جس ڈال پر بیٹھے ہو اُسی کو کاٹ رہے ہو! ہوش کے ناخن لو!

271

غیروں سے پہنچنے والے دکھوں کا شکوہ تو کر سکتے ہیں لیکن جو زخم ان لوگوں نے دئیے جو بڑی اپنائیت کا ڈھونڈرا پیٹتے تھے، بچھو کی طرح ڈنک مارنے والے، جب گھائل ہوئے مڑ کر دیکھا تو اپنوں کے بھیس میں بھیڑیے تھے، انہیں چھوڑ دیا گیا، اتنا بڑا گروہ کرپشن میں ڈوبا ہوا تھا،لیڈران، ان کے زر خرید ،سہولت کار یہ تو بالکل ایسا ہی ہے ’’سانپ کے منہ میں چھچھوندر، نگلے تو کوڑھی اگلے تو کلنکھی‘‘ تو اس دیس کے باسیو سوچو کب تک خاموش رہ کر گناہ گار بنے رہو گے؟ ٹھیک ہے 40سالہ دور حکومت میں سب کچھ لٹ گیا، تمہیں بنیادی ضروریات سے نبرد آزما ہونے کے قابل بھی نہ چھوڑا گیا۔ رگوں سے سارا خون کشید کر لیا۔ اب بھوک، پیاس ہے۔ موت کا فرشتہ اردگرد چکر لگارہا ہے تو اس کا حل کیا ہے؟اس کا صرف ایک حل ہے جب کوئی ظلم، کوئی آفت، کوئی مصیبت آپڑے تو اس کے خلاف جہاد کیا جاتا ہے۔ اٹھو! جہاد کرو لاقانونیت کے خلاف، کرپشن کے خلاف، ڈوبتی معیشت کو بچانے کے لئے، اپنی اگلی نسلوں کو ان مسائل سے بچا لو جن سے تم نمٹ رہے ہو۔ بہت سو لئے اپنے پیروں پر خود کلہاڑا مارا۔ ان چوروں، ڈاکوئوں کو ملک کا رکھوالا بنا دیا۔ اپنے ووٹوں کو چند سکوں کی خاطر یا نا سمجھی، بے وقوفی کی وجہ سے ملک کو ان کمی کمینوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا! اللہ کے واسطے اب اپنی سرزمین کی بقاء کے لئے وقت کی لگام ان کے ہاتھوں سے چھین لو، موت سے مت ڈرو کیونکہ وہ تو آنی ہے۔ اگر چند جانیں قربان کر کے اگلی نسلوں کو بچایا جاسکے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔ تم بھوکے ہو، بے گھر بے در ہو۔ اب اس سے زیادہ خوفناک دبائو کیا ہو گا۔ تو پھر بہادری سے ان کا مقابلہ کرو۔ تمہاری خاموشی ان کو اور پھولنے پھلنے کا موقع دے رہی ہے جنہیں جھونپڑا بھی نصیب نہیں تھا وہ محلوں میں جابیٹھے جو گائوں سے شہروں تک نہیں آسکتے تھے وہ دیار غیر میں قیمتی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں۔ آرام دہ ہوائی سفر کررہے ہیں۔ حق مانگنے سے نہیں ملے گا۔ یہ بڑے ظالم، سفاک لوگ ہیں انہوںنے تمہاری رگوں سے خون نچوڑ لیا ہے۔ تمہارے بچوں کو نشہ پلارہے ہیں۔ زیادتی کے بعد قتل کررہے ہیں۔ ان افعال قبیح کی فلمیں ممالک غیر میں بھاری رقم میں بکتی ہیں۔
بیروزگاری، ادھوری تعلیم، بے ہنری نے یہ وقت دکھا دیا، بیوہ عورتیں، معذوری، بیماری، افلاس، بھوک سے بلکتے بچے جب مائوں سے نہیں دیکھے گئے اور بیچنے کے لئے کچھ نہ رہا تو راتوں کو سڑکوں پر گھومنے لگیں، عصمتیں بک گئیں، گاڑیوں والے لے جاتے ہیں، ایک کے نام سے استفادہ کتنے کرتے ہیں، یہ انجان ہیں، ان عورتوں کی کوئی سکیورٹی نہیں، انہیں مار کر پھینک دیا جائے تو کچھ پتہ نہ چلے۔ ’’یہ عورت مارچ‘‘ میں ناچتی، ٹھمکتی عورتوں کو یہ مظلوم نظر نہیں آتے۔ ان کا کام صرف اپنے جسموں کی نمائش کرنا، نیم عریاں لباس پہن کر اس کی نمائش کرنا۔اور شاعر کہتا ہے؎
سب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیا؟
وعدہ لپیٹ لو ،لنگوٹی نہیں تو کیا؟
اور کوئی کہتا ہے
تیرے وعدوں پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا!
ثنا خوان ِمشرق کہاں ہیں؟؟
ادھر یہ دو کوڑی کا ملا پھجا جسے نیب نے یاد کیا ہے تویہ داڑھی والا ڈاکو دھمکیاں دے رہا ہے کہ ’’میں چھٹی کا دودھ یاد دلا دوں گا‘‘ فائلوں کی دھجیاں بکھیر دوں گا۔ یہ ہوتی ہے ڈھٹائی، چوری اور سینہ زوری، الٹا چور کوتوال کا ڈانٹ رہا ہے۔ اس ملعون نے اپنی فوج بنا لی ہے۔ کئی مدرسوں کے طلبہ اس کی دسترس میں ہیں، یہ ہر وقت حکومت پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار رہتا ہے۔ ایسے مجرمان سے نمٹنے کے لئے عدالتی اداروں کو اور ملازمین کو تحفظ دیا جائے۔ کبھی وہ پھولن دیوی سڑکوں پر پتھر بھرے بیگ لے آتی ہے، پھجا اپنی دس ہزار فوج ان کے ساتھ بھیجنے کو تیار ہے۔ سکیورٹی کو سخت کیا جائے۔ عوام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ انہیں عدالتوں پر حملہ آورہونے سے سختی سے روکیں۔ ان ڈاکوئوں نے اپنے آپ کو بہت مضبوط کر لیا ہے۔ ایک بھاری اکثریت بے غیرتوں ،مردہ ضمیروں ،انسانی قاتلوں کی ان کے ساتھ ہے۔ کتنے بدنصیب ہیں یہ لوگ جنہوں نے ان قاتلوں، چوروں، ڈاکوئوں کو اپنا لیڈر بنایا ہے اور ان پر مر مٹنے کو تیار ہیں چونکہ ان کا اپنا مفاد بھی ان سے وابستہ ہے، چوری چکاری کے مال میں ان کا بھی حصہ شامل ہے۔ لعنت ہے ان پر اس ملک کے غریب عوام کو جھونپڑا بھی میسر نہیں اور یہ محلوں میں عیش کررہے ہیں۔
ابھی پی ڈی ایم کی تدفین مکمل نہیں ہوئی تھی کہ TPLیعنی تحریک لبیک اٹھ کھڑی ہوئی جس نے پورے ملک کا پہیہ جام کر دیا۔ اس ملک کو تباہ کرنے کی تیاری اپنے پرائے سب کررہے ہیں۔ ان احمقوں کو احساس نہیں کہ جس ڈال پر بیٹھے ہیں اُسے ہی کاٹ رہے ہیں۔ اس وطن کے مخلص لوگو! سمجھ لو کہ بہت بڑی سازش تمہارے خلاف کی جارہی ہے۔ پی ڈی ایم پھر آئی سی یو سے نکل آئی ہے۔ پھجے کو نواجے نے پھر نوازنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ دولت کی ریل پیل ہے، دو مذہبی جماعتوں کو عوام کے لہو سے سنیچا جارہا ہے۔ منزل اُ نہیں مل رہی ہے جو اس ملک کو بنانے کے جہاد میں شریک نہ تھے وہ دعوے دار بن بیٹھے۔ سندھ بھٹو کو مل گیا اور پنجاب کی بادشاہی نسلوں تک نواجے کے ٹبرکو دے دی گئی اور وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ پنجاب پر ان کا حق ہے۔ نواجا اوقاف کی وقف زمین بھی کھا گیا۔ پوچھو دفن کے لئے کتنی اراضی درکار ہے؟؟سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا،جب لاد چلے گا بنجارا !!