ڈسکہ میں پی ٹی آئی کی شکست عمران خان کے لئے نوشتہ دیوار ہے!

223

ن لیگ کی نوشین افتخار ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں کامیاب ہو گئیں جبکہ پی ٹی آئی کے علی امجد 19000سے زیادہ ووٹوں سے ن لیگ کی نوشین سے شکست کھا گئے۔ ن لیگ نے 111000سے زیادہ ووٹ اس حلقے سے حاصل کئے، بنیادی طور پر یہ حلقہ ن لیگ کا ہی تھا اور یہ سیٹ پہلے سے ان کے پاس تھی اگر غور سے حالات اور ووٹوں کا تجزیہ کریں تو علی امجد پہلے بھی پی ٹی آئی کے امیدوار تھے ، پچھلے الیکشن میں ان کو تقریباً 60ہزار ووٹ ملے تھے اور ن لیگ کے امیدوار کو 90ہزار سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ اس مرتبہ یہ الیکشن دونوں پارٹیوں کیلئے ناک کا مسئلہ بن گیا تھا۔ پی ٹی آئی ہر قیمت پر یہ سیٹ حاصل کرنا چاہتی تھی، ایک تو وہ ن لیگ پر نفسیاتی برتری حاصل کرنا چاہتی تھی دوسرے پنجاب اسمبلی میں اپنی ایک سیٹ بھی بڑھانا چاہتی تھی۔ تیسرا یہ تاریخ رہی ہے کہ ضمنی انتخاب میں زیادہ تر حکمران جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے۔ بہت کم اپ سیٹ ہوتے ہیں لیکن یہ معرکہ بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ عمران خان 20یا 22حلقوں میں الیکشن کرانے کی بات کررہے تھے انہوں نے متواتر الیکشن کمیشن پر تنقید کی چیف الیکشن کمشنر ن لیگ کے بندے کو لگا کر شائد ان کو اب افسوس ہو رہا ہو گا۔ راجہ صاحب ان کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں۔ عمران نہ ان کو ہٹا سکتے ہیں اور نہ ان کے خلاف کوئی ایکشن لے سکتے ہیں۔ ان کوآئینی تحفظ حاصل ہے۔ اس حلقے میں سپریم کورٹ کی مداخلت نے بھی بہت اہم رول ادا کیا۔ جب وہاں پر وکیلوں کے دلائل چل رہے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عدلیہ صرف ان ہی 20یا 22حلقوں میں الیکشن کرانے کا فیصلہ برقرار رکھے گی لیکن آخری دن نقشہ بدل گیا اور سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا اور پورے حلقے میں الیکشن کرانے کا حکم دیا جس کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔ عمران خان کی ٹیم دوبارہ اپنی پارٹی کو کامیاب نہ کراسکے اور جتنی شرمندگی عمران خان اور پارٹی کو اٹھانی پڑ رہی ہے اس کا اندازہ صرف پارٹی کے دوسرے لوگ یا پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔
عمران خان چاہے جتنا نظر انداز کریں اور ان کے وزیر یہ دعویٰ کریں کہ یہ تو ن لیگ کی ہی سیٹ تھی اور ان کو ہی کامیاب ہونا تھا اگر نوشین افتخار کامیاب ہو گئیں تو کوئی خاص بات نہیں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ پارٹی کو بری طرح نقصان ہوا ہے۔ ان کاامیج خراب ہوا ہے۔ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ جو الیکشن آفیسر غائب ہوئے تھے ان کو پی ٹی آئی نے ہی غائب کروایا تھا۔ پولیس اور انتظامیہ کے لوگ پی ٹی آئی کے امیدوار کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور جان بوجھ کر شکست کو سامنے دیکھ کر ہنگامہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی حکومت ہی ہے۔ عمران خان اپنی اور پارٹی کی ان ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتے۔ اس دوبارہ ضمنی الیکشن نے یہ بات ثابت کر دی کہ پی ٹی آئی کے امیدوار کی ڈسکہ میں مقبولیت کم تھی جس کو پارٹی اور عمران خان دونوں کو سوچنا پڑے گا۔ ساتھ ساتھ عمران خان کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے بھی کان کھینچے کہ وہ کیسا نااہل وزیراعلیٰ ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی الیکشن ہار گئی اور دو بار ہاری، پہلے بھی ہار رہی تھی جب ہنگامہ شروع کیا گیا۔ دوبارہ بھی ہاری جب رینجرز بھی اس ایریا میں موجود تھی۔
یہ الیکشن عمران خان کے لئے نوشتہ دیوار ہے۔ آگے ان کے اور ان کی پارٹی کے ساتھ کیا ہونے والا ہے پی ڈی ایم تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی لیکن خود عمران خان کی حکومت ہی ان کی دشمن ہو گئی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، قانون کے مسائل نے عمران حکومت کو حد سے زیادہ غیر مقبول بنا دیا ہے۔ ڈھائی سال کی عمران کی کارکردگی حد سے زیادہ ناقص رہی ہے۔ پورا دور حکومت برائی کی طرف گیا ہے۔ لوگ ان سے اچھائی اور تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے تھے لیکن حالات اس کے الٹ ہی ہوتے گئے۔ بجلی مہنگی، گیس مہنگی، پٹرول مہنگا، سبزی مہنگی، گوشت مہنگا ہر طرف چیخ و پکار مچی ہوئی تھی۔ انسان اور عوام بے بس ہو گئے ہیں مہنگائی کے ہاتھوں۔ شاید عمران خان کی سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ اس پر قابو کیسے پایاجائے۔ حکومت اپنی غیر مقبولیت کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ یہ سب باتیں مل کر عمران کو آئندہ الیکشن اور حکمرانی سے بہت دور کرتی جارہی ہیں۔ عمران کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر یہی حالات رہے تو یہ اسکا پہلا اور آخری دور حکومت ہو گا۔