بلاول، مریم اور ایمل ولی کے درمیان مکالمہ

310

پچھلے چند ہفتوں سے سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے بعد بلاول، مریم اور ایمل ولی کے درمیان اپنے آبائو اجداد کے لحاظ سے مکالمہ بازی کاسلسلہ جاری ہے جو ایک دوسرے کو سوالات اور جوابات دے رہے ہیں کہ جب بلاول نے مریم سے کہا کہ آپ لوگوں کا خاندان اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے کہ جس میں نواز شریف نے جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی تھی جن کے دور آمریت میں وہ وزیر اور وزیراعلیٰ بنتے رہے۔ بعدازاں میری والدہ کے خلاف آئی جی آئی بنائی تھی، میری والدہ کی حکومت گرانے میں آپ کے والد نواز شریف شریک رہے ہیں۔ جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کر کے سعودی عرب چلے گئے۔ آج پھر بیماری کے بہانے لندن جا کر مقیم ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جس کا مریم نے جواب دیا کہ اگر میرے والد جنرل ضیاء الحق کے ساتھ رہے ہیں تو آپ کے نانا حضور زیڈ اے بھٹو گورنر جنرل سکندر مرزا کے وزیر بنے جنہوں نے 1956ء کا آئین منسوخ کیا تھا۔ آپ کے نانا گیارہ سال تک جنرل ایوب کے وزیر خارجہ اور پالیسی میکر ،فاطمہ جناح کے مخالف، کنونشن لیگ ایوبی کے سیکرٹری جنرل رہے۔ جنرل یحییٰ خان کے ڈپٹی وزیراعظم بنے جس کے بعد وہ جنرل یحییٰ کے مندوب بن کر اقوام متحدہ میں پیش ہوئے تھے۔ بلاول نے کہا کہ آپ کے والد نے اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بن کر ملک پر خلافت نافذ کرنے کی کوشش کی تھی ۔مریم نے کہا کہ آپ کے نانا نے ملک کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی جس کی صوبہ پختونخوا اور صوبہ بلوچستان میں حکومت تھی اسے ختم کر کے پارٹی پر پابندی عائد کر دی، ملک پر ساڑھے چار سال ایمرجنسی ، ڈی پی آر اور دفعہ 144کا نفاذ رہا تھا۔ بلاول نے کہا کہ آپ کے والد میری والدہ کی حکومت کو دو مرتبہ گرانے میں پیش پیش تھے۔ مریم نے کہا کہ آپ کی بھی والدہ جنرل کاکڑ اور جنرل مشرف کی ساتھی تھی جس کی وجہ سے دو مرتبہ میرے والد کی حکومت بھی گرائی گئی۔ اسی دوران ایمل ولی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ میرے پردادا باچا خان، دادا ولی خان نے ہندوستان کی آزادی اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور صوبوں کی خودمختاری کے لئے ساری زندگی وقف کر دی تھی جو برطانوی راج سے لے کر آخری دم تک جیلوں میں بند رکھے گئے جن کی قربانیوں سے پاکستان میں جمہوریت کا چرچا ہوا ہے۔ لہٰذا میرے والد اسفند یارولی خان نے پہلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا جس میں جنرل مشرف کو صدر تسلیم کیا گیا تھا۔ بلاول نے کہا کہ آپ کے والد نواز شریف میمو گیٹ میں کالاکوٹ پہن کر اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیتے نظر آئے۔ مریم نے کہا کہ آپ کے والد آصف علی زرداری نے میرے باپ کے خلاف بلوچستان میں ہماری حکومت کو گرانے اور سرکاری باپ نامی پارٹی کے ممبر صادق سنجرانی کو چیئرمین بنایا۔ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد میں 14ووٹوں سے حمایت کی تھی۔ موجودہ صادق سنجرانی کے چیئرمین انتخاب میں بھی پی پی کے ساتھ ووٹوں نے گیلانی کے نام پر مہر لگا کر الیکشن کومتنازعہ بنا کر امیدوار صادق سنجرانی کی حمایت کی تھی۔ بلاول نے کہا کہ میرے والد زرداری کو جیل میں بند رکھا گیا تو مریم نے جواباً کہا کہ میرے والد نواز شریف کو بھی گزشتہ بیس برسوں سے جیلوں میں ڈالا اور جلاوطن کیا جارہا ہے۔ بلاول نے کہا میری والدہ دو مرتبہ جلاوطن ہوئی تھیں تو مریم نے کہا کہ میرے والد بھی دو مرتبہ جلا وطن ہوئے ہیں اور آج بھی ہیں۔بلاول نے کہا کہ میری والدہ بے نظیر بھٹو کو سرعام قتل کر دیا گیا ہے تو مریم نے کہا کہ میرے والد کو بھی پہلے پھانسی پھر عمر قید اور بعدازاں ملک بدر کیا گیا ہے۔ بلاول نے کہا کہ میری والدہ کے قتل کی تحقیقات نہ ہو پائی تو مریم نے کہا کہ آپ نے اپنی والدہ ماجدہ کے قاتلوں جنرل حمید گل، جنرل مشرف، اعجاز شاہ اور پرویز الٰہی سے صلح صفائی کر لی تھی جس میں پرویزالٰہی کو ڈپٹی وزیراعظم بنایا گیا یا پھر آج پھر آپ چودھری پرویز الٰہی کے دربار پہنچے ہیں۔ انہوں نے وہ پین بطور میوزیم رکھا ہواہے جس کے ذریعے جنرل ضیاء الحق نے پھانسی کا حکم لکھا تھا جبکہ میرے والد نے آج تک چودھریوں کو اپنے قریب نہیں آنے دیا ہے جو ہمیشہ جمہوری قوتوں کے دشمن اور آمروں کے ساتھی اور اتحادی رہے ہیں جو جنرل مشرف کو وردی کے ساتھ سو سال تک صدر بنانے کے حق میں تھے۔ بلاول نے کہا کہ میرے والد، پھوپھی اور پارٹی رہنما جیلوں میں آرہے ہیں اور جارہے ہیں تو مریم نے کہا کہ میراپورا خاندان جیلوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ موقع کا فائدہ اٹھا کر ایمل ولی نے کہا کہ پنجاب چھوٹے صوبوں کے عوام کا دشمن گزرا ہے تو مریم نے فوری جواب دیا کہ وہ پنجاب پرانا تھا آج کا پنجاب بدل چکا ہے جس کے لیڈر میرے والد نواز شریف ہیں جو چاروں صوبوں کو ملا کر چلنا چاہتے ہیں جن کے دور میں چھوٹے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری ملی ہے جو آپ کے دادا ولی خان کا خواب تھا کہ پنجاب کا جب تک کوئی لیڈر پیدا نہیں ہو گا پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ سے چھٹکارا نہیں ملے گا جو آج سچ ثابت ہو گیا ہے کہ آج پورا پنجاب اپنی ہی اسٹیبلشمنٹ کا دشمن بن چکا ہے۔ بلاول نے کہا کہ اگر ہم سینیٹ اور ضمنی انتخاب میں حصہ نہ لیتے تو عمران خان اتنا کمزور نہ ہوتے تو مریم نے کہا کہ اگر ہم حصہ نہ لیتے تو آپ کایہ قول سچا ثابت نہ ہوتا جب یہ مکالمہ بازی جاری تھی تو ایک ثالث آیا جس نے تینوں بچوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ماضی میں بھٹو خاندان اور شریف خاندان سے غلطیاں سرزد ہو چکی ہیں جس کاازالہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت میں کیا تھا کہ آئندہ ہم کبھی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اداروں کو آزاد اور خودمختار کریں گے۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی بالاتری قائم کریں گے جس پر عمل کرنا چاہیے جو نہیں ہورہا ہے ورنہ ایک کمزور ترین مسلط حکمران عمران خان کبھی کامیاب نہ ہوتا جو صرف اور صرف آپ لوگوں کی چپلقشوں سے اقتدار کے مزے لے رہا ہے جس سے پاکستان تباہ و برباد ہو چکا ہے لہٰذا اتحاد قائم کیا جائے، تمام ماضی کے گلے شکوے ترک کر کے سنت موسیٰ پر عمل کیا جائے۔