مافیاز ہر ملک میں ہوتے ہیں!!

222

آجکل پا کستان میں مافیا جن معنوں میں استعمال ہو رہا ہے اس قسم کے مافیاز ہر ملک میں ہوتے ہیں اٹلی کے شہر سسلی میں انیسویں صدی میں پائے جانے والے مافیا کا تعلق خطرناک اخلاقی جرائم سے ہوتا تھا ان میں قتل مقاتلہ‘ چوری‘ ڈاکہ‘ جوا‘ اغوا برائے تاوان ‘ سمگلنگ ‘ رقم کی غیر قانونی وصولی اورمنشیات کا لین دین شامل تھے ‘ اٹلی میں ان مافیاز کا آغاز اس وقت ہوا جب اطالوی معاشرہ جاگیر دارانہ سماج کو چھوڑ کر سرمایہ دارانہ نظام میں شامل ہو رہا تھا فیوڈلزم میں اشرافیہ کی جاگیریں ہوتی تھیں جن میں وہ اپنے من پسند قوانین اپنے مسلح اہلکاروں کے ذریعے نافذکرتے تھے سرمایہ دارانہ نظام اپنے ساتھ مافیاز لیکر آیا کوئی بھی مافیا شروع میں ایک خاندان پر مشتمل ہوتا ہے بعد ازاں اس میں دوسرے طاقتور خاندان بھی شامل ہو جاتے ہیںبڑے شہروں میں ہر مافیا خاندان کی اجارہ داری شہر کے ایک مخصوص علاقے پر ہوتی ہے یہ لوگ خود کو باعزت اور بلندمرتبت سمجھتے ہیں لیکن عوام الناس انہیں جرائم پیشہ کہتی ہے بیسویں صدی میں جب یورپ سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر کے امریکہ جانے لگے تو Sicilian Mafia کے بیسیوں خاندان بھی اٹلی چھوڑ کر امریکہ کے مختلف شہروں میں آباد ہوگئے وہاں انہوں نے اپنا پرانا دھندہ زورو شور کیساتھ شروع کردیا انہوںنے ریاست امریکہ کو ایسے ناکوں چنے چبوائے کہ اس کی سٹی گم ہو گئی اس عفریت کو قابو میں لانے کیلئے امریکی پولیس کو کئی عشروں تک ایڑی چوٹی کا زور لگا نا پڑا ان ما فیاز نے بعد ازاں ریاست سے خوفزدہ ہو کر رفتہ رفتہ اپنا طریقہ واردات بدل دیا بیسویں صدی کے وسط میں انہوں نے ذخیرہ اندوزی‘ سٹہ بازی اور منافع خوری شروع کر دی اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا سرمایہ کاروبار‘ صنعتوں اور سٹاک ایکسچینج میں لگا نا شروع کر دیا اس میدان میں انہیں قابو میں رکھنے کیلئے حکومت نے ان پر بھاری ٹیکس لگا دئے جو انکے لئے کوئی زیادہ بڑی قیمت نہ تھی پھر یہ لوگ ریاستی اور قومی اسمبلیوں کا حصہ بن گئے ان ایوانوں میں انہوں نے ایسے قوانین بنائے جنکی روح سے انہیں نہ صرف ٹیکس کی مد میں بڑی چھوٹ ملی بلکہ انہوں نے کئی دیگر مراعاتیں بھی حاصل کر لیں سرمایے کی اس کھینچا تانی میں امریکہ اور یورپ کی سرمایہ دار حکومتوں نے انہیں بڑے صبر و تحمل سے ہینڈل کیا انہیں چور ڈاکو اور لٹیرا کہنے کی بجائے ان سے قانونی طریقے سے معاملات طے کئے انہیں جیلوں میں ڈال کر مجرم بنانے کی بجائے سٹیک ہولڈر تسلیم کر لیا گیا مغربی ممالک کے قانون ساز اداروں میں ایک بڑی تعداد شرفاء اورعزت مندافراد کی ہے لیکن ان میں آج بھی لالچی اور خود غرض سیاستدانوں کی کمی نہیںیہ طبقہ اپنا مفاد قانون کے دائرے میں رہ کر حاصل کرتا ہے جو بائیڈن کے امریکہ میں آج بھی انہیں قابو میں رکھنے کیلئے نئی قانون سازی ہو رہی ہے
وطن عزیز میں جن لوگوں کو گذشتہ تیرہ برسوں سے مافیا کہا جا رہا ہے وہ اس گھنائونے لفظ کے لغوی معانی پر پورا نہیں اترتے ‘ جہانگیر خان ترین‘ خسرو بختیار‘ عامر کیانی‘ رزاق دائود اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بیسیوں دوسرے سرمایہ دار قانونی اور غیر قانونی طریقوں سے مال سمیٹنے کے سزاوار تو ٹھرائے جا سکتے ہیں مگر ان پر پست درجے کے وہ اخلاقی جرائم جن میں Sicilian Mafia ملوث تھا میں شامل ہونے کے الزامات نہیں لگائے جا سکتے تحریک انصاف کی وضح کردہ ملزموں کی اس فہرست میں شریف فیملی‘ زرداری قبیلہ‘ چوہدری برادران کے علاوہ ان چار سو افراد کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جن کے نام پاناما سکینڈل میں اب تک شامل ہیں آجکل جنہیں شوگر‘ آٹا‘ گھی‘ بجلی اور ادویات مافیا کہا جا رہا ہے وہ بھی ملزموں کی اس طویل فہرست میں شامل ہیں اگر ہم غصے اور جذبات سے چند لمحوں کیلئے نجات حاصل کر کے سوچیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وزیر اعظم عمران خان طاقتور اداروں کے قابل رشک صفحے پر ہونے کے باوجود ان سات آٹھ سو طاقتور خاندانوں پرہاتھ ڈال سکیں گذشتہ ڈھائی سالوں میں حزب اختلاف کے لیڈروں کو دھڑا دھڑ جیلوں میں ڈال کر کتنے مقدمات کا فیصلہ سنا دیا گیاکتنے ارب یا ملین ڈالر ان سیاسی ملزموں سے وصول کر لئے گئے اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ جہانگیر ترین جب عدالت جاتے ہیں تو انکے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے ترین صاحب کا تحریک انصاف میں جو اثر رسوخ ہے اس پر درجنوں کالم شائع ہو چکے ہیں انہیں بھی شریف خاندان کے مردو زن ‘ نون لیگ کے نامی گرامی لیڈروںاور زرداری فیملی کی طرح جیلوں میں تو ڈالا سکتا ہے لیکن نہ تو اگلے دو تین سالوں میں ان پر کوئی مقدمہ ثابت کیا جا سکے گا اور نہ ہی انکے بینک اکائونٹس سے کوئی وصولی ہو سکے گی آ خر دنیا دیکھ رہی ہے اور ہماری عدلیہ نے ہر ہائی پروفائل مقدمے میں یہ ثابت کرنا ہے کہ اس نے ہر فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق کیا ہے خان صاحب ایسے اندھے احتساب کو نافذ کرنا چاہتے ہیں جسے صرف جنگل کے قانون کے تحت ہی لاگو کیا جا سکتا ہے وزیر اعظم صاحب کا قصور اس لئے نہیں کہ ایک تو امور مملکت میں انکا تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے اور دوسرا انہوں نے احتساب کا نعرہ صرف دو بڑی سیاسی جماعتوں کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے لئے لگایا تھا انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اس سفر کا اگلا اور اہم ترین پڑائو انکی اپنی جماعت ہو گا اس راستے پر چلتے چلتے وہ ایک ایسے مقام پر آگئے ہیں جس کے بارے میں منیر نیازی نے کہہ رکھا ہے کہ
نہ جا کہ اس سے پرے دشت مرگ ہو شائد
پلٹنا چاہیں بھی تو راستہ ہی نہ ہو!
اب جہانگیر ترین ہزار کہیں کہ وہ تحریک انصاف کو نہیں چھوڑنا چاہتے‘ وہ تو دوست ہیں انہیں دشمنوں کی صف میں نہ دھکیلا جائے لیکن وہ یہ میٹھی میٹھی باتیں آخر کب تک کرتے رہیں گے جب انکے گرد احتساب کا گھیرا تنگ ہوا اور جیل میں انہیں ‘ انکے صاحبزادے اور داماد کو دوچار ماہ گذارنا پڑ گئے توپھر تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق وہ اپنے کم از کم تیس وفادار اراکین اسمبلی کا ٹرمپ کارڈ کھیلنے پر مجبور ہو جائیں گے خان صاحب ظاہر ہے کہ کشتیاں جلانے کے موڈ میں نظر آرہے ہیں مگر وہ اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کربھی دیتے ہیں توپھر اس صورت میں احتساب کا کیا بنے گا اور انکے ستائے ہوے مخالفین اگر انتخابی معرکے جیت کر اسمبلیوں میں واپس آجا تے ہیں تو پھر احتساب کن کا ہو گا اور اس سارے فساد اور ہنگامے کی ریاست اور عوام کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی اس صورتحال کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ ہوش کے ناخن لئے جائیں سب سے پہلے لفظ مافیا کا غیر ضروری ‘ غلط اور نا مناسب استعمال ترک کیا جائے پھر ان تمام ’’ملزمان‘‘ کو مافیا کہنے کی بجائے انہیں سٹیک ہولڈر سمجھ کر ان سے بات چیت کی جائے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر فیصلے کئے جائیں یہ کام مغربی ممالک میںTruth and Reconciliation Commission بنا کر کیا جاتا ہے ‘ جو بائیڈن امریکی اشرافیہ سے آجکل کیسے معاملات طے کر رہے ہیں اس کا ذکراگلے کالم میں ملاحظہ فرمائیے۔