شاعری کا فن کیوں مر رہا ہے؟

200

اقبال نے شاعروں کی عظمت بیان کرتے ہوئے صاف کہا ہے کہ قومیں شاعروں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہیں اور سیاست دانوں کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں۔ سولہویں صدی کے یورپ میں ایک وقت ایسا آیا تھا کہ شاعری کے فن کی برائی کی جانے لگی تھی۔ کہا جانے لگا تھا کہ شاعر جھوٹوں کے بادشاہ ہیں اور شاعری کذب وافترا ء کا دفتر ہے۔ وہ انسانی صلاحیتوں کی تخریب کرتی ہے اور انسان کے اندر مردانہ صفات کے بجائے زنانہ پن پیدا کرتی ہے۔ سرفلپ سڈنی نے ان خیالات کا مدلل رد لکھا۔ اس نے اپنے مضمون شاعری کا جواز میں تحریر کیا کہ جو لوگ شاعری پر اعتراض کرتے ہیں وہ بیکار کے لوگ ہیں جن کی بس زبانیں چلتی ہیں۔ وہ شاعری کو جھوٹ کا پلندہ کہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ شاعر کچھ کہتا ہی نہیں جو وہ جھوٹ کہے۔ وہ یہ نہیں بتاتا کہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے بلکہ وہ تو تخلیق کرتا ہے۔ یعنی یہ دکھاتا ہے کہ چیزوں کو کیسا ہونا چاہیے۔ اس لیے جھوٹ اور سچ کا اس سلسلے میں سوال ہی نہیں اْٹھتا۔ مغرب میں مذہب کے زوال کے عہد میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اب مذہب کی جگہ کون لے گا۔ میتھوآرنلڈ نے اپنے مضمون شاعری کا مطالعہ میں دعویٰ کیا ہے کہ جس چیز کو مذہب اور فلسفہ کہا جاتا ہے شاعری مستقبل میں اس کی جگہ لے گی۔آرنلڈ نے کہا ہمارے زمانے میں ہر چیز زوال پذیر ہوگئی ہے۔ مذہب بھی، مگر شاعری کا مستقبل تابناک اور شاندار ہے۔ لیکن یہ ماضی کی باتیں ہیں ہمارے زمانے تک آتے آتے صورت حال تبدیل ہوچکی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ شاعری کا فن مر رہا ہے اور شاعری انسانوں میں تیزی کے ساتھ غیر مقبول ہورہی ہے۔
اس سلسلے میں چند روز پیش تر ہماری نظر سے معروف نقاد اور افسانہ نگار ناصر عباس نیرّ کا ایک مضمون گزرا۔ مضمون کا عنوان ہے۔ ’’شاعری کا عالمی دن۔ چند سوالات‘‘۔ مضمون میں ناصر عباس نیر نے لکھا ہے کہ یونسکو 1999ء سے شاعری کا عالمی دن منارہی ہے۔ ناصر عباس منیر کے بقول عالمی دن ان چیزوں کا منایا جاتا ہے جو خطرے سے دوچار ہوں۔ ناصر عباس نیر نے لکھا ہے کہ دنیا میں شاعری کم پڑھی جارہی ہے۔ فکشن زیادہ پڑھا جارہا ہے۔ خاص طور پر ناول۔ اردو میں بھی یہی صورت حال ہے۔ شاعری کو بیش تر صورتوں میں شاعر، شاعروں کے دوست اور اعلیٰ ذوق رکھنے والے پڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ سال ادب کا نوبل انعام امریکی شاعرہ لوئزے گلک کو دیا مگر اسے بھی کم پڑھا گیا۔ البتہ ترکی کے ناول نگار اور حان پاموک کو ادب کا نوبل انعام ملا تو انہیں پوری دنیا میں خوب پڑھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ شاعری کیوں مر رہی ہے اور اسے کم کیوں پڑھا جانے لگا ہے؟۔
یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ شاعری زبان کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔ اس تناظر میں عہد حاضر کے انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی لسانی اہلیت، سکڑ رہی ہے، سمٹ رہی ہے، محدود ہورہی ہے، اردو کی لغت اب ڈھائی سے تین لاکھ الفاظ پر مشتمل ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں لوگوں کی عظیم اکثریت کا ذخیرۂ الفاظ انتہائی محدود ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اخبار پڑھنے والے قارئین کا ذخیرہ الفاظ 800 سے 1000 الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو لوگ اخبار نہیں پڑھتے ان کا ذخیرہ ٔالفاظ اور بھی کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس لسانی صورت حال میں شاعری پڑھنے والے اسے سمجھنے والے اور اس سے لطف اندوز ہونے والے لوگ کہاں سے فراہم ہوں؟آنند کمار سوامی نے کہیں لکھا ہے کہ زبان آنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی مادری زبان کی شاعری پڑھ سکتا ہو، سمجھ سکتا ہو اور اس سے لطف اندوز ہوسکتا ہو۔ مگر اب ہمارا حال یہ ہے کہ جن لوگوں کی مادری زبان اُردو ہے انہیں اردو نہیں آتی۔ جن لوگوں کی مادری زبان سندھی ہے انہیں سندھی نہیں آتی، جن لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے انہیں پنجابی نہیںآتی اور جو نوجوان انگریزی میڈیم اسکولوں اور کالجوں کے فارغ التحصیل ہیں انہیں انگریزی نہیںآتی۔ ہمارا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ اب ایم اے کی سطح کے اکثر طالب علم میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ کی شاعری کو سمجھنا تو دور کی بات ہے اس شاعری کو ٹھیک طرح پڑھ بھی نہیں سکتے۔ جن لوگوں کی مادری زبان سندھی ہے وہ شاہ لطیف کی شاعری کی تفہیم ہی سے عاری نہیں بلکہ وہ اس شاعری کو صحت کے ساتھ پڑھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ ایم اے کے جن طلبہ کی مادری زبان پنجابی ہے وہ وارث شاہ، بلھے شاہ اور بابا فرید کی شاعری کو ٹھیک ٹھیک پڑھنے سے قاصر ہیں۔ انگریزی میڈیم کے طلبہ و طالبات کو ایم اے کی سطح پر بھی کیٹس ہائرن اور شیلے کے شاعرانہ کمالات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ ہم نے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ امریکا اور یورپ کے بعض ملکوں میں ایسے چمپینزی موجود ہیں جو تصویروں کی مدد سے 800 سے ایک ہزار الفاظ کو پہچان لیتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے اخبار پڑھنے والے افراد کا ذخیرۂ الفاظ چمپینزیوں کے ذخیرۂ الفاظ کے برابر ہے۔ باقی لوگوں کا حال چمپینزیوں سے زیادہ خراب ہے۔ یہ تو ذخیرئہ الفاظ کا معاملہ ہوا۔ اعلیٰ شاعری کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ علامتوں، استعاروں اور تلمیحات میں کلام کرتی ہے۔ مثلاً
کیا کیا خضر نے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی!
٭٭
طلسمِ خوابِ زلیخا و دامِ بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں!
٭٭
اک پتنگے نے یہ اپنے رقصِ آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جائیے!
٭٭
کہاں ہر ایک سے بارِ نشاط اٹھتا ہے
بلائیں یہ بھی محبت کے سر گئی ہوں گی!
٭٭
باطل میں وہ اثر تھا کہ موسیٰ سے ایک بار
کہنا پڑا خدا کو عصا پھینک، ڈر نہیں!
جو لوگ علامتوں، استعاروں اور تلمیحات کا علم نہیں رکھتے وہ لوگ ان شعروں کو نہیں سمجھ سکتے۔ چوں کہ سمجھ نہیں سکتے اس لیے ان سے لطف اندوز بھی نہیں ہوسکتے۔ لسانی اہلیت کا بہت گہرا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ انسان گہرے جذبے، احساس اور تجربے کو سمجھ سکتا ہے یا نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے زمانے تک آتے آتے ہر چیز اتھلی ہوگئی ہے۔ جذبے بھی۔ احساس بھی اور تجربہ بھی۔ یہاں تک کہ خیالات بھی۔ یہ صورت حال بھی اعلیٰ شاعری اور قاری کے درمیان ایک دیوار کا کام کررہی ہے۔ البتہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ فیض، جالب اور فراز کی ’’سیاسی شاعری‘‘ ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ اس لیے کہ اس شاعری میں نہ گہرائی ہے، نہ اس میں کوئی علامت، استعارہ یا تلمیح ہے۔ شاعری کے بارے میں یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ شاعری بالخصوص غزل کی شاعری اشارے اور کنائے کا فن ہے۔ اس میں جتنی اہم ’’کہی گئی بات‘‘ ہوتی ہے اتنی ہی اہم بات ’’ان کہی بات‘‘ ہوتی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ کہی گئی بات کو نہیں سمجھ رہے ہیں وہ ان کہی بات کو کیسے سمجھیں گے؟ شاعری کا ایک پہلو یہ ہے کہ شاعری اختصار کا فن ہے اور ہمارے عہد کا مزاج یہ بن گیا ہے وہ ہر چیز کی تفصیل مانگتا ہے۔ اس کے بغیر اسے کوئی چیز سمجھ میں نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے زمانے میں نثر کو شاعری پہ فوقیت حاصل ہوگئی ہے۔ شاعری کی پوری روایت ’’اجمال‘‘ پر کھڑی ہوئی ہے اور نثر کی پوری روایت ’’تفصیل‘‘ پر کھڑی ہوئی ہے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے زمانے میں نثر بھی وہی لوگوں کو سمجھ میں آرہی ہے جو گہرے خیال، گہرے تجربے، گہرے جذبے اور گہرے احساس کو بیان نہ کررہی ہو۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہمارے عہد کی زبان شاعری کی زبان نہیں صحافت کی زبان ہے۔ بلکہ بیش تر صورتوں میں اشتہار کی زبان۔
شاعری کے حوالے سے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ شاعری ’’باطن کی زبان‘‘ بولتی ہے۔ اس کے برعکس نثر ظاہر کی زبان میں گفتگو کرتی ہے۔ اس بات کا زیر بحث مسئلے سے یہ تعلق ہے کہ فی زمانہ لوگوں کی عظیم اکثریت ’’دروں بین‘‘ یا introvert‘‘ نہیں رہی بلکہ وہ ’’بروں بیں‘‘ یا Extrovert ہوگئی ہے۔ اس بات کوآسان الفاظ میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ اب باطن کی سیاحت کی اہلیت کم لوگوں میں ہے۔ زیادہ لوگ صرف خارج کی سیاحت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ چناں چہ لوگوں کی عظیم اکثریت شاعری کو پڑھنے، سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کی اہلیت سے محروم ہوچکی ہے۔ اس مسئلے کو دل اور دماغ کی اصطلاحوں میں بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ شاعری ‘‘دل کے کلچر‘‘ کی علامت ہے اور نثر دماغ کے کلچر کا استعارہ ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو نثر کا شاعری پر غلبہ دل کے کلچر پر دماغ کے کلچر کے غلبے کا اعلان ہے۔ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جذبے کو تعقل نے قابو میں کرلیا ہے۔
ہر زمانے کی بڑی کیا اچھی شاعری بھی خواب دیکھتی ہے اور خواب دکھاتی ہے۔ خواب دیکھنے کے عمل کا مطلب ناممکن کی جستجو کرنا اور ناممکن کو بالاآخر ممکن بنانا ہے۔ لیکن ہمارے عہد کا المیہ یہ ہے ہمارے عہد کو خوابوں کی ضرورت ہی نہیں۔ ہمارے عہد میں لوگ خواب بھی دیکھتے ہیں تو صرف امیر بننے کے۔ دولت کا خواب بھی بلاشبہ خواب ہی ہے مگر پست درجے کا خواب۔ انسان کا اصل خواب ہے۔ روحانی، اخلاقی اور علمی ارتقا کا خواب یہ خواب ہی انسان کو اشرف المخلوقات میں ڈھالتا ہے۔ مگر ہمارا زمانہ یہ خواب دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔
اعلیٰ شاعری انسانی وجود کی کلّیت کا استعارہ ہے۔ جو شاعری وجود کی کلّیت کو بیان نہیں کرتی وہ کبھی بھی اعلیٰ شاعری نہیں کہلا سکتی۔ بدقسمتی سے ہمارے زمانے میں انسان کلّیت کے تصور ہی سے محروم ہوگیا ہے۔ اب انسانوں کی درجہ بندی اس طرح ہوتی ہے۔ معاشی انسان، سماجی انسان، سیاسی انسان، جبلی انسان، عقلی انسان، چوں کہ انسان خانوں میں بٹ گیا ہے اس لیے وہ وجود کی کلّیت کو بیان کرنے والے کسی بھی فن میں دلچسپی لینے کے قابل نہیں رہ گیا۔ سلیم احمد نے کبھی لکھا تھا عورت کی طرح شاعری بھی پورا آدمی مانگتی ہے۔ اس فقرے کو اب یوں بھی لکھا جاسکتا ہے۔ عورت کی طرح اب سوسائٹی بھی ادھورا آدمی مانگتی ہے۔ اس لیے کہ پورے آدمی سے عورت ہی کو نہیں معاشرے کو بھی خوف آتا ہے۔
شاعری کا انسان تخیل اور اس کی بلند پروازی سے بھی گہرا تعلق ہے مگر جدید ذرائع ابلاغ نے انسان کے تخیل کے پَر کاٹ دیے ہیں۔ چناں چہ کروڑوں انسان شاعری پڑھنے، سمجھنے کے قابل نہیں رہ گئے ہیں۔