علم

212

ابتدائے آفرینش سے ہی انسان میں جستجو کا جذبہ رہا ہو گا، ابتدا میں اشیاء کو دیکھنااور حیرت کااظہار، پھر ان کو چھونا، محسوس کرنا، برتنا، یہ سب علم کا ہی حصہ تھا پھر مظاہر قدرت کو دیکھنا، ان کی حرکات و سکنات کا تجربہ اور ان پر غور و خوض ،مادہ سب سے پہلے انسان کی جستجو کا محور بنا، پھر صدیوں کے سفر کے بعد کہیں انسان نے اپنے مسائل پر غور کرنا شروع کیا ان میں اس بات پر بھی غور شامل تھا کہ انسان کو کس نے پیدا کیا اور یہ کائنات کس نے بنائی، جوں جوں وقت گزرتا گیا انسان اپنے مسائل پر غور کرنے لگا، یونان سے علم پھوٹا تو یونان نے علم ساری دنیا کو بانٹا، انسانی مسائل پر سوچا، ان کا حل دینے کی کوشش کی پہلے پہل خاندان، فرد اور نظام پر یونانی فلسفیوں نے ہی اپنے خیالات کو دنیا تک پہنچایا، خیال آتا ہے کہ اس وقت کے اہل فلاسفہ نے اتنا مکمل حل دیا کہ اب پانچ ہزار سال بعد بھی ان کی سچائی پر ایمان لانا ہی پڑتا ہے قبل مسیح عظیم حکومتوں کا قائم ہونا، ان کو بہ حسن و خوبی چلانا اور ملک کے ہر علاقے کی خبر گیری اور انتظام و انصرام کوئی مذاق تو تھا نہیں، تعصب رکھیں اپنی نظر میں تو کم ہی نظر آئے گا، ہزاروں سال پہلے اشوک چندر گپت موریا کی عظیم حکومتیں ایک معجزہ لگتا ہے چانکیہ کو ہندومان کر مسترد کر دینا کوئی اچھا عمل نہیں ہے، اس کے فلسفہ کو جو حکومت کاری حوالے سے تھا قابل غور ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتااس کے خیالات کی جھلک ابنِ خلدون اور میکاؤلی کے نظریات میںملتی ہے، اس کے خیالات چونکا دیتے ہیں، علم کسی کی میراث ہر گز نہیں، انسانی مسائل پر مذہب نے بہت بعد میں ہزاروں صدیوں کے بعد رائے دینا شروع کی یہ دنیا، یہ کائنات تو 4.5بلین سال سے ہے۔ مذہب سے پہلے بھی فکر کی جاتی تھی سوچا جاتا تھا اور مسائل کے حل دئیے جاتے تھے، مذہب کی بات بعد کی بات ہے۔کہا جاتا ہے کہ علم وہاںپھلتا ہے جہاں انسان مسائل میں الجھ جاتا ہے، امریکہ اور آسٹریلیا تک تو بہت بعد میں رسائی ہوئی، یورپ اور ایشیا میں زندگی رواں دواں تھی، ایک عرصے تک افریقہ تک نظر نہیں گئی، یورپ میں زندگی برف باری اور غذائی قلت کے سبب مشکل تھی مگر ایشیا میں گرم موسم، پانی کی بہتات اور زرخیز مٹی نے زندگی آسان بنا دی تھی، اسی لئے اس براعظم میں فلاسفر کم پیدا ہوئے مگر سوچ کا یہ سفر کسی نہ کسی طور یورپ میں جاری رہا، ایشیا اور افریقہ کبھی اپنی جغرافیائی حدود سے باہر نہیں نکلے مگر نوآبادیاتی نظام نے استعماریت کو سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کا موقع دیا، انقلاب فرانس نے مدد کی سائنس ان کا ہتھیار تھی اور استعماریت آہستہ آہستہ ایشیا اور افریقہ کو نگلنے لگی اس کا سبب یہی تھا کہ ان دو براعظموں کو علم اور سائنس کی کمک نہ مل سکی اور وہ اس استعماریت کا مقابلہ نہ کر سکے، ہندوستان کی مثال لیجئے یہاں کوئی مرکزی حکومت تھی ہی نہیں، سارا ملک نوابی اسٹیٹس اور راجواڑوں میں بٹا ہوا تھا اور عجیب بات تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے چند ہزار کارندے ملک کے مختلف حصوں پر قبضہ کرتے چلے گئے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے مقامی لوگوں پر مشتمل فوج بنائی اور پورے ملک پر قبضہ کر لیا، برطانوی حکومت نے تو بہت بعد میں کنٹرول سنبھالا، یہ علاقہ جس کو ہم برصغیر کہتے ہیں ہزار سال سے حملہ آوروں کی گزر گاہ تو رہا مگر اس دوران کوئی فلسفی پیدا نہ ہوا اور نہ ہی کوئی سائنس دان یہ تو انگریزی تعلیم کا کرشمہ تھا کہ انہوں نے کچھ اچھے لوگ برصغیر کی جھولی میں ڈال دئیے اور تقسیم کے بعد میدان پھر صاف، ہم وہ تسلسل بھی برقرار نہ رکھ سکے، یہ سچ ہے کہ بنو امیہ کی نام نہاد خلافت سے عثمانیہ سلطنت تک کوئی کام سائنس اور علم کے نام پر نہ ہو سکا اس پورے دور میں جو بھی سائنس دان اپنی ذاتی حیثیت میں ابھرا اس کے حصے میں رسوائی اور ذلت ہی آئی، طرفہ تماشا یہ ہوا کہ یونانی فلسفہ مسلمانوں نے اس ہاتھ لیا اور دوسرے ہاتھ سے مغرب کو پکڑا دیا، امام غزالی اس سے متاثر تو ہوئے مگر خلیفہ کے کوڑوں سے ایسے ڈرے کہ اس سے تائب ہو گئے ترکی حکومت کے ایک مفتی نے چھاپہ خانے کو ہی حرام قرار دے دیا اور علم کا سفر رک گیا، سائنس سے ہماری دلچسپی کبھی تھی ہی نہیں، مسلمانوں کو قلعے اور عمارتیں تعمیر کرنے کا شوق رہا اور جیسے ہی استعماریت علم اور سائنس لے کر حملہ آور ہوئی تین براعظموں پر پھیلی سلطنت بلبلے کی طرح بیٹھ گئی، بنوامیہ کی خلافت سے سلطان عبدالحمید تک نہ کوئی یونیورسٹی بنی نہ کوئی رصد گاہ۔استعماریت کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ ایشیااور افریقہ میں جدید علم کی روشنی پھیلی اور لوگ علم اور سائنس سے بہرور ہوئے اور پہلی بار احساس ہوا کہ نیا علم اور سائنس ان کی حالت بدل سکتی ہے مگر یہ شعور آنے تک استعماریت تمام نوآبادیات میں ایک ایسا طبقہ پیدا کر چکی تھی جو ملک کو ترقی کی راہ پر چلنے سے روکے، پاکستان میں یہ کام دینی حلقوں فیوڈل لارڈز اور بعد میں فوج نے انجام دیا، کمال ہوشیاری سے مسلمانوں کو اس بات پر ایمان کامل رکھنے کی جانب مائل کیاگیا کہ ہمیں قرآن کی موجودگی میں کسی اور علم کی ضرورت نہیں،یہ بات ایمان کا درجہ حاصل کر گئی اب قرآن ناظرہ، حفظ قرآن اور علم ہی کافی تصور کیا جاتا ہے، کرونا کو پھیلے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا مگر آج بھی عوام سمجھتے ہیں کہ نماز پڑھنے اور دعا کرنے سے کرونا چلا جائے گا یاویکسین لگوانے سے ایمان میں خلل پڑ جائے گا یا پھر انسان روبوٹ بن جائے گا، ایک کہانی بتائی جاتی ہے کہ اقبال جب انگلیڈ میں زیر تعلیم تھے تو کسی نے ان سے کہا تھا کہ یہاں کیا لینے آئے ہو تمہارے پاس تو قرآن موجود ہے وہ تمہارے لئے کافی ہے ممکن ہے یہ بات طنزیہ انداز میں یا استہزا کی صورت کہی گئی ہو مگر یار لوگوں نے اس سے ایک سیاسی بات نکال لی اب اکثریت یہی ایمان رکھتی ہے کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے اور اگر یہ بات اقبال کے حوالے سے سنائی جائے تو اس پر ایمان پختہ ہو جاتا ہے۔
صدیوں تک PERSIAN WISDOMہماری رہنمائی کرتے رہے اس وقت تک مادی علم سائنس اور ٹیکنالوجی نے ہندوستان میں قدم رکھا تھا، پھر بھی معتزلہ سمیت دیگر فلسفوں سے دوری ہی اختیار کی گئی کبھی منطق، درسِ نظامی کا حصہ تھی پاکستان کے دینی بقراطوں نے اس کو بھی درس نظامی سے نکال دیا، مثنوی مولانا روم سینکڑوں سال تک منبر سے لہک لہک کے سنائی جاتی رہی اور بتایا گیا کہ قصیدہ بردہ شریف کئی بیماریوں کاعلاج ہے اور اس کا ورد کیا جائے، پیروں اور فقیروں پر اعتقاد ایسا تھا کہ خدا کی پناہ، دعا، وظیفے، دھا گا اور جھاڑ پھونک کا کاروبار عروج پر رہا، یہ تو اب جا کر آواز اٹھنی شروع ہوئی ہے کہ یہ سب نوٹنکی ہے اسلام کا تعلق صرف اصول دین سے ہے، یہ بات آج بھی سمجھ نہیں آرہی کہ پرشین وزڈم اب کام کی نہیں رہی آئوٹ ڈیٹیڈ ہو چکی ہے، تمام سماجی علوم بھی اب سائنس کی روح کو قبول کر چکے، APPLIED KNOWLEDGEکونئے سانچے میں ڈھال لیا گیا، معاشیات، نفسیات، سیاسیات اور تاریخ بھی سائنسی روپ اختیار کر چکے، ان کے اول بھی طے کئے جا چکے، شماریات نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ PROBABILITYاب زندگی کا حصہ ہے اور سائنسی بنیادوں پر چند اشاریوں کی مدد سے بڑے بڑے راز کھول دئیے جاتے ہیں، مذہب پر بھی سائنسی بنیادوں پر ریسرچ جاری ہے مگر استعماریت نے مذہب کو اعتقاد کا رنگ دے کر نو آبادیات میں جو کھیل کھیلا ہے وہ انوکھا ہے ۔سب سے بڑی رکاوٹ ، وہ یہ ہے کہ جو آیا اس نے مذہب کے سہارے ہی حکومت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، بھٹو قوم کے گلے میں اسلامی جمہوریہ کا طوق لٹکا یا گیا اور یہ بھی کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو گا، پھر قادیانیوں کو کافر قرار دے کر اس نے مسلک میں ملائیت کو مسلط کر دیا، عمران لنگر خانوں سے باہر نہیں جارہے ان کو ادراک ہی نہیں کہ کارخانے ملک کی ضرورت ہیں، ایسے اقدام کر کے ایک تو ملک کی ترقی کو روکا جارہا ہے عوام روٹی کو ترسیں مگر فوجی اور ملا پیٹ بھر کر روٹی کھاتا ہے۔