عمران خان کو آپکی حمایت چاہیے، تنقید نہیں

194

پاکستانیوں، کب جاگو گے؟ خدا نے تمہیں بالآخر ایک ایسا لیڈر دیا ہے جس کا اگر ہم نے پورے دل کے ساتھ، ساتھ نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ایمانداری سے بتائو کہ کیا اس سے پہلے آنے والے قائدین اس سے بہتر تھے؟ کیا نواز شریف زرداری کی حکومتیں بہتر تھیں؟ اگر ان میں کوئی بھیـ’’ خوبی‘‘ تھی تو وہ ان کا رشوت کے نظام کو اعانت دینا تھا۔ وہ خود بھی کھاتے تھے اور اپنی سول سروس اور ساتھی سیاستدانوں کو بھی کھانے دیتے تھے۔سچ تو یہ ہے کہ رشوت کا نظام کچھ پاکستانیوں کے خون میں اس طرح گھل مل گیا ہے ، کہ اب ان کوجائز اورنا جائز کمائی میں کوئی امتیاز نہیں رہا۔ سرکاری اہل کاروںکے خاندان اس حرام کی آمدنی پر پل کر جوان ہو گئے ہیں۔انہیں اس اوپر کی آمدنی کا اتنا چسکہ پڑ چکا ہے کہ وہ اس کے بغیر ایسے تڑپ رہے ہیں جیسے پانی سے باہرمچھلی ۔پٹواری تو خیر ان محسوسات کی علامت بن چکے ہیں ورنہ حقیقت میں زیادہ تر سول سروس والے اور سیاستدان سب ہی اس پرانے نظام کو واپس لانے کے خواہاں ہیں۔
عمران خان دنیا میں اکیلا کرپشن کے خلاف جنگ نہیں کر رہا۔ کئی ملکوں میں یہ جنگ جاری ہے۔ عالمی ادارے جیسے آئی ایم ایف، عالمی بینک، اور اقوام متحدہ ان ملکوں پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔جب آئی ایم ایف پاکستان کو قرضے دیتا ہے تو وہ بہت کم سود پر ہوتے ہیں، اس لیے وہ ادارہ قرضہ لینے والوں کو اقتصادی حالت بہتر کرنے پر ہدایات بھی دیتے ہیں، اس لیے کہ اکثر ممالک سیاسی دبائو کے تحت خود وہ اقدام خود نہیں لیتے جو ان کی بہتری کے ہوتے ہیں۔جیسے بجلی، پٹرول، اور دیگر اشیائے ضرورت پر ٹیکس بڑھانا ۔ جن ملکوں میں مالیہ اکٹھا کرنا مشکل ہو ،وہاں بلواسطہ ٹیکسوں سے حکومتیں گزارہ کرتی ہیں ۔جو لوگ عمران خان پر نکتہ چینی کرتے ہیں، کیا وہ اس سے بہتر جانتے ہیں؟ یا وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سوچے سمجھے بغیر فیصلے کرتا ہے؟ یہ دونوں مفروضے غلط ہیں۔ خدا را، اس کے دشمنوں کا ساتھ مت دیں۔
پاکستان کی گذشتہ حکومتوں نے بجائے مالیہ اکٹھا کرنے کے قرضوں سے کام چلایا۔ جو بڑے بڑے سرمایہ دار اور صنعت کار ٹیکس دے سکتے تھے انہوں نے اثر و رسوخ سے اور رشوت دے کر ٹیکس کم دیا۔جو اس سے نچلے درجے کے تاجر تھے وہ ٹیکس انسپکٹروں کو خوش کر کے اپنے ٹیکس معاف کروا لیتے تھے یا بہت کم کروا لیتے تھے۔صرف تنخواہ دارطبقہ سے پورا ٹیکس ملتا تھا کیونکہ وہ تنخواہ سے ہی کٹ جاتا تھا۔پورے ملک کا نجی مالی نظام نقد پر چلتا تھا جس میں حکومت کو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کس نے کیا کمایا؟ یہ سلسلہ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔ اس کی ایک وجہ بہت سی ادائیگیاں بذریعہ کریڈٹ کارڈ سے نہیں ہوتی تھیں اور نہ ہی بینکاری نظام سے۔
اسکے علاوہ ملک کے حاکم سرکاری ٹھیکوں سے اپنا حصہ وصول کرتے تھے۔ وہ ایسے کہ اگر ٹھیکہ ایک سو کڑوڑ کا ہے تو اسے ایک سو بیس یا اسے بھی زیادہ کا بنوا لیتے تھے اور اس طرح اوپر کی رقم یعنی بیس یا زیادہ ان کی جیب میں جاتی تھی۔ اور کچھ اہل کاروں کی جیب میں۔ خرچہ سرکاری خزانے سے ہوتا تھا۔دوسرے لفظوں میں سرکاری خزانہ سے پیسہ بنانے کی یہ ایک کامیاب سکیم تھی جس سے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی اور یہ حکمران دھڑلے سے کہتے تھے کہ کوئی ان پر ایک پیسہ کی رشوت بھی ثابت نہیں کر سکتا۔اس کے علاوہ اور بھی طریقے تھے جن سے پیسہ باہر کے ملکوں میں لیا جاتا تھا۔اور پھر اس کو بینکوں سے واپس پاکستان لا کر کالے دھن کو صاف کر لیا جاتا تھا۔اسی لیے حکومت کا قانون ہے کہ اگر کسی حکمران کے یا سرکاری افسر کے اثاثہ جات اس کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہوں تو تصور کیا جائے گا کہ وہ رشوت سے بنائے گئے، تا آنکہ ایسا شخص واضح ثبوت مہیا کرے جن سے ان زائد اثاثوں کی خرید کے ذرائع معلوم ہوں۔ اس کی تازہ مثال سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کے لند ن میں فلیٹس کی ہے۔یا نواز شریف کے لندن کے فلیٹس کی ملکیت۔
جب ملک کا خزانہ اپنی جیبیں بھرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو، ملکی وسائل اپنی شان و شوکت پر خرچ ہو رہے ہوں، سیاستدان اور سرکاری افسر وں کو کھلی چھٹی ہو کہ ٹھیکوں سے دولت کمائیں، تو عوام کے لیے کیا بچے گا؟ نئی حکومت کو آئے ہوئے ڈھائی سال سے اوپر ہو گئے ہیں۔میڈیا اور مخالف جماعتوں نے واویلا مچا رکھا ہے کہ کیا تبدیلی آئی ہے؟یہ پراپیگنڈا اتنا سخت ہے کہ عمران خان کے کچھ چاہنے والے بھی اس کا شکار ہو گئے لگتے ہیں۔جب عمران خان انتخاب لڑنے جا رہا تھا تو دنیا جانتی تھی کہ گذشتہ حکومتوں نے ملکی خزانہ خالی کر دیا تھا۔ نواز شریف کے چمچوں نے اپنے آخری دنوں میں کئی بڑے بڑے ٹھیکے اس شرط پر منظور کئے کہ ان کا حصہ پیسے مل جانے کے بعد نواز لیگ کو دیا جائے گا۔یہ کام خاقان عباسی کا تھا۔ یہ کڑوڑوں، اربوں روپے کے سودے تھے۔نواز کے پورے دور میں اسحاق ڈار کا ایک ہی کام تھا کہ زیادہ سے زیادہ قرضے لے تا کہ عوام کو خوش کرنے کے لیے اخراجات پورے ہو سکیں۔یہ راقم سوچتا تھا کہ جو بھی نئی حکومت آئے گی وہ مسائل کے ایک انبار گراں سے دو چار ہو گی۔ عمران خان کا یہ حال تھا کہ
ع بے خطر کُود پڑا آتش نمرود میں عشق۔ عقل تھی محوِ تماشائے لب بام ابھی۔ کوئی بھی شخص جسے عیش و آرام کی حکومت چاہیے ہوتی، وہ کبھی ان انتخابات میں حصہ نہ لیتا۔لیکن عمران خان کے سر پر پاکستان کی خدمت کا جنون سوار تھا۔
عمران خان نے جب کرپشن کو اپنا جہاد ٹہرایا تو مخالفین کے کان کھڑے ہوگئے۔ جب نواز شریف کو عدالت نے بے ایمان اور خائین قرار دیا اور اسے سزا ہوئی تو بس جتنے کرپٹ ٹولے تھے ، انہوں نے حکومت کی مخالفت کا بیڑا اٹھا لیا۔صرف جمہوری مخالفت نہیں، بلکہ اوچھے ہتھکنڈے بھی آزمانا شروع کر دیئے۔ان میں ایک تھا بیوپاریوں اور آڑھتیوں کو اکسانا کہ وہ مہنگائی کا طوفان بر پا کر دیں۔مہنگائی کا شور اتنے تسلسل سے مچایا گیا کہ وزیر اعظم کو بھی یقین ہو گیا کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے، حالانکہ پاکستان کو دنیا کا سستہ ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ ویسے بھی مہنگائی کا تعلق مانگ اور رسد کے توازن سے ہوتا ہے۔ اگر آبادی تیزی سے بڑھے گی لیکن پیداوار اسی تیزی سے نہیں تو مہنگائی ہونا تو لازم ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو مزدوری کا نرخ بھی بڑھتا ہے۔ جو مزدور چند سال پہلے پچاس روپے پر دیہاڑی کرتا تھا اب وہ دو سو سے پانچ سو روزآنہ مانگتا ہے۔اس کے علاوہ عالمی منڈیاں بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں خاص طور پر درآمدی اشیا پر جیسے پٹرول اور گیس، اور دیگر دارآمدات۔ جب تیل کی قیئمتں چڑھتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آزاد تجارتی ماحول میں جب قیمتیں چڑھتی ہیں تو مانگ خود بخود کم ہوتی ہے جس سے قیمتیں کم ہوتی ہیں۔ اور اسی طرح جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو مانگ بڑھ سکتی ہے۔یہ ایک قدرتی اصول ہے جس سے مارکیٹ میں مانگ اور رسد کا توازن رہتا ہے۔حکومتیں مصنوعی حالات پیدا کر کے اس اصول پر اثر انداز تو ہو سکتی ہیں لیکن یہ دیر پا حل نہیں ہوتے اور خزانہ پر بلا وجہ کا بوجھ علیحدہ پڑتا ہے۔
پارلیمان میں طوفان بد تمیزی ایسی کہ حکومت قانون سازی نہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کی کابینہ کے ارکان میں کیڑے نکالنا اور خصوصاً پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو نشانہ بنانا۔ عثمان بزدار ایک ایماندار اور مخلص کارکن تھا۔ چونکہ اس کی سب سے بڑی خوبی کرپٹ نہ ہونا تھی، یہی اس کی کمزوری بنا دی گئی۔ کسی نے اس کے محاسن نہیں گنوائے۔ کہ وہ کس طرح خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ اور کس طرح ترقیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کروا رہا ہے۔ وہ شہباز شریف کی طرح ڈرامہ باز اور شو باز نہیں ہے۔ اگر وہ رشوت لینا شروع کر دے تو دنوں میں مقبول ترین حاکم بن سکتا ہے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ سمجھدار لوگ جو تحریک انصاف کے بظاہر حامی بھی ہیں، وہ بھی بزدار کا مذاق اڑاتے ہیں، جن میں ٹی وی کے مذاحیہ شو آفتاب اقبال کا خبردار سر فہرست معلوم ہوتا ہے۔ اسکے شو میں عثمان بزدار کا روپ دھار کے کوئی ایکٹر اپنی بھد اڑواتا ہے۔ یہ اتنی قابل شرم بات ہے اور افسوس ناک مظاہرہ ہے کہ کسی حال بھی آفتاب اقبال کی شخصیت کو زیب نہیں دیتا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے میڈیا مالکان یہ چاہتے ہیں یا کچھ با اثر ناظرین، ہر صورت میں یہ شو ایک غیر ذمہ وار اور غیر سنجیدہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ہمارا مقصد صرف آفتاب اقبال کی نشاندہی کرنا نہیں، بلکہ ان تمام صحافیوں کو مخاطب کرنا بھی ہے جو وقت کی پکار نہیں سن رہے۔ان کو چھوڑ کے جو اپنی خدمات کا محنتانہ وصول کرتے ہیں، باقیوں سے گذارش ہے کہ آپ بڑی پکچر دیکھیں، اور فیصلہ کریں کہ پاکستان جن مسائل میں گھرا ہوا ہے، جن دشمنوں کے نرغے میں ہے اور جس طرح کی اقتصادی صورت حال سے دو چار ہے، کیا اس سے نبٹنے کے لیے جو قائد ہمیں ملا ہے، جیسا بھی ہے، اس کی یا حمایت کرنی چاہیے یا اس کو مثبت انداز میں مشورے دینے چاہییں۔ اس کا متبادل راستہ کیا ہے؟ کیا مخالفین کی نفرت بھری مہم میں شامل ہو جائیں، جس کی منزل کرپٹ اور شکست خوردہ نظام کو واپس لانا ہے؟ آپ حضرات کو پہلے یہ فیصلہ کرنا چاہیے اور پھر اس فیصلہ پر ڈٹ جانا چاہیے۔ راقم جانتا ہے یہ اتنا آسان کام نہیں کیونکہ پیٹ کا معاملہ ہے ۔ میڈیا مالکان کی پالیسیز پر عمل نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟لیکن آپ کے ہاتھ میں قلم ہے اور منہ میں زبان ہے جس سے آپ اپنا رزق حاصل کرتے ہیں۔ اپنے ضمیر سے پوچھیئے کہ ان حالات میں کیا صحیح ہے؟
اب اس بات میں دو رائے نہیں ہیں کہ گذشتہ حکمرانوں نے پاکستان کے قومی خزانہ کو لوٹا۔ ایک غریب قوم کی رہنمائی ایسے کی جیسے وہ وقت کے بادشاہ تھے۔قومی خرچ پر شاہی ٹھاٹھ باٹھ ، اپنے ذاتی محلات، اور بینک بیلنس، بیرون ملک جائدادیں، اور کڑوڑوں ، اربوں ڈالرکے بینک اکائونٹ، جو کسی حال میں انہیں زیب نہیں دیتے۔ اگر عوام میں اتنا شعور ہوتا تو انقلاب فرانس سے بڑا انقلاب پاکستان میں بر پا ہوتا۔اور دوبارہ کسی دولتمند کو قیادت کا خواب بھی نہ آتا۔ادیب، صحافی اور شعراء، ملک کے دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں۔وہی عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان میں شعور بیدار کرتے ہیں اور ملکوں کی قسمت بناتے ہیں۔کیا کبھی ایسا وقت آئے گا کہ پاکستان کے دانشور بھی اپنا یہ کردار ادا کریں گے؟ اگر ہم نے یہ وقت گنوا دیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔سوچیئے، دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کہاں۔ اگر پاکستانی ایک دفعہ ڈٹ جائیں، اور نوجوانوں کی فوج ظفر موج کے ساتھ ملکر بیڑہ اٹھا لیں کہ ہم نے پاکستان کی قسمت بدلنی ہے، تو پاکستان تحریک انصاف کے منشور پر عمل کرنا شروع کر دیں، وہ ہی ہماری قسمت بدلنے کے لیے کافی ہے۔