اس مرتبہ تحریک لبیک کے دہشت گردوں کے معاملے میں حکومت کا نرم رویہ ریاست کیلئے عظیم سانحہ ثابت ہو گا!

271

ہماری والدہ محترمہ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے(آمین) جب وہ حیات تھیں تو اکثر قیام پاکستان کی جدوجہد کے واقعات ہمیں سنایا کرتی تھیں۔ وہ بتاتی تھیں کہ اس جدوجہد کے دوران نہ کبھی قائداعظم نے اور نہ ہی اس وقت کی مسلم لیگ نے کبھی بھی یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ ’’پاکستان کامطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘ ۔ یہ وہ نعرہ ہے جو قیام پاکستان کے بعد معصوم عوام کے ذہنوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے علمائے سو نے اپنے مفادات کی خاطر بلند کیا تھا بلکہ وہ کہتی تھیں کہ اس قت کے پاکستان مخالف ملائوں نے قیام پاکستان کی مخالفت میں حدود پار کر دیں اور پاکستان کو کافرستان اور قائداعظم کو کافراعظم کے القابات سے نوازا۔ جب پاکستان وجود میں آگیا تو ان ہی ملائوں نے جن میں جماعت اسلامی کے لیڈرز اور مولوی فضل الرحمن کے والد مفتی محمود پیش پیش تھے یہ نیا نعرہ بنایا تھا تاکہ وہ مذہب اور کلمے کو آڑ بنا کر ووٹ بنک بنا سکیں مگر آج قیام پاکستان کے چوہتر سالوں بعد بھی ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور پاکستانی عوام نے انہیں درخوراعتنا نہ سمجھا۔ پاکستان کی تاریخ کے تمام انتخابات کے نتائج اٹھا کر دیکھ لیجئے، پاکستانی عوام نے کبھی بھی کسی بھی مذہبی جماعت کو ووٹ دے کر حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا۔ مسلم لیگ پھر عوامی لیگ ، پھر پیپلز پارٹی، پھر ن لیگ ، پھر ق لیگ پھر تحریک انصاف، غرض الف نون سے لیکر قاف کاف تک ہر پارٹی کو ووٹ دیا مگر مجال ہے کہ کبھی ان پاکستان مخالف دینی، مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو موقع دیا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان انتہا پسند اور دہشت گردانہ سوچوں کی مالک جماعتوں نے انتخابات میں ناکامی کے بعد تشدد اور غنڈہ گردی کا راستہ اختیار کیا۔ ہمیں ٹی ایل پی (تحریک لبیک پاکستان) اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے درمیان کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا۔ دونوں گروہ تشدد پسند ہیں، دہشتگرد ہیں، دونوں کو رائے عامہ کی سپورٹ حاصل نہیں ہے۔ دونوں گروہوں کی اپنی اپنی اسلام کی تاویلات ہیں۔ دونوں گروہ پاکستانیوں اور ریاست پاکستان کے خلاف مسلح جتھے ہیں، دونوں گروہ ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں اور اپنے نظریات ڈنڈے اور گولی کے زور پر پاکستانی عوام اور حکومت پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بالکل صحیح کہا کہ کسی گروہی جتھے کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی اور معاملات پر بلیک میل کرے۔ تحریک لبیک پاکستان کے رہنما اور بانی خادم حسین رضوی کو تو اللہ تعالیٰ نے کووڈ کے ذریعے مزید خون ریزی تشدد گری کرنے سے پہلے ہی اٹھا لیا مگر اس کے نابالغ لڑکے سعد رضوی کو خادم رضوی کے جاہل اور گنوار پیروکاروں نے جماعت کا نیا گدی نشین بنا دیا۔ جیسا باپ ویسا ہی بیٹا۔ خادم حسین رضوی کی جہالت کا یہ عالم تھا کہ وہ پنجابی زبان کے علاوہ کوئی اور زبان اردو یاانگلش میں بات بھی نہیں کر سکتا تھا چہ جائکہ وہ عربی کے حوالے رٹ رٹ کر بیان کرتا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو فیض آباد دھرنے کے معاملے کی طرح سے اس مرتبہ کسی قسم کے نرم رویے کو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لال مسجد کی طرح اس معاملے کو بھی سختی سے نمٹانا چاہیے اور جس طرح سے اس دہشت گردی میں ملوث مولویوں اور اس کے پیروکاروں کو مار دیا گیا اور فتنے کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا گیا جس طرح سے تحریک طالبان کی قیادت اور کارکنوں کو لگاتار موت کے گھاٹ اتار کر ملک میں امن و امان کو بحال کر دیا گیا بالکل اسی طرح اس نئے فتنے کو بھی قلع قمع کر کے ختم کر دینا چاہیے اور جس طرح سے کوئٹہ کے دھرنا دینے والوں کا مطالبہ تسلیم نہ کر کے عمران خان نے حکومت کی رٹ قائم کی تھی اسی طرح سے ان کے مطالبات کو یکسر تسلیم نہ کیا جائے اورانہیں پابند سلاسل کر کے ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کرکے پھانسیاں دی جائیں۔