ہم کہاں ہیں؟

21

بے سمتی تو سدا کی تھی سو اب بھی ہم ماضی میں زندہ رہتے ہیں اور ہم مستقبل کے بارے میں کبھی سوچتے نہیں، یہ سوچ ہمیں مذہب نے دے رکھی ہے اور مذہب عقیدہ دیتا ہے اور عقیدہ آپ کو سوچنے نہیں دیتا، اور مستقبل مستقل سوچ مانگتا ہے۔ کوئی گروہ یا قوم اگر نہ سوچے تو مستقبل ایک گمان ہی ہو جاتا ہے اور گمان کی کوئی بنیاد تو ہوتی نہیں، گویا ہم جمود کی کیفیت میں ہیں، کب سے؟ یہ اہم سوال ہے ہندوستان میں ہم نے ہزار سال حکومت کی مگر اس ہزار سال کے دوران ہم مراقبے میں ہی رہے۔ مراقبے میں تو ایک کیف اور سرور کی کیفیت ہوتی ہے اور اس کیفیت میں سوچنا تو کفر ہے سو زندگی گزارتے رہے یا زندگی ہمیں گزارتی رہی اس کا ہمیں پتہ ہی نہیں چلا، بہرحال ہزار سال گزر گئے اور ہم اس گمان میں رہے کہ مسلمانوں کی حکومت اسلامی حکومت ہوتی ہے، تبھی تو انگریزوں کے آنے کے بعد کافر کافر کا شور اٹھا ورنہ اس سے پہلے ہمیں یہ شعور کب تھا کہ جو مسلمان حکمران ہم پر مسلط ہیں وہ کیا کررہے ہیں، ہاں انگریزوں کے آنے کے بعد ہمیں پہلی بار کفر کی شناخت ہوئی اور صرف اتنا معلوم تھا کہ یہ گوری چمڑی والے ہیں اور ہمیں عیسائی بنانے آئے ہیں، یہ بات بس یوں ہی ذہن میں آئی کہ اگر ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ انگریزوں کو نکال باہر کرتے تو پھر مراقبہ جاری رہتا اور ہم یہی سمجھتے رہتے کہ ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ اپنی اپنی ریاستوں کے حکمران ہیں اور وہ اتنے ہی مسلمان ہیں جتنے مغل حکمران تھے اور ان کو اپنے طور پر حکمرانی کا پورا حق ہوتا، میرے نزدیک یہ ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں، مسلمانوں کی حکومت اسلامی حکومت کبھی نہیں ہوتی، ہزار سال میں مغل حکمران وہ کام نہ کر سکے جو انگریزوں نے دو سو سال سے کم عرصے میں کر دیا، حکومت کو ایک نظام کے تحت چلانا، عدالتی نظام، تعلیمی نظام، پولیس، ذرائع آمد ورفت کو بہت موثر بنا دینا۔ ٹیلیگراف اور ٹیلیفون، حتیٰ کہ اردو کو نئے مزاج سے آشنا کر دیا، وغیرہ وغیرہ، بات یہ ہے کہ ہزار سال کے دوران ہندوستان کے باسیوں نے کبھی سوچ سے کام ہی نہیں لیا۔
انگریزوں کے آنے کے بعد انگریزی نظام تعلیم نے ایک انقلاب برپا کر دیا اور ہزار سال کے بعد ہند میں سوچا جانے لگا، وکیل، بیرسٹر، ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، ادیب اور شاعر ایک نئی فضا میں سانس لیتے نظر آئے، ان سیاسی جماعتوں نے آزادی کی تحریک چلا دی جو ان سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہوئے جن کو انگریزوں نے قائم کیا تھا، نظام، دستور، اسمبلی، ریاست ،قانون سازی، انتخاب، جمہوریت، انسانی حقوق جیسی ساری TERMSسے انگریزوں نے روشناس کرایا، اس سے پہلے یہ الفاظ کسی کتاب میں استعمال نہیں ہوئے ہند کے بسنے والوں کو تو یہ بھی علم نہ تھا کہ قوم کیا ہوتی ہے یہ بھی انگریزوں نے بتایا کہ اے ہندوستانیوں تم ایک قوم ہو، انگریزوں کو ہندوستان کے لیڈروں اور عوام کے IQکا خوب اندازہ تھا سو انہوں نے کمال ہوشیاری سے ہندو مسلم تفریق پیدا کی اس کی پرورش کی ہند میں فرقوں کو ابھارا، دیوبند اور بریلوی سکول کی خوب مدد کی اور جاتے جاتے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا تنازعہ کھڑا کر گئے، غور کیجئے کہ یہی چیزیں آج تک خون بہانے کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ اگر انگریزی نظام تعلیم بھارت اور پاکستان اپنے اپنے قومی تقاضوں کے مطابق ڈھال لیتے تو شاید ہر دو ممالک اپنی اپنی عوام کے مسائل حل کر پاتے، شائد خون نہ بہتا اور عوامی شعور مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتا اور زندگی میں بہتری آجاتی، مگر ہوایہ کہ دونوں ممالک میں مذہب نے اس راستے میں بڑے پہاڑ کھڑے کر دئیے اور ممکنہ ترقی کو روک دیا اور لطف یہ کہ دونوں ممالک اپنے لیڈروں کی کم عقلی کو بھی انگریزوں کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔
پاکستان میں ایک نادیدہ ہاتھ نے سیاست دانوں کو مذہب کا غلام بنا دیا، بھارت میں تو جاگیرداری نظام نہرو نے ختم کر دیا مگر پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا، اس کی دو وجوہات تھیں ایک تو یہ حکومت کے تقریباً تمام بڑے لیڈر بھارت سے پاکستان ہجرت کر کے آئے تھے پاکستان کی سرزمین کے لئے وہ سب اجنبی تھے اور ان کا کوئی حلقہء انتخاب بھی نہ تھا، وہ مقامی سیاستدانوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے، اس کھیل کا اندازہ قوم کو اس وقت ہو جانا چاہیے تھا جب قائداعظم سڑک پر ہی دم توڑ گئے مگر اس قوم کو اپنے فائدے اور نقصان کی کبھی پروا ہ رہی نہیں، اس قوم کو سکھایا گیا کہ ہر حال میں نماز پڑھو اور دعا کرتے رہو سو یہ قوم آج بھی یہی کررہی ہے، لیاقت علی خان کا بنگالیوں سے زیادہ پنجابیوں کی جانب جھکائو ایک خاص ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے، پھر وہ تماشا ہوا کہ ملا ملٹری اور فیوڈل اتحاد ہو گیا، تمام سیاسی جماعتیں اس اتحاد کی ہم نوائی میں مصروف اور کسی نام نہاد لیڈر کو یہ توفیق ہوئی اور نہ ہی ہمت کہ وہ اس اتحاد کو توڑ سکے اور اسی اتحاد نے ملک دولخت کر دیا اور ایک آنسو بھی نہ ٹپکا، کل ذوالفقار علی بھٹو کا یوم شہادت تھا اس لیڈر کو پاکستان کے عوام نے سر آنکھوں پر بٹھایا مگر یہ شخص ملک کو دولخت کرنے کا ذمہ دار تھا اور اس معیشت کا قاتل جس نے عوام کی روٹی کی ضمانت دے دی تھی، بھٹو کے بعد معیشت پنپ نہ سکی اور پھر ہم نے زندگی کے ہر شعبے میں انحطاط ہی دیکھا، اس بات کا تو تجزیہ کرنا ہی ہو گا کہ اس کا سبب کیا ہے بدقسمتی سے ہم نے کسی کو قبول کرتے دیکھا نہیں کیا سیاست دان یا فوج یا پھر دینی حلقے، ایک تماشا بنا ہوا ہے کہ عالمی طاقتوں کے اصرار پر ملک میں نام نہاد جمہوریت قائم ہے اور سرپرستی فوج کی، اب صورت یہ ہے کہ کچھ سیاست دان کہہ رہے ہیں کہ انحطاط کی وجہ فوج ہے آئی ایس پی آر کہتی ہے کہ ساری ناکامی سیاست دانوں کی ہے اور فوج کا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں مگر سیاست دان اور فوج میں سے کوئی نہیں کہتا کہ ملک کی ترقی میں اصل رکاوٹ دینی حلقے ہیں جو ہر انقلابی اور سائنسی سوچ کو غیر اسلامی کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ دینی حلقوںکو فوج اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے اور سیاست دان دینی حلقوں کی چاپلوسی اسی لئے کرتے ہیں کہ ان کو ووٹ درکار ہوتے ہیں، سو ان کو وزارتوں سے بھی نوازا جاتا ہے اور ان کی معاونت بھی کی جاتی ہے۔
اس بات سے تو انکار ممکن ہی نہیں کہ عمران کو فوج لے کر آئی ہے اور مکمل کٹر پن کے ساتھ انتہا پسندی کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کا مسئلہ اقتصادی اور معاشی ہے ۔ہر فرد کو روٹی چاہیے اور عمران کہتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ اخلاقی اور دینی ہے، اہل محراب کے پاس اس کا جواب نہیں کہ دین میں ریاست کا تصور کہاں سے آگیا جب ساری زمین خدا کی ہے اور عجب کہ یہ لوگ معاشی مسئلہ جو روٹی سے جڑا ہوا ہے دعا سے حل کرنا چاہتے ہیں، گویا یہ یقین دلایا جارہا ہے کہ جب خدا چاہے گا تو من و سلویٰ اترے گا اور ا گرنہیں اترا تو یہ قوم کے گناہوں کا شاخسانہ ہے۔ لبرلز اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ یہ پورا بیانیہ غلط ہے اور اس بات پر کہ اس کی ضرب فوج پر پڑتی ہے ان کو اٹھا لیا جاتا ہے اور پھرمسنگ پرسنز کا مسئلہ سراٹھاتا ہے، حکومت کے ہاتھوں سے ہر چیز نکل چکی ہے جس کا اعتراف عمران کر چکے ہیں، ملک میں موجود مافیاز اپنی من مانی کررہے ہیں اور ملک کی اپوزیشن دو سو خاندانوں کے درمیان power struggleجاری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ایک اور عشرے تک عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کا نشانہ رہے گا اور ممکنہ طور پر ان کو فوج کی آشیرباد حاصل ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.