“ریڈ لائن” عبور نہ کریں، پوٹن نے مغرب کو خبردار کردیا

263

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سخت ترین الفاظ میں مغرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ “ریڈ لائن” عبور نہ کریں۔

قوم سے سالانہ خطاب میں روسی صدر نے بیلاروس کی حکومت کے خلاف مبینہ بغاوت کی سازش  کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس کے خلاف مغرب کی ناجائز پابندیوں کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے اور مغرب کی جانب سے بیلاروس میں بغاوت کی کوشش کی جارہی ہے۔

17 اپریل کو بیلاروس کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے صدر لیوکاشینکو کو قتل کرنے کا امریکی منصوبہ ناکام بنادیا ہے اور دو افراد گرفتار کیے ہیں۔ روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے کہا تھا کہ اس سازش میں مبینہ طور پر ملوث دو بیلاروس شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

صدر پوٹن نے کہا کہ روس تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن مغربی طاقتوں کی جانب سے روس کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی مستقل کوششیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم تعلقات کے پل نہیں جلانا چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی ہمارے اچھے ارادوں کو کمزوری سمجھتا ہے تو وہ سن لے کہ ہمارا رد عمل اس کے خلاف غیر متزلزل، تیز اور سخت ہوگا۔ ہم ہر معاملے میں اپنے لیے فیصلہ کریں گے کہ سرخ لائن کہاں کھینچنی ہے۔