر کراچی جاگتا تھا جس کا مڈل کلاس لوئر مڈل کلاس، مزدور اور محنت کش طبقہ متحد اور منظم تھا۔ شہر کراچی کی ہر تحریک پورے ملک کی تحریک بن جاتی تھی جس کا پھیلائو کراچی سے لے کر ڈھاکہ تک پھیل جاتا تھا جس کے سامنے بڑے بڑے ظالم اور جابر حکمران جھک جاتے تھے۔ آج وہ شہر کراچی بے کس اور بے بس نظر آرہا ہے جس کے اہلیان کراچی خاموش ہوچکے ہیں جس کی ذمہ دارایم کیو ایم ہے جس نے اپنی لسانیت سے شہر کو تقسیم کیا، شہریوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا جس کی ذمہ دار پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بھی ہے جس نے منصوبہ بندی کے تحت شہر کراچی کو تباہ و برباد کیا تاکہ اس شہر سے ان کے خلاف کوئی آواز بلند نہ ہو یہی وجوہات ہیں کہ آج کے دور نااہلیت اور بربریت میں مرکز اور صوبائی حکومتوں کو 75فیصد فنڈز فراہم کرنے والے شہر لاوارثوں کی جائے پناہ بن چکا ہے۔ یہاں آزادی، جمہوریت کی آواز بند ہو چکی ہے۔ ہر حکمران، اہلیانِ شہر سے مذاق کرتا ہوا نظر آتا ہے شہر کی دولت پر پلنے والے حکمران اہلیان شہرکو گالی گلوچ بک کر چلے جاتے ہیں جس کا مظاہرہ گزشتہ چند سالوں سے نظر آرہا ہے کہ مرکزی اورصوبائی حکومت وعدے کرتی ہے مگر شہر گندگی کا ڈھیر، گندہ پانی، بیروزگاری، چوری چکاری اور ڈاکہ زنی کی آماجگاہ بن چکا ہے کیونکہ اہلیان شہر ماضی کی خانہ جنگی سے خوف زدہ ہیں جس میں اہلیان شہر آپس میں تقسیم ہو گئے۔ ہر طرح کا رشتہ ختم ہو گیا۔ شہر کی آزادی لسانیت کی بنا پر بانٹ دی گئی، شہر کو مسائلستان بنا دیا گیا تاکہ مرکز اور صوبے کو پالنے والا شہر کوئی آواز بلند نہ کرے جس کی آواز پورے ملک میں نہ گونج پائے۔اپنی آمدن کی ترسیل نہ روک پائے جس سے ایوانوں، دربانوںِ بلوانوں کے محل نہ گر جائیں، تاہم آج کراچی کو کوئی قیادت میسر نہیں، بچی کھچی قیادت کو بھی 2018ء میں دھاندلی کے ذریعے ختم کر کے ایسے ویسے لوگوں کو جتوایا گیا جن کا شہر کے گلی کوچوںسے کوئی واسطہ نہیں ہے جو ڈیفنس سوسائٹیوں کے آباد کار ہیں مگر نمائندگی مضافاتی دیہاتوں اور کچی آبادیاںکی کرتے ہیں جس سے شہر کراچی کو مزید سیاسی، معاشی اور مالی نقصان پہنچتاہے جس کا ازالہ ماضی قریب میں نظر نہیں آرہا ہے یہ جانتے ہوئے کہ کراچی واقعی پاکستان کا مالی حب ہے۔ آمدن فراہم کرنے والا شہر ہے جس کو منصوبہ بندی کے تحت تباہ و برباد کیا جارہا ہے حالانکہ کراچی شہر بھی دنیا کے بڑے شہروں، ممبئی، کلکتہ ،نیویارک، لندن، ٹوکیو، ڈھاکہ، شنگھائی سے کم نہیں ہے جس کی آبادی تقریباً تین کروڑ اور آمدن کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے مگر مسائل کے لحاظ سے پاکستان کا کمتر اور نچلے درجے کاشہربن چکا ہے جس کو اب تین حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ایک حصہ ڈیفنس سوسائٹی، کلفٹن ہے جو امراء، تاجروں اور جنرلوں کا شہر کہلاتا ہے یہاں ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں۔ دوسرا پی سی ایچ سوسائٹی، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد جو مڈل کلاس کا شہر کہلاتا ہے تیسرا سب سے بڑا حصہ محنت کشوں، مزدوروں اور لوئر مڈل کلاس کا ہے جس کا صرف اور صرف اللہ حافظ ہے جس کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے جو گندگی کے ڈھیر تلے دب چکا ہے جس کے شہری اپنی زندگیوں سے تنگ آچکے ہیں جن کے پاس صاف پانی تو کجا پینے کا پانی ملنا مشکل ہو چکا ہے جو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے جس کا حل مشکل نظرآرہا ہے جس کے تدارک کے راستے بند کردئیے گئے ہیں تاکہ اہلیان شہر کا 80فیصد طبقہ صرف اور صرف اپنے مسائل میں الجھ کر صوبائی اور مرکزی معاملات سے دور رہے جو یہ جانتے ہیں کہ جب کراچی جاگ پڑا تو پورا ملک اٹھ کھڑا ہو گا جو پہیہ جام جیسی ہڑتال اور احتجاج کرے گا۔ لاکھوں کی تعداد میں جلسے، جلوس ہوں گے جس سے حکمرانوں کے ایوان، دربان اور بلوان ہل جائیں گے۔