’’میں نے خود کو اور اپنے خاندان کو مار ڈالا‘‘

210

ہم ٹیکساس کے علاقے Planoمیں رہتے ہیں۔ یہDFWیعنی ڈیلس فورتھ ورتھ کا حصہ ہیں۔ Planoکے بالکل برابر میں Allenنام کا علاقہ ہے۔ Plano اور Allen اور فرسکو وہ علاقے ہیں جہاں کی آبادی میں پچھلے کچھ برسوں میں بہت تیزی سے لوگ پورے امریکہ سے آ کر رہائش پذیر ہوئے ہیں ان آنے والوں میں مسلمان کمیونٹی کی بڑی تعداد ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، ہندوستان کے امیگرنٹ بہت زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ پچھلے دس برسوں میں ہوا ہے۔ ایسے میں ایک فیملی توحید الاسلام کی تھی جو ایلن ٹیکساس کے علاقے میں رہتے تھے، ان کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا، بہت سارے لوگوں کی طرح وہ بھی اچھی جاب اور اچھے حالات کے خواب دیکھتے نیویارک اور نیویارک سے ٹیکساس شفٹ ہو گئے تھے۔
توحید اسلام کا خاندان ایک مکمل خاندان تھا جس میں ان کی بیگم آئرین اسلام، بیٹا تنویر توحید اور دو جڑواں بچے فرحان اور بیٹی فرحین شامل تھے۔ توحید اسلام آئی ٹی میں جاب کرتے تھے، بیوی ہائوس وائف تھیں اور تینوں بچے بہت قابل، ان کی انیس سالہ بیٹی کو ابھی NYUمیں فل سکالر شپ پر داخلہ ملا تھا جو کہ بڑی بات ہے، وہ ستمبر 2021ء میں نیویارک جانے والی تھی لیکن پھر ان سب کی زندگی انسٹا گرام کی ایک پوسٹ کے کچھ لمحوں بعد ہمیشہ کیلئے ختم ہو گئی۔ انسٹا گرام پوسٹ ان کے چھوٹے بیٹے فرحان نے ڈالی تھی اور اس طویل پوسٹ کی پہلی لائن تھی ’’ہیلو،میں نے خود کو اور اپنے خاندان کو مار ڈالا‘‘یعنی کہ میں نے خود کو اور اپنے خاندان کو ختم کر دیا۔
وہ بارہ صفحوں کا خط جس کو دو دن بعد انسٹا گرام نے ہٹا دیا اس کی کاپی انٹر نیٹ پر اب بھی کہیں نہ کہیں مل جائے گی آپ کو ۔ یہ مرڈر سوسائیڈ نوٹ تھا جس میں تفصیل سے لکھا تھا کہ ہو ایسا کیوں کررہا ہے؟۔
خط ایک کہانی کی طرح لکھا گیا تھا جسے پڑھ کر کوئی بھی رائے قائم کر سکتا ہے کہ لکھنے والا ایک ذہین شخص تھا لیکن خط کے شروع میں ہی فرحان لکھتا ہے کہ’’ جن کو نہیں پتہ ان کو میں بتا دوں کہ میں 2016ء سے Depressionکا مریض ہوں میں اس خط میں چار اہم پوائٹس Coverکروں گا جس سے شاید کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے، یہ وہ چار پوائنٹس ہیں جو میرا ایسا قدم اٹھانے کا سبب بنتے ہیں۔
فرحان لکھتا ہے کہ لوگ جو کسی سکول، کالج کے امتحان میں فیل ہو جانے پر کہتے ہیں کہ میں depressہو گیا ہوں وہ بالکل غلط ہیں۔ وہ ڈپریشن نہیں ہوتا، مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے آپ کو کاٹا تھا وہ 22اگست 2017ء کا دن تھا میں نے بچوں کے کرافٹ سیٹ میں جو قینچی آتی ہے اس سے میں نے اپنے آپ کو کاٹنا شروع کیا، اس کے بلیڈ بہت ہلکے اور کمزور تھے پھر بھی زور لگانے پر آہستہ آہستہ میری سکن کٹنے لگی اور مجھے اس سے سکون ملنے لگا۔
فرحان آگے لکھتا ہے کہ اس ’’سکون‘‘ کا عادی ہونے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بچوں والی قینچی تیز نہیں ہوتی، اس لئے مجھے چاقو پر آنا پڑا جس سے انسانی گوشت آسانی سے کٹتا ہے۔ شروع شروع میں ہر دوسرے ہفتے خود کو کاٹتا تھا لیکن پھر یہ عمل بڑھنے لگا پہلے ہر ہفتے پھر ہر دوسرے دن وار پھر ہر روز اور پھر روز کئی کئی بار۔
فرحان آگے کہتا ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کالج میں کتنی بار Blank Assignments جمع کروائے کیونکہ سارا وقت اسائمنٹ تیار کرنے کے بجائے باتھ روم میں خود کو کاٹنے میں مصروف رہتا تھا۔
شروع میں میرے تین دوستوں نے میری مدد کرنے کی کوشش کی لیکن پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ ان کو لگا ہو گا کہ ایک depressedشخص سے ڈیل کرنا بہت مشکل ہے۔ فرحان کے خط کا پہلا پوائنٹ کے لوگ pretendکرتے ہیں مگر مدد کر نہیں پاتے۔ انہوں نے اپنے والد کواپنے ڈپریشن کے متعلق بتایا تو انہوں نے ان کی ہر ممکن مدد کی۔ ڈاکٹر کو دکھایا جس نے فرحان کو دوا پر رکھا اور جس سے انہیں وقتی فائدہ بھی ہوا مگر کچھ عرصے بعد ہی ڈپریشن واپس آگیا۔فرحان کے حساب سے ان کی زندگی مکمل (Perfect)تھی لیکن اس سوچ کے باوجود ان کے ڈپریشن میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
فرحان کا دوسرا پوائنٹ تھا کہ ہر کوئی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کو Depressedکہہ دیتا ہے حالانکہ انہیں اس کا مطلب بھی پتہ نہیں، فرحان کو اپنے آس پاس ہونے والی ہر چیز غلط لگتی تھی۔
فرحان کا تیسرا پوائنٹ بہت ہی عجیب و غریب تھا، 2009ء میں امریکی ٹی وی ڈرامہ ’’آفس‘‘ آیا تھا جو کہ فرحان نے 2021ء میں Netflixپر دیکھا تھا۔ کچھ وجوہات کی بنا پر اس ڈرامے کے Main charecterکو علیحدہ کر دیا گیا تھا فرحان کو اس کی علیحدگی پر بے حد غصہ تھا۔عجیب بات یہ تھی کہ صرف فرحان ہی نہیں اس کا بڑا بھائی اکیس سالہ تنویر بھی ڈپریشن کا شکار تھا۔ دونوں بھائیوں نے مل کر منصوبہ بنایا کہ 21فروری 2021ء سے ایک سال انتظار کریں گے اگر چیزیں صحیح ہوتی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ خودکشی کر لیں گے اور گھر والوں کو مار دیں گے، گھر والوں کو اس لئے کیونکہ ان کو زندگی بھر بیٹوں کی موت کا غم نہ ہو لیکن کچھ ہی دن میں ان کو لگا کہ نہیںایک سال بہت زیادہ ہے بس ختم کرو زندگی کو۔ آخری یعنی چوتھا پوائنٹ فرحان کایہ تھا کہ USAمیں Gun control نہیں ہے۔ ان کے بھائی نے صرف یہ بول کر کہ سیلف ڈیفنس کیلئے گن چاہیے ہے۔ Gunsحاصل کر لیں۔ انسٹا گرام پر لیٹر پوسٹ کرتے ہی اس نے بھائی کے ساتھ مل کر پوری فیملی کو مار دیا جس میں 77سالہ بنگلہ دیش سے آئی ہوئی نانی بھی تھیں۔فرحان نے اپنی جڑواں بہن اور نانی کو گولیاں ماریں اور تنویر نے ماں باپ کو اور پھر دونوں نے خود کو۔
Allen Islamic Centreمیں 8اپریل کو پورے خاندان کی آخری رسومات تھیں، اس طرح ایک ساتھ پوری فیملی کو جاتا دیکھ کر پورا ڈیلس غم میں ڈوبا ہوا تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں موجود تھے۔ڈپریشن ایک بہت بری اور خطرناک بیماری ہے۔ اکثر یہ خاندانی اور موروثی بھی ہو سکتی ہے جس پر کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے۔