پی ڈی ایم کی تدفین، اے این پی نے پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

21

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ امیر مینائی مرحوم نے شائد یہ شعر پاکستان کی سیاست کے لئے لکھا تھا۔ یہ نظم ان کی بہت مشہور نظم ہے جس کایہ ایک مصرعہ اور بھی بہت مشہور ہے ’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘ بات ہورہی تھی پی ڈی ایم اور پاکستان کی سیاست کی چند ماہ 6ماہ پہلے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عمران خان آج گیا کل گیا۔ اس کی حکومت کا جنازہ نکل جائے گا۔ نانی اماں مریم آر یا پار کی باتیں کررہی تھیں۔ مولانا ڈیزل حکومت کو وارننگ پر وارننگ دے رہے تھے۔ عمران خان خود سے حکومت چھوڑ دیں ورنہ ہم ان کو پرائم منسٹر ہائوس سے زبردستی نکال دیں گے۔ ہر شہر میں جلسے ہورہے تھے۔ فوج کا دشمن سابق وزیراعظم جو بھگوڑا ہے عدالت کو دھوکہ دے کر بھاگا ہوا ہے فوج کو دھمکیاں دے رہا تھا۔ جنرل باجوہ اور جنرل حمید سے سوال پر سوال پوچھ رہا تھا کہ مجھے کیوں نہیں دوبارہ اقتدار میں لائے۔ عمران خان میں کیا اچھائی تھی۔ سب اپنی بھانت بھانت کی بولی بول رہے تھے۔ شاہ احمد نورانی مرحوم کا بیٹاکوئٹہ کے جلسے میں ملک توڑنے کی دھمکی دے بیٹھا۔ اختر مینگل نے عمران خان کو دھوکہ دے کر پی ڈی ایم کے جلسوں میں شرکت کرنی شروع کردی۔ محمود خان اچکزئی افغانستان کے بارڈر پر لگی باڑھ کو گرانے کی بات کرنے لگا۔ غرضیکہ ہر طرف ایک ہنگامہ چھایا ہو تھا۔تین چار جلسے کر کے مریم اور مولانا یہ سمجھنے لگے تھے کہ اب وہ عمران خان کو اقتدار سے الگ کر دیں گے لیکن پاکستان کے سیاسی پنڈت اس پی ڈی ایم تحریک کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی حکومت قربانی نہیں کرے گی۔ دوسرے ن لیگ اور زرداری صاحب ایک دوسرے کی ضد میں زرداری کبھی نہیں چاہے گا کہ مریم اپوزیشن کی سربراہ بن جائیں اور بلاول اس کواپنا کندھا فراہم کرے۔ مولانا کو بھی ہر حال میں اقتدار چاہیے، چاہے کسی بھی قیمت پر ان کو منسٹر کالونی سے نکلنے میں بہت تکلیف ہوئی تھی۔ ہر حکومتی دور میں شامل رہے۔ پہلی مرتبہ وہ اقتدار سے الگ ہوئے تھے اور بغیر جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔ پی ڈی ایم کو پہلا جھٹکا لاہور کے جلسے میں لگا جب لوگوں نے لااہور کے جلسے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا اور ن لیگ کی مشہوریت کی قلعی کھل گئی اور یہ ثابت ہو گیا کہ لاہور کے عوام نے پی ڈی ایم کے بیانے کو مسترد کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم کی قیادت کو حقیقت اور اپنی مقبولیت کا پتہ چلنا شروع ہو گیا اور چند ہفتوں میں سینیٹ کے الیکشن میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ یوسف رضا گیلانی کے جیتنے کے باوجود بھی اس کو لیڈر آف دی اپوزیشن بنانے کیلئے ن لیگ نے انکار کردیا پھر حکومت کو یوسف رضا گیلانی کا سہارا دینا پڑا اور باپ پارٹی نے ن لیگ کو شکست دے دی۔ تارڑلیڈر آف دی اپوزیشن نہ بن سکے۔ اب آصف علی زرداری نے اپنا سیاسی کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ انہوں نے استعفے دینے سے صاف انکار کر دیا۔ پھر نواز شریف کو پاکستان آنے کی دعوت دی ظاہر ہے نواز شریف کیسے پاکستان واپس آسکتا ہے۔ فوج کو اتنی گالیاں دے کر اسے جرأت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ پاکستان میں قدم رکھے دفاعی ادارے اپنا کھیل کھیل رہے تھے۔ خطے کی جو فوجی صورتھال ہے وہ کسی قیمت پر بھی ملک میں افراتفری کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے چین اور امریکہ کی جو کشمکش ہے وہ کسی وقت بھی خطے میں جنگ کو ہوا دے سکتی ہے۔ دوسرے بھارت کو جس طرح چین نے پریشر میں رکھا ہوا ہے اور سی پیک کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنا چاہتا ہے تاکہ بھارت کوئی بدمعاشی نہ کر سکے اور کشمیر کو بہانا بنا کر پاکستان پر حملہ نہ کر دے۔ بھارت سے اور بھی کئی ڈراموں کی امید کی جا سکتی ہے اس سے پہلے بھی وہ کئی جعلی حملے اپنی فوج پر کروا چکا ہے۔ افغانستان الگ امریکہ کے لئے بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ان سب باتوں کی وجہ سے فوج عمران خان کیساتھ پرسکون انداز میں کام کر سکتی ہے۔
اے این پی نے باقاعدہ پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کر دیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی لوگ پیپلز پارٹی کی علیحدگی کی امید کررہے تھے لیکن اے این پی نے بہت جلدی کارروائی کی اور باقاعدہ مریم پر الزام لگایا کہ وہ دوسری پارٹیوں کو استعمال کررہی ہیں اب پی ڈی ایم تو دفن ہو گئی اس کا وجود ختم ہو گیا۔ اب عمران خان کو مہنگائی اور غربت کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے ان کی حکومت اب محفوظ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.