امریکا کے بعد نیٹو کا بھی افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان

277

صدر جوزف بائیڈن کی طرف سے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلاء کے اعلان کے بعد نیٹو ممالک نے بھی نیٹو ممالک نے بھی اپنی افواج کے انخلا پر ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیٹو کے اتحادی ممالک نے ایک اہم میٹنگ میں افغانستان میں اپنا آپریشن ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں امریکی فوج کو آئندہ 11 ستمبر تک افغانستان سے نکال لینے کی بات کہی گئی تھی۔

امریکا نے 2001ء میں 11 ستمبر کو نیو یارک کے ٹوئن ٹاورز پر القاعدہ کے حملے کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں نیٹو ممالک نے بھی امریکا کا ساتھ دیا تھا اور اپنی افواج افغانستان میں تعینات کی تھیں۔

برسلز میں کانفرنس کے دوران نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس سٹولٹلن برگ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں نے منظم، مربوط اور سوچ سمجھ کر یکم مئی سے  ریزولوٹ سپورٹ فورسز  کی واپسی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم افغانستان کو اپنی حمایت جاری رکھیں گے، ہمارے رشتوں میں یہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہم افغانستان میں ایک ساتھ گئے تھے۔ ہم نے ایک ساتھ مل کر وہاں اپنا انداز اور طریقہ اختیارکیا اور وہاں سے نکلنے میں بھی ہم ساتھ ہیں۔

افغانستان سے افواج کے انخلا کے معاملے پر بات چیت کے لیے اتحادی ممالک کے دفاعی اور خارجی امور کی وزرا کی میٹنگ ہوئی جس میں اس مسئلے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد نیٹو کے سکریٹری جنرل نے افغانستان کے تعلق سے یہ بیان جاری کیا۔