ستانوے فیصد مسلم آبادی والے ملک میں ایک فرانسیسی سفیر سے اسلام کو خطرہ؟جاہل، گنوار پیش امام کے پیروکار ابوجہل سے کم نہیں!

267

ہم یہ بات شرطیہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا جہاں میں کسی بھی فرانسیسی سفیر کو آج تک اس قدر اہمیت حاصل نہ ہوئی ہو گی جتنی کہ آج کل پاکستان میں متعین فرانسیسی سفیر کو مل رہی ہے۔ اس ایک غیر اہم اور غیر متعلقہ شخص کی وجہ سے پاکستان میں تین دنوں تک خون خرابا ہوتا رہا ہے، کروڑوں کی نجی جائیدادیں تباہ کر دی گئیں، املاک کو نذر آتش کر دیاگیا، سڑکوں اور چوراہوں کو بند کر دیا گیا، سرکاری اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، چار پولیس والے جاں بحق ہو گئے، آٹھ سو پولیس اہلکار زخمی ہو کر داخل ہسپتال ہو گئے اور پھر خالی اس پر ہی بس نہ ہوا بلکہ پورے ملک کا پیر کے روز پہیہ جام کر کے ملک گیر ہڑتال کی گئی، وجہ صرف یہ کہ اس سفیر کے ملک کے ایک غیر معروف سے رسالے نے رسول اقدس، نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے خاکے شائع کر کے اپنی کج فہمی اور کم علمی کا مظاہرہ کیا۔ فرانس دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں اکثریت لوگوں کی بغیر شادی کئے رہتے ہیں اور آدھے سے زیادہ فرانس کی آبادی حرام کی اولاد پر مبنی ہے۔ یہ ملک اور اس کا ثقافتی پس منظر یہ ہے کہ وہاں براہ راست جنسی بے راہ روی اور جنسی ہم بستری کے مناظر دکھائے جاتے ہیں، یوں تو پورے یورپ اور امریکہ میں پیدا ہونے والے اکثر باشندوں کی ولدیت نامعلوم ہوتی ہے کسی بھی جگہ اور فارم، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ پر مسلم ممالک کے برعکس نہ باپ کا نام پوچھا جاتا ہے اور نہ ہی کسی بھی کارڈ یا پاسپورٹ پر درج کیا جاتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہاں یہ ہے کہ یہ وہ معاشرے ہیں جہاں پر انسانی اقدار، اخلاقیات، سماجیات اور مذہبیات اپنی شناخت کھو چکے ہیں اور وہاں پر جنگل کے قوانین رائج ہیں اور ان کی نسلیں کتے، بلیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں، ایسے میں اگر ان کی طرف سے کوئی اس قدر گھٹیا حرکت اور گراوٹ سے گری ہوئی حرکت کی جاتی ہے تو اس کی اہمیت ہے؟ بقول شخصے ’’ہوکیئرز‘‘ کیا ہمارے دین کو فرانسیسی رذیل ترین معاشرے کی طرف سے ان کی تصدیق نامے اور سرٹیفکیشن کی ضرورت ہے؟ کیا کبھی کسی گھٹیا ترین شخص کی طرف سے کسی ارفع ترین ہستی کیلئے دئیے گئے ریمارکس اور خاکوں کی بھی کوئی اہمیت ہونی چاہیے؟ کیا چاند کے منہ پر تھوکنے سے بھی چاند پر کوئی فرق پڑتا ہے؟افسوسناک بات یہ ہے کہ جس گنوار اور احمق شخص کے یہ پاکستان میں مظاہرین پیروکار ہیں وہ خود ایک بدزبان شخص ہے یعنی جاہل کے ماننے والے ابو جہل، اس شخص کو جو اوقاف کی ایک مسجد کا پیش امام ہماری مراد خادم حسین رضوی سے ہے ، دو رکعت پڑھانے کیلئے تنخواہ لیتا تھا حکومت سے، اس پیش امام کو بلکہ ہم کہیں گے کہ امام جہل کو حکومت نے ریاستی پالیسی کے خلاف گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی دئیے جانے کے بعد توہین رسالت کی آڑ میں اپنی حیثیت بڑھانے کیلئے پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں مسجد کی پیش امامی سے معزول کر دیا تھا۔ جس کے بعد اس نے دین برائے فروخت پر عمل کرتے ہوئے جلسے جلوس اور دھرنے لگانے شروع کر دئیے، ناموس رسالت کے نام پر حضور ﷺ کی شان میں وہ وہ گستاخیاں کیں کہ عام مسلمان انہیں سن کر شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ خادم حسین رضوی نے نبی اقدس کے پسینے، پیشاب اور پاخانے کے حوالے سے ایسی ایسی بے ہودہ باتیں کیں کہ فرانس تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ یقین نہ آئے تو انٹرنیٹ پر جا کر خادم رضوی ٹائپ کریں اور اس جاہل شخص کے تمام وعظ اور بیان ایک ایک کر کے آتے جائیں گے اور آپ اس جہالت پر سر دھنتے رہ جائیں گے۔ بدزبان ایسا کہ خدا نے اس کو دنیا ہی میں سزا دی اور دونوں ٹانگوں سے معذور کر دیا، پھر بھی نہ مانا تو اس کو کورونا کی وباء کے ذریعے اوپر اٹھا لیا مگر کیا کہتے ہیں کہ جیسا باپ ویسا بیٹا، اب اس کی بنائی ہوئی ’’تحریک لبیک پاکستان‘‘ کا سی ای او اس کا بیٹا سعد رضوی گدی نشین بن کر حکومت کو بلیک میل کررہا ہے۔ فرانسیسی سفیر ملک بدر ہو یا نہ ہو مگر ہماری منافقت کا یہ حال ہے کہ ایک پیش امام کے بیٹے کے کہنے پر ہڑتال کا اعلان کر دیا مگر اپنے رسول ﷺ کے کہنے پر ملاوٹ، جھوٹ اور ذخیرہ اندوزی سے پرہیز کرنے سے انکار کیا، جیسی قوم ویسا لیڈر!