تحریک لبیک سے جاتی امرا ء تک!

410

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے رد عمل میں ترک صدر اردگان نے صدر فرانس کو ذہنی مریض قرار دیا جو کہ ایک حکمران کی جانب سے دوسرے حکمران کے لئے ایک انتہائی سخت بیان سمجھا جاتا ہے لیکن ترکی نے فرانس کے سفیر کو نکالنے کا اشارہ تک نہیں دیا جبکہ پاکستان میں ایک مذہبی جماعت تحریک لبیک نے فرانس کے سفیر کو نکالنے کی شرط رکھ دی۔ یہ وہ اہم نقطہ ہے جس سے عوامی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے کہ حکومت پاکستان کو بھی اس قسم کی شرط کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے تھا اور اگر معاہدہ کر ہی لیا پھر عہد شکنی کی بجائے حکمت عملی سے معاملہ نبٹایا جاتا۔فرانس یورپی یونین کا بنیادی اور مضبوط ترین ملک ہے بلکہ فرانس اور جرمنی ہی یورپی یونین سمجھے جاتے ہیں ، فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مطلب یورپی یونین سے تعلقات ختم کرنا ہے ، یورپ ہی نہیں پوری عالم مغرب سے کھلی دشمنی مول لینا ہے۔ ناموس رسالت میں ترکی نے بھی ایسا کبھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا جو ترکی کی معیشت کو نقصان پہنچائے ، بس جذباتی بیانات کے زبانی جمع خرچ سے اسلامی نظریات کا تحفظ کیا جاتاہے مگر پاکستان میں پہلا قدم ہی سفیر نکالنے سے شروع ہوتا ہے جو کہ پاکستان کو معاشی طور پر ہی دیوالیہ کرنے کے لئے کافی ہے جبکہ دہشت گردی کے لیبل سے یہ جواز بھی مل جاتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں نہیں۔پاکستان کو انتہا پسند تنظیمیں چلا رہی ہیں۔ حکومت کی رٹ ختم ہو چکی وغیرہ۔ ابھی تحریک لبیک کا ایشو جاری ہے کہ لاہور رائے ونڈ جاتی امراء ا مسمار کرنے کا ایشو اٹھ کھڑا کر دیا گیا، ذرائع بتاتے ہیں کہ جاتی امرا ء کی غیر قانونی زمین کی مخبری بطور وعدہ معاف گناہ مسلم لیگ ن کے کھو کھر برادران نے کی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کھوکھر برادران کی اراضی کا قبضہ واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کھوکھر پیلس کو مسمار کرنے سے روکتے ہوئے اے ڈی سی آر کا حکم معطل کر دیا۔جاتی امرا ء پراپرٹی مسمار کرنے کا ایشو اس حساس موقع پر اٹھایا گیا جب تحریک لبیک سڑکوں پر ہیں اور اپوزیشن اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہی ہے۔ پہلے تحریک لبیک کے ایشو کو حکمت سے نبٹایاجاتا پھر جاتی امرا ء پر ہاتھ ڈالا جاتا۔ ملک پہلے ہی انتشار کا شکار ہے ، مہنگائی بیروزگاری کرونا نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے اوپر سے تحریک لبیک کے لیڈر کی گرفتاری اور اب مسلم لیگ ن کے لیڈر کے گھروں کو گرائے جانے کا مسئلہ ملک کو بد امنی کی طرف لے جا رہا ہے۔ ملک کو غیر مستحکم کرنے میں بے شک بیرونی ہاتھ ملوث ہیں اور بیرونی طاقتوں کی منصوبہ بندی کے مطابق پاکستان میں اندرونی شر پسند ہتھکنڈا بنے ہوئے ہیں مگر ملک کو بچانا اور اندرونی سازشوں پر قابو پانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں اس نے تاخیر کر دی۔ یہ وہی تحریک لبیک ہے جو 2017 میں تحریک انصاف کی ہیرو تنظیم تھی اور اسے نواز حکومت گرانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ اس وقت ختم نبوت بل سے متعلق علامہ خادم حسین رضوی کے ڈی چوک دھرنے کو عمران خان نے بھر پور حمایت کی۔ سب نے مل کر دھرنے بھی دئیے جلائو گھیرا ئو بھی کیا ادھم شور شرابہ بھی مچایا ، تین مہینے نواز حکومت اور عوام کو وخت ڈالے رکھااور ادارے خاموش تماشائی بنے رہے ؟ اس وقت تحریک لبیک اور تحریک انصاف ایک پیج پر تھے۔ لیکن اس وقت اداروں نے جاننے کی کوشش نہ کی کہ ان جماعتوں کو فنڈنگ کون کر رہا ہے۔ پھر تحریک انصاف حکومت میں آئی اور وہی اس کی ساتھی مذہبی جماعت تحریک لبیک نومبر 2020 ناموس رسالت کا مقدمہ لے کر پھر سڑکوں پر نکل آئی اور فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مطالبہ کر دیا ، اس وقت کی ساتھی جماعت تحریک انصاف جو آج حکومت میں ہے میں معاہدہ طے پا گیا اور یوں دھرنا ختم ہو گیا اور تحریک لبیک کے قائد علامہ خادم حسین رضوی اچانک انتقال کر گئے۔ معاہدہ کے مطابق فرانس کے سفیر کو 20 اپریل تک نکالنا تھا۔ ذرائع کے مطابق عمران حکومت نے تحریک لبیک کی قیادت سے مذاکرات کئے کہ حکومت کو کچھ مہلت دی جائے ،اس ماہ FATF کا اجلاس ہے اور پاکستان گرے لسٹ کا رسک لینے کی حیثیت میں نہیں۔ منی لانڈرنگ کے عالمی نگراں ادارے، فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس، FATF نے پاکستان کو دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے سے متعلق اپنی’ ’گرے لسٹ‘ ‘میں ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیرس سے آن لائن پریس بریفنگ میں FATF کے صدر Marcus Pleyer نے کہا کہ اسلام آباد نے پیش رفت کی ہے لیکن وہ اب بھی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ سے نمٹنے کے اپنے ایکشن پلان کی کمیوں کو پوری طرح دور نہیں کر سکا ہے۔ FATF نے کہا کہ اسلام آباد کو ایک دو چھ سات، اور ایک تین سات تین، قرار داد میں نامزد دہشت گردوں کے خلاف سفارش کردہ مالی پابندیاں مؤثر طور پر نافذ کرنی چاہئیں۔ اس نے کہا ہے کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کے ذریعہ نامزد کردہ دہشت گردوں اور اْن کے ساتھیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کا اظہار کرنا چاہیے۔۔۔ ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کی موجودہ قیادت سعد حسین رضوی نے لچک نہ دکھائی بلکہ اداروں پر برملا تنقید اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کئے رکھا جس پر معاملہ طول پکڑ گیا اور حکومت کو تحریک کی قیادت کو گرفتار کرنا پڑا اور ملکی سالمیت کی خاطر تحریک کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک لبیک اب ختم ہوگئی، تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ حکومت کا اپنا ہے۔ کسی بین الاقوامی طاقت یا ملک نے ہم سے اس ایکشن کامطالبہ نہیں کیا، فیصلہ اندرونی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے وزارت داخلہ، وزارت مذہبی امور اور صوبائی حکومتوں نے مل کر ایکشن لیا جو کامیاب ہوا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومتی رٹ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کے کارکن منظم طریقے سے پورے پاکستان میں نکل چکے تھے اور ان کا ارادہ پورے ملک کو یرغمال بنانا تھا۔ دوسری جانب حکومت کا موقف تھا کہ پاکستان پر بین الاقوامی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی چھاپ لگ گئی تو دشمن تر نوالہ سمجھ کر روند ڈالیں گے لہذٰا حکومت نے تحریک لبیک کی اشتعال انگیزی کو قابو کرنے کے لئے کالعدم قرار دے دیا۔ حکومتی ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ تحریک لبیک کی اشتعال انگیزی کو مسلم لیگ ن کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس حساس صورتحال میں جاتی امرا ء کے محلات کو مسمار کرنے کی حکومتی پالیسی سمجھ سے بالا ہے۔ یہ معاملہ جلتی پر تیل کا کام کر سکتا ہے۔ تحریک لبیک اور مسلم لیگ ن کے جذبات ایک پیج پر ہونے کے سبب اشتعال انگیزی مزید شر پسندی کو ہوا دے گی ، ایسے میں FTFT کے اجلاس میں پاکستان کی کیا حیثیت رہ جائے گی ؟