مریخ کی فضا سے آکسیجن بنانے کا پہلا تجربہ

480

 مریخ پر پہلا ہیلی کاپٹر اُڑانے کے بعد، ناسا نے اس سرخ سیارے کی فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آکسیجن بنانے کا سب سے پہلا تجربہ بھی کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔

یہ تجربہ مریخی گاڑی ’’پرسیویرینس روور‘‘ پر نصب خصوصی آلے ’’موکسی‘‘ (MOXIE) کے ذریعے انجام دیا گیا۔

’’موکسی‘‘ کا پورا نام ’’مارس آکسیجن اِن سیٹو ریسورس یوٹیلائزیشن ایکسپیریمنٹ‘‘ ہے؛ یعنی ایک ایسا آلہ جو مریخ پر دستیاب مقامی وسائل استعمال کرتے ہوئے اور وہیں رہتے ہوئے، آکسیجن تیار کرسکے۔

واضح رہے کہ مریخ کی فضا ہماری زمینی ہوا کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے جو تقریباً 95 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ہر سالمے (مالیکیول) میں ایک کاربن ایٹم کے ساتھ آکسیجن کے دو ایٹم جڑے ہوتے ہیں، جنہیں ایک دوسرے سے الگ کرکے آکسیجن حاصل کی جاسکتی ہے۔

’’موکسی‘‘ ابتدائی نوعیت کا مختصر تجرباتی آلہ ہے جس کا مقصد مریخی فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے مؤثر طور پر آکسیجن الگ کرنے والی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنا (ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشن) ہے۔

اس مرحلے میں کامیابی کے بعد، ان ہی اصولوں پر کام کرنے والے بڑے آلات بنا کر مریخ پر بھیجے جائیں گے۔

یہ سلسلہ بتدریج آگے بڑھاتے ہوئے، بالآخر اتنی بڑی مشینیں مریخ تک پہنچائی جائیں گی جو کم از کم چار انسانوں کےلیے سال بھر کی آکسیجن تیار کرنے کے قابل ہوں گی۔

ڈبل روٹیاں سینکنے والے گھریلو ٹوسٹر جتنے ’’موکسی‘‘ نے پہلے دو گھنٹے تک خود کو آہستہ آہستہ گرم کیا اور اپنا اندرونی درجہ حرارت 1470 ڈگری فیرن ہائیٹ (800 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچا دیا۔

پھر اس نے مریخ کی ہوا (کاربن ڈائی آکسائیڈ) جذب کرکے آکسیجن بنانا شروع کی اور تقریباً ایک گھنٹے میں 5.37 گرام آکسیجن تیار کرلی، جو کسی خلا نور کے 10 منٹ تک سانس لینے کےلیے کافی ہوگی۔