اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی!

263

عمران خان کے مسائل کچھ ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں، جن پر ہم نے گذشتہ کالم میں بات کی تھی، اور کچھ ان کے ان دوستوں اور قریبی مشیروں کے پیدا کردہ ہیں جن پر ان کا تکیہ شاید ضرورت سے زیادہ ہی تھا۔ ان پر ہم آج بات کرینگے!
لیکن پہلے پرنس فلپ کی بات ہوجائے جو چند روز پہلے اس دنیا سے چلے گئے۔ ہم سمیت بہت سوں کو یہ قلق رہ گیا کہ وہ اپنی عمر کی سنچری بنانے سے بہت قریب تھے، دو مہینے دور تھے، کہ بلاوا آگیا۔ یہ فرشتہ ٔاجل بڑا بے مروت ہے جو ذرا سی بھی لگی لپٹی نہیں رکھتا۔ جب آجاتا ہے تو خالی ہاتھ نہیں جاتا اپنے ساتھ لے کے جاتا ہے سو بیچارے پرنس فلپ کو بھی جانا پڑا۔ لیکن اس میں کوئی کلام نہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کی اننگز بہت جم کے اور بہت خوب کھیلی۔ کیا ہوا جو وہ سینکڑہ بنانے کے اعزاز سے محروم رہے؟ ویسے بھی کسی دانا نے کیا خوب کہا تھا کہ اپنی زندگی کے سال مت گنو یہ دیکھو کہ تمہارے سالوں میں زندگی کتنی ہے!
سو اپنی زندگی میں پرنس فلپ نے اور بیشمار اعزازات حاصل کئے۔ ان کا سب سے بڑا اعزاز تو یہ رہا کہ انہوں نے برطانیہ کی تاریخ میں ایک ملکہ کے ہمدم و دمساز، جسے سرکاری اصطلاح میں کونسورٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ہونے کی حیثیت میں طویل ترین زمانہ گذارا۔ ملکہ الزبتھ سے ان کی شادی1947 میں ہوئی تھی جب ملکہ شہزادی تھیں اور وارثِ تخت بھی تھیں۔ پرنس فلپ کو بہت اچھی طرح سے معلوم تھا کہ اپنی شریکِ حیات کے مقابلے میں ان کی حیثیت ہمیشہ ثانوی رہیگی لیکن انہوں نے اس مجبوری کو، پروٹوکول کے رنگین اور خوبصورت فیتے سے بندھی ہوئی مجبوری، بسر و چشم قبول کیا اور ساری عمر، گویا کوئی تہتر برس، وہ ہر تقریب اور ہر ایسی جگہ پر جسے پبلک مقام کہا جاتا ہے، ملکہ سے دو قدم پیچھے چلتے رہے!
کسی برطانوی مبصر نے ان کی رحلت کے بعد ان کے مقام اور کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے بڑی اچھی بات کہی کہ پرنس فلپ زندگی بھر ملکہ کے پیچھے اس طرح چلتے رہے جیسے ہندوستانی معاشرہ میں بیوی شوہر کے پیچھے چلتی ہے!
ہمیں ذاتی طور پہ یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے پرنس فلپ کو دیکھا اور ان سے دو باتیں بھی کیں۔ 1959میں وہ پاکستان کے سرکاری دورے پر تھے تو کراچی میں ہمارے ڈی جے سائنس کالج بھی آئے تھے جہاں اس وقت ہم طالبعلم تھے۔ وہ ہماری فزکس کی تجربہ گاہ میں بھی آئے تھے جہاں ہم نے انہیں دیکھا اور ان سے بات کی۔ آج ہی ہمارے ایک دوست نے ہمیں وہ تصویر ارسال کی جسمیں وہ ہمارے عزیز از جان دوست سلمان نظامی سے کوئی سوال کررہے تھے۔ سلمان خواجہ حسن نظامی کا پوتا تھا اور ہمارا ہم جماعت اور جگری دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ناظم آباد میں ہمارا پڑوسی بھی تھا۔ اس تصویر نے بیشمار یادیں تازہ کروادیں اور کچھ زخم بھی کرید دئیے کہ سلمان عرصہ ہوا مرحوم ہوگیا اور آج اس کی تاریخی تصویر نے اس کی یاد کے سارے زخم کھول دئیے!
لیکن جو زخم ان دنوں عمران خان کی سیاسی شخصیت پر اور ان کی حکومت پر لگ رہے ہیں وہ تو بہت تازہ ہیں۔ پتہ نہیں کہ عمران کو اس کا کتنا احساس ہے کہ یہ زخم ان کیلئے اور ان کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کیلئے کیسے کیسے مسائل پیدا کررہے ہیں!
گذشتہ فروری میں پنجاب کے شہر ڈسکہ میں ایک ضمنی انتخاب میں جو افراتفری اور بے قاعدگی ہوئی تھی اس کی تمام تر ذمہ داری غیر جانبدار مبصرین نے پنجاب حکومت پر ڈالی تھی۔ پنجاب میں حکمراں جماعت عمران کی اپنی تحریکِ انصاف ہے اور وہاں عمران نے گذشتہ ڈھائی برس سے تمام تر مخالفت اور احتجاج کے باوجود اپنے جگری عثمان بزدار کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب سونپا ہوا ہے۔ پنجاب حکومت کی اس ضمنی انتخاب میں نااہلی پر الیکشن کمیشن نے اعتراض کرتے ہوئے ڈسکہ کے اس انتخابی حلقے میں از سرِ نو انتخاب کروانے کا فیصلہ کیا تھا اور تحریکِ انصاف کی اس فیصلے کے خلاف اپیل کو ملک کی عدالتِ عالیہ نے خارج کردیا تھا اور دوبارہ انتخاب کروانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر صاد کیا تھا۔
ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں تو ڈسکہ میں10 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخاب کا نتیجہ سامنے آگیا ہے اور نتیجہ وہی نکلا جس کا ڈر تھا یعنی تحریکِ انصاف کے امیدوار کو خاصی بھاری اکثریت سے نواز لیگ کی ایک خاتون امیدوارنے شکست دے دی ہے!
نواز لیگ کی نوشین افتخار کو یہ افتخار ملا ہے کہ انہوں نے وزیرِ اعظم کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے اپنے حریف کو چاروں خانے چت کردیا۔ نوشین افتخار انتخابی سیاست میں بالکل ناتجربہ کار اور طفلِ مکتب ہیں لیکن پاکستان کی سب سے بڑی لعنت ہی یہ ہے کہ وہاں ووٹ صرف برادری والوں کو دیا جاتا ہے یا پیسے والوں کو۔ یہ تو کوئی دیکھتا ہی نہیں، سوچتا ہی نہیں، کہ جس کو وہ ووٹ دے رہا ہے اس کا تعلیمی معیار کیا ہے، اس کا منشور کیا ہے، وہ عوام کی نمائندگی کرنے کا تجربہ اور صلاحیت بھی رکھتا ہے یا نہیں؟
یہ اندھا، بہرا، لنگڑا، لولا سیاسی کلچر نہ ہوتا تو کیا خیال ہے آپ کا کہ نواز کی خود سر بیٹی، مریم، یا زرداری کا خواجہ سرا بیٹا پاکستان کے مطلع سیاست کے تارے ہوتے!
ڈسکہ کی شکست یوں بھی عمران خان کیلئے شرمندگی کا باعث بنے گی کہ پہلے انتخابی معرکہ میں اس حلقہ میں دھاندلی کرتے ہوئے ان کی پارٹی پکڑی گئی تھی اور اب اس شرمناک شکست کے بعد ان کے مخالفین کو اپنی یہ گھسی پٹی لن ترانی پھر سے سنانے کا موقع مل جائے گا کہ اگر 2018کے انتخابات میں ان کے سر پر پاکستان کی رسوائے زمانہ اسٹیبلشمنٹ کا دستِ شفقت نہ ہوتا تو وہ کبھی وزارتِ عظمیٰ کا منصب حاصل نہ کرسکتے!
خیر ڈسکہ کی اس رسوائی پر تو وہ اور ان کے نقیب یہ کہہ کے پردہ ڈالنے کی کوشش کرینگے کہ ان کی پارٹی کے امیدوار کی ناکامی اس کا ثبوت ہے کہ پنجاب حکومت نے اس الیکشن کے عمل میں کوئی مداخلت نہیں کی نہ کرنے کی کوشش کی اسلئے کہ اگر مداخلت ہوئی ہوتی تو کیسے ممکن تھا کہ نواز لیگ، جو نواز کے بھانڈوں کا ایک ٹولہ ہے، اتنی آسانی سے یہ پالا مار لیتی؟
ڈسکہ کی چبھن تو چند روز میں جاتی رہیگی لیکن جو پھانس تحریکِ انصاف اور خاص طور پہ عمران کے پہلو میں دیر تک چبھتی اور ستاتی رہے گی وہ جہانگیر ترین کی ہے!
جہانگیر ترین عمران کی ناک کا بال تھے۔ ابھی چند روز ہوئے جب عمران نے کامران خان کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ سیاست میں اگر ان کا کوئی دوست تھا تو وہ جہانگیر ترین تھے! تو پھر کیا ہوا جو عمران اور ان کے جگری دوست میں وہ فاصلہ پیدا ہوا جو دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے؟ کیوں وہ خلیج پیداہوئی جو بہت تیزی سے ان کی قابلِ رشک دوستی کو دشمنی میں تبدیل کررہی ہے؟
کیا یہ وہ معاملہ ہے جس پر سر سید احمد خان کا یہ شعر ہے، جو ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا اور اس وقت سے ذہن سے محو نہیں ہوا، کہ؎
بڑھاؤ نہ آپس میں الفت زیادہ
مبادا کہ ہوجائے نفرت زیادہ
یا وجہ وہ ہے جسے مطلب کی یاری کہا جاتا ہے؟
جہانگیر ترین ایک تاجر ہیں، یا پاکستان کی زبان میں ذرا تکلف کے ساتھ یہ کہ لیں کہ بزنس مین ہیں جنہیں اپنا کاروبار اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والا زرِ کثیر ہر دوستی اور ہر رشتے سے پیارا ہے! یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ عمران اور جہانگیر میں کتنا خلوص، کتنی محبت، کتنا بھائی چارہ تھا یا ابتک ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران کے طویل اور صبر آزما سیاسی سفر میں بظاہر جس شخص نے ان کا سب سے زیادہ ساتھ دیا وہ جہانگیرترین ہی تھے۔ پاکستان بھر کو اس حقیقت کا بین ادراک ہے کہ جہانگیر ترین کی بے تحاشہ دولت اور وسائل سے عمران نے بھرپور استفادہ کیا۔ کون نہیں جانتا کہ عمران جہانگیر ترین کے ذاتی ہوائی جہاز میں ملک بھر میں اڑے پھرتے تھے اوران کی ہر انتخابی مہم میں جہانگیر ترین کی دولت اور وسائل نے بڑا کردار ادا کیا۔
عمران کا یہ سوچنا کہ جہانگیر ترین ان کے دوست تھے خلوص پہ مبنی ہوسکتا ہے اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ عمران کی اس سوچ پر شبہ کیا جائے لیکن جہانگیر ترین کی تاجرانہ سوچ ضروری نہیں کہ عمران کی مخلصانہ سوچ سے ہم آہنگ ہو۔ وہ کہاوت غلط نہیں ہے کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ جہانگیر ترین اگر عمران کا قد کاٹھ اونچا کرنے میں ان کی بھرپور مدد کررہے تھے تو صلہ میں انہیں اپنے کاروبار کیلئے عمران کی حکومت سے بھی تو فائدہ اٹھانا تھا۔
اب جہانگیر ترین پر الزام یہی ہے کہ انہوں نے شوگر مافیا کے ساتھ مل کر ملک سے پہلے اضافی شکر کو حکومت کے ایما سے برآمد کروایا۔ وہ عمران کے قریبی ساتھی تھے لہذٰا حکومت نے آنکھ بند کرکے اس کی اجازت مرحمت فرمائی۔ پھر شوگر مافیا نے شکر کی ذخیرہ اندوزی کی تاکہ شکر کی قیمتیں بڑھ جائیں اور ان کی تجوریاں بھرنے لگیں۔
یہ سب کچھ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ پاکستانی سیاست کا تو مزاج ہی کاروباری اور تاجرانہ ہے۔ شکر کی ملیں ننانوے فیصد سیاستدانوں کی ملکیت ہیں اور ان میں تین نام سرِ فہرست ہیں: زرداری، نواز شریف اور جہانگیر ترین۔
ترین صاحب کو شاید یہ خوش فہمی تھی کہ جیسے نواز اور زرداری کے ادوارِ حکومت میں دستور تھا کہ چوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو سرکار کی سرپرستی حاصل ہوا کرتی تھی اور وہ سرکار کی امداد سے اپنے کالے کرتوت کھل کے کھیلا کرتے تھے ایسا ہی ان کے ساتھ عمران حکومت میں معاملہ ہوگا لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی اسلئے کہ عمران نہ نواز کی طرح چوروں کا ساتھی ہے نہ زرداری کی طرح ساہوکاروں کا دلال۔ عمران نے کامران خان کے انٹرویو میں اپنی مجبوری کو بڑی صفائی سے بیان کردیا یہ کہہ کے کہ حکمراں میں اگر صداقت اور امانت نہ ہو تو پھر ملک میں خیانت ہی ہوا کرتی ہے!
عمران نے اپنی حکومت میں نواز اور زرداری کی تقلید نہیں کی بلکہ وہ کیا ہے جو ایک عادل اور منصف حکومت کو ہر حال میں کرنا چاہئے۔ معاشرہ سے اگر بے ایمانی اور خیانت کو ختم کرنا ہے تو احتساب کا عمل بے لاگ کرنا ہوگا۔ انصاف کا بنیادی اور کلیدی تقاضہ یہ ہے کہ وہ آنکھوں پر غفلت کی نہیں بلکہ غیر جانبداری کی نقاب پہن کر ادا کیا جائے۔ سو عمران نے یہی کیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے احتساب کی تلوار جہاں اوروں پر گری وہیں جہانگیر ترین بھی اس کی زد میں آگئے اور وہ جو ان کا گمان تھا کہ وہ عمران کے دستِ راست ہونے کی بنیاد پر احتساب سے محفوظ رہینگے وہ غلط ثابت ہوا اور یہ تلخ حقیقت ان سے ہضم نہیں ہورہی!
جوابِ آں غزل ترین صاحب وہی کچھ کررہے ہیں جو پاکستان کے دیمک زدہ سیاسی کلچر میں ہوتا ہے۔ وہ اب عمران کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عمران کے چند سیاسی حریف جو انہیں مطعون اور پریشان کرنے کی تاک میں رہتے ہیں اور نیوز میڈیا کے وہ بے ضمیر عناصر جن کی عمریں لفافہ صحافت میں گذری ہیں اب یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ ترین صاحب یا تو پیپلز پارٹی میں چلے جائینگے یا نواز لیگ میں چوروں سے ہاتھ ملا لینگے!
لیکن ترین صاحب اپنے تئیں ایک اور کھیل کھیل رہے ہیں اور یہ بھی کوئی نیا کھیل نہیں ہے۔ پاکستان کے بیمار سیاسی ناٹک میں یہ بھی بارہا آزمایا ہوا اور اوچھا ہتھیار ہے کہ جب اپنے کرتوتوں کے ہاتھوں اپنے پر زد آرہی ہو تو اپنے ساتھ اپنے جیسے چوروں کو ملاکر ایک ٹولہ بنالو جسے پریشر گروپ کا فینسی نام دیا جاتا ہے۔ سو ترین صاحب بھی پریشر گروپ بناکر عمران کو بالواسطہ دباؤمیں لانا چاہ رہے ہیں۔ بے ضمیروں کی تو پاکستانی سیاست میں کوئی کمی نہیں ہے ایک ڈھونڈو تو ہزار مل جائینگے۔ ترین صاحب کو بھی ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑی ان کے پاس تو ویسے بھی پیسے کی کمی نہیں جس کی چمک دمک نہ جانے کتنی نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے!
سو یہ لمحۂ فکریہ ہے عمران کیلئے جس میں انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ یہ تجربہ جس سے وہ گذر رہے ہیں ان کی پارٹی کیلئے اور پاکستان میں حکومت کیلئے کیا لیکر آسکتا ہے۔ ہمارا تو خیال یہ ہے کہ عمران کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے کہ انہیں اپنے ارد گرد جو لوگ ہیں ان میں سے کھرے اور کھوٹے کا شمار آجائے گا۔ یہ کسوٹی بنے گی ان کیلئے یہ جانچنے کی کہ کون ان سے مخلص ہے اور کون مطلبی اور موقع پرست ہے۔ یہ طے ہے کہ عمران کیلئے مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں اور اگر ترین صاحب تحریک انصاف سے چڑھتے سورج کے پجاریوں کا ایک گروہ نکال کر اپنے ساتھ لیجاتے ہیں تو عمران حکومت پر آنچ بھی آسکتی ہے لیکن یہی تو وقت ہے اپنے اور مطلب کے یاروں کے فرق کو سمجھنے اور پہچاننے کا۔ترین جیسے لوگ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس کیلئے حضرت حفیظ جالندھری نے کیا خوب کہا تھا:
دیکھا جو تیر کھاکے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی!