نعرہ ہوگا’’ بھٹو نہیںقائد اعظم زندہ ہے!‘‘

182

پیپلز پارٹی کاایک نعرہ بہت مقبول عام ہے ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘ ہیں!بھٹو زندہ ہے؟اگر زندہ ہوتا تو مشرق کی طرح مغرب بھی بک گیا ہوتا۔عوام کو ان خاندانی غداروں کی ہسٹری معلوم ہی نہیں یا ان کے بڑوں نے دانستہ فراموش کر دی، ہو سکتا ہے کلی طور پر انہیں بھی آگاہی نہ ہو تو آئیے کچھ حقیقت بتا دینا بہتر ہے بلکہ واجب ہے کیونکہ یہ سوال ہے پاکستان کے مستقبل کا۔
پاکستان بننے کے بعد نواب جوناگڑھ نے پاکستان سے الحاق کرنا چاہا۔ اس وقت بھٹو کے والد محترم جونا گڑھ میں دیوان کے عہدے پر فائز تھے (شاہنواز بھٹو) انہوں نے انڈین حکومت کو خظ لکھا کہ جونا گڑھ پر چڑھا ئی کر کے قبضہ کر لیا جائے۔ اس طرح جونا گڑھ کا الحاق پاکستان سے نہ ہو سکا اور وہ اس کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ شاہنواز بھٹو نہرو کے ہم زلف بھی تھے۔ دو بہنیں تھیں جو نہرو کے گھر آتی جاتی تھیں۔ایک کو نہرو نے اپنا لیا دوسری ہندنی شاہنواز بھٹو کی بیوی بنی۔ اسی ہندو عورت کے بطن سے زیڈ اے بھٹو نے جنم لیا۔ ممتاز بھٹو تو اسے اپنے خاندان میں شامل کرنے کو تیار ہی نہ تھے۔ آخر انہوں نے ایک شرط رکھی کہ اگر ان کی ایک عمر رسیدہ بیٹی سے بھٹو شادی کرے تو اسے خاندان میں شامل کیا جا سکتا ہے اس طرح یہ بھٹو کہلائے۔
سکندر مرزا جب صدربنے تو بھٹو نے ان کے باروچی خانے کے لئے مرغیاں بھیجنی شروع کیں اور اس طرح وہ مرزا کی نظر میں آگئے۔ سکندر مرزا نے آخر کار 1956کاآئین ختم کر کے انہیں اپنی کابینہ میں شامل کر لیا۔ سکندر مرزا کے اعزاز میں شاندار ڈنر بھٹو نے اپنے گھر پر دیا لیکن جب ایوب خان نے سکندر مرزا کوگھرروانہ کیا تو بھٹو نے طوطے کی طرح ان سے آنکھیں پھیر لیں۔ کسی نے سوال کیا کہ ’’آپ نے سکندر مرزا سے راہ رسم ختم کر دی؟‘‘ تو جواب تھا کہ ’’ایوب خان ناراض ہو جائیں گے‘‘۔ ایوب خان کو موصوف ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ الیکشن میں ایوب خان کا بھرپور ساتھ دیا۔ سب سے گھٹیا بات جو بھٹو نے محترمہ فاطمہ جناح کے لئے کی وہ محب وطن پاکستانی کا دل دکھانے کے لئے کافی ہے۔ جس پر غیر ملکی صحافی بھی رو پڑے تھے کہ اتنا انسانیت سوز اور رکیک حملہ اپنے بانیان کے لئے کوئی دوغلا انسان ہی کر سکتا ہے۔ وہ کان کھول کر سن لیں جو پاکستان سے محبت رکھتے ہیں کہ یہ غدار ابن غدار لوگ ہیں۔ بھٹو کو زندہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بیٹی بھی کچھ کم نہ تھیں۔ انہوں نے خالصتان موومنٹ کو ناکامی سے ہمکنار کروا دیا۔ سکھوں کے بڑے بڑے لیڈر جہاں چھپے ہوئے تھے ان کی نشاندہی کی۔ بھارتی حکومت نے چن چن کر انہیں ختم کر دیا اور وہ تحریک، اس کی بساط لپیٹ دی گئی ورنہ آج پاکستان سرحد پر ایک دوست ملک ہوتا اور کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا۔ محترمہ اس پر فخر کیا کرتی تھیں کہ راجیو سکھوں پر کبھی قابو نہ پا سکتا اگر وہ مدد نہ کرتیں۔ انہیں آج بھی محترمہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکی حکومت کو خط لکھا کہ ISIاور فوج کو دفاعی امدادنہ دی جائے۔ ایف 16کے لئے جو پرزے فراہم کئے جاتے ہیںانہیں روک دیا جائے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کو ہدایت کی کہ پاکستان کو قرضہ نہ دیا جائے تاکہ میری حکومت قائم ہو سکے۔ عوام بے دست و پا ہو جائیں۔ یہ وہ غدار لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان پر حکومت کی، اس کا کھایا، اسے نوچا کھسوٹا اور اس کے بنیادی ستون ہلا کر رکھ دئیے۔ زرداری نے بھی غداری میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
بلاول اگر پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں تو اس سے غداری بند کرو۔ دوسرا غدار یہ نام نہاد مولوی فضلو یعنی (گائوںکی زبان) میں پھجا ہے۔ اس کے باپ نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کرکہہ دیا تھا کہ پاکستان بننے کے گناہ میں میں شامل نہیں تھا تو پھر یہ پھجا یہاں کیا کرنے آگیا جس نے 23مارچ پر اپنے لب سی لئے کبھی پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھایا، نہ قائد کے مزار پر کبھی حاضری دی۔ قائد سے اتنا بعض رکھنے والے کو پاکستان میں رہنے کا حق کس نے دیا؟ جو اس کے آقا ہیں ان کی جوتیاں صاف کرے۔ سرحدی گاندھیوں کا بھی ایک ٹولہ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس ملک کو دن رات برا بھلا کہنے والے۔ اس کی فوج کو اور حکومت کو گالیاں دینے والے بے غیرت، بے حیا لوگ یہاں رہ کیوں رہے ہیں؟ تمہارا کالا منہ اور نیلے ہاتھ پیر ہوں یہاں سے کوچ کر جائو۔
پھولن دیوی جو ذرا ذرا سی بات پر ٹوئٹ کرتی ہیں۔ جلسے جلوس کرنے نکل پڑتی ہیں 23مارچ پر وہ بھی منہ میں گھنیا ڈال کر بیٹھ گئیں۔ خود تو معلوم ہوتا ہے خاصے صدمے میں تھیں اپنے ایک منظور نظر سے ’’جاوید لطیف‘‘ سے وہ کہلوا دیا جو کہنا چاہتی تھیں۔
جاوید لطیف! تم کس کھیت کی مولی ہو کس کھیت کے خودرو پودے ہو۔تمہار پاکستان سے کوئی لینادینا نہیں۔ زبردستی پاکستانی بننے کی کوشش مت کرو۔ تم پھٹیچر انسان کس حیثیت سے ’’پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگائو گے‘‘ تم ہو کس گنتی میں تم یا تمہاری بات کی اوقات کیا ہے؟ پاکستان ان پاکستانیوں کا ہے جنہوں نے اس ملک کی خاطر اپنی جائیدادیں، املاک، باغات، حویلیاں ،گھر چھوڑے، خالی ہاتھ قائد کی ایک آواز پر چل پڑے۔ پاکستان ان شہیدوں کا ہے جن کے خون سے اس کی مٹی کو سینچا گیا ہے اور مجاہدوں کا ہے جنہوں نے سر پر کفن باندھ کر اس کا دفاع کیا۔ وہ قائد کے سامنے، اپنے اللہ کے سامنے سرخرو ہوئے ہیں۔ تم راندہ درگاہ ہو نکل جائو اس ملک سے۔ غداروں کی یہاں گنجائش نہیں ۔تم بدنصیب لوگ ہو جن کا لیڈر ایک چور اور ڈاکو ہے۔ تم میں اگر غیرت ہوتی تو ایسے کالے کرتوتوں والے لیڈروں سے کنارہ کش ہوتے۔ کیا کسی نے کبھی نعرہ لگایا ’’قائداعظم زندہ ہیں‘‘ قائداعظم محب وطنوں کے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ و پائندہ رہیں گے۔ جب تک یہ دنیا باقی ہے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج کو دعائیں دینے والے بھی امر رہیں گے۔