یہ کیا تماشہ ہے، میاں؟

18

سقہ شاہی کا قصہ بہت چھوٹے تھے جب پہلی بار سنا تھا۔ شہنشاہ ہمایوں کی ایک سقے نے دریا پار کروانے میں مدد کی تھی اور فراخ دل شہنشاہ نے ممنون ہوکر ایک دن کیلئے بچہ سقہ کو انعام میں ہند کی بادشاہت سونپ دی تھی!
عمران خان کے وہ مفسد سیاسی حریف جو خود فوج کے کندھوں پہ چڑھ کے مسندِ اقتدار تک پہنچے تھے، اور آج تک اپنے سیاسی وجود کیلئے اس کے محتاج ہیں، عمران کو بھی یہ کہہ کے مطعون کرتے ہیں کہ وہ بھی فوج کی مدد سے سریر آرائے مملکت ہوا ہے۔ ہم اس بیہودہ الزام کو نہیں مانتے۔ عمران کو پاکستان کے عوام نے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہے، وہ نواز یا زرداری کی طرح کسی شہنشاہ یا بادشاہ گر کا مرہونِ منت نہیں، لیکن عمران نے اپنے پونے تین سالہ دورِ اقتدار میں انہیں بار بار یہ سوچنے پہ مجبور کیا ہے کہ کیا انہوں نے صحیح آدمی کا انتخاب کیا ہے یا ماضی کی طرح وہ عمران کو اپنا ووٹ دیکر فاش غلطی کربیٹھے ہیں؟
ہم ان میں سے نہیں جو اپنے سیاسی رہنما کے خلاف فتویٰ دینے میں بھی ایسی ہی عجلت سے کام لیں جس عجلت کے ساتھ پاکستان میں کسی کو بھی کافر یا قادیانی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یا پھر امریکہ یا اسرائیک کا ایجنٹ ٹہرا دیا جاتا ہے! ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ہماری نظر میں تو کوئی ایسا نہیں ہے جسے عمران کی جگہ اس قوم کی قیادت سونپی جاسکے! یہ مذاق کی بات نہیں بہت سنجیدہ سوال ہے جو ہر محبِ وطن پاکستانی کو اپنے آپ سے کرنا چاہئے اسلئے کہ پاکستان ہماری نسل کو اجداد سے ورثہ میں ملا ہے اور بد نصیب ہوتی ہے وہ نسل، چاہے کسی مٹی کی ہو، جو اپنے پرکھوں کی میراث کی حفاظت نہ کرسکے!
سوچنے کی بات ہے، بہت سنجیدگی سے غور کرنے والی بات، کہ اس وقت ان میں جو عمران دشمنی میں اندھے ہورہے ہیں قیادت کس معیار کی ہے؟
کیا کوئی سچا پاکستانی زرداری جیسے ڈکیت کے فرزند بلاول کو پاکستان کی قیادت سونپنے کا تصوّر کرسکتا ہے؟ ہمیں تو یہ خیال ہی ایک ڈراؤنا خواب لگتا ہے۔ بلاول اور پاکستان کی قیادت! اللہ اللہ، کیا پاکستانی قوم اتنی گئی گذری ہوسکتی ہے کہ ایک خواجہ سرا اس کا رہنما ہوجائے؟
اور وہ، مفرور اور کند ذہن نواز کی متکبر اور نیم خواندہ دختر، جس کے پیر زمین پر نہیں ٹکتے اور سر مسلسل بادلوں میں رہتا ہے، کیا پاکستان اتنا بے وقعت ہوچکا ہے کہ مریم کو اس قوم کی قیادت دے دی جائے جس کے بنانے والے قائدِ اعظم اور اقبال جیسے ذہین اور بیدار نظر زعما تھے؟
اور تو اور وہ مفسد اور منافق ملا جس کا دین دھرم صرف اور صرف مال و منال بٹورنا ہے وہ بھی پاکستان کی قیادت کا امیدوار ہے تاکہ پاکستان کو پتھر کے دور میں واپس لیجائے!
لیکن عمران نے بھی قوم کو مایوس کیا ہے اور بار بار کیا ہے اور اب وہ مقام آپہنچا ہے جب عوام کی عمران خان کے بارے میں مایوسی شاید اپنی انتہا پر ہے!
ایک عام آدمی کی اولین ترجیح اور ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرسکے لیکن عمران حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہی یہ ہے کہ وہ عوام کی بنیادی ضروریات نہ صرف یہ کہ پورا کرنے میں بری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے، تا حال، بلکہ وہ جو کہاوت ہے کہ مرے پر سودُرّے، ستم بالائے ستم اس دورِ حکمرانی میں یہ ہوا ہے کہ عوام کی بنیادی ضرورت کی اشیأ یا تو ناپید ہوجاتی ہیں یا دستیاب ہوں تو ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوتی ہیں۔ عمران کے سامنے پاکستان کی تاریخ کے صفحات کھلے ہوئے ہیں جن میں لکھاہوا ہے کہ ایوب خان کے مستحکم دورِ حکومت کے زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب ملک میں چینی کی قلت پیدا ہوئی یا دانستہ پیدا کی گئی۔ ایوب نے پاکستان کو مستحکم کیا تھا، پاکستان کی صنعتی ترقی جو ایوبی دور میں ہوئی وہ بے مثال ہے، پھر وہ سنہرا دور آج تک لوٹ کے نہیں آیا۔ ایوب کے بعد آنے والوں نے ملک کو تنزلی دی ترقی نہیں دی۔ لیکن ایوب کے خلاف بھی عوام اٹھ کھڑے ہوئے صرف اسلئے کہ ان کا پیٹ نہیں بھر رہا تھا۔
عمران کو عوام کی خیر سگالی اور ہمدردی یوں لگتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ہی مل گئی لیکن بجائے اس کے کہ عمران اور ان کی حکومت اس کیلئے عوام کا شکریہ ادا کرتی اس نے عوامی مسائل میں اور اضافہ کیا ہے۔ کبھی شکر نہیں تو کبھی آٹا ناپید ہے اور قیمتیں ہیں کہ آسمان پہ پہنچی ہوئی ہیں۔
ملک میں گنا اس کی ضرورت سے زیادہ اگایا جارہا ہے اور اس نے پاکستان کی کپاس کی پیداوار کو اس حد تک گرادیا ہے کہ اب کپاس درآمد کرنے کی نوبت آگئی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں تھا جو کپاس برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل کی صنعت میں دنیا کے چنندہ ممالک کی صف میں تھا۔ لیکن نااہل قیادت نے زراعت کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ دیدہ و دانستہ یہ کیا گیا بلکہ اور ہونے دیا گیا کہ جن زمینوں پر کپاس کی پیداوار ہوا کرتی تھی ان پر گنا کاشت ہوا کیونکہ شکر کے مل مالکان ہر حکومت میں بیٹھے ہوتے تھے۔ گنے کو کپاس کے مقابلے میں کہیں زیادہ پانی چاہئے ہوتا ہے لیکن اس کی بھی کسی کو پرواہ نہیں تھی کہ ملک کے محدود آبی وسائل کو کس طرح بے دریغ شوگر مل مالکان کی ہوسِ زر کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔
لیکن عمران کے دور میں یہ انوکھی واردات بھی ہوئی کہ پہلے شور مچا کہ ملک میں شکر اضافی مقدار میں ہے جسے برآمد کردینا چاہئے۔ شوگر لابی کے سرکردہ زعما، جہانگیر ترین جیسے، عمران کی ناک کا بال تھے سو ملکی شکر باہر بھیج دی گئی تاکہ مل مالکان کی تجوریاں اور بھر سکیں۔ لیکن پھر ملک میں شکر کی قلت پیدا کردی گئی جو مصنوعی تھی اس لئے کہ شکرکی تو مل مالکان ذخیرہ اندوزی کررہے تھے تاکہ اس کی قیمت اوپر چلی جائے۔
عمران کی آنکھیں بند رہیں۔ عوام کی چیخ پکار کے باوجود نہیں کھلیں اور شوگر لابی کے کارندے اپنی لوٹ مار میں لگے رہے۔ اور جب ہوش آیا تو پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا۔
عوام حیران پریشان ہیں کہ یہ ہوکیا رہا ہے؟ عوام کو جانے دیجئے کہ وہ بیچارے آٹے دال اور شکر کے پھیر میں ایسے الجھادیئے گئے ہیں کہ اس سے آگے کی سوچنے کی انہیں مہلت ہی نہیں مل رہی لیکن پریشان و حیران تو وہ برہمن و پنڈت بھی ہیں جن کا کام ہی سیاست کے داؤپیچ سمجھنا اور گتھیوں کو سلجھانا ہے!
سوال تو اب بنیادی یہ ہورہا ہے کہ کیا یہ ہی وہ نیا پاکستان ہے جس کا بڑے طمطراق سے نعرہ بلند کرکے کپتان نے اقتدار میں اپنی اننگز شروع کی تھی؟ یہ جو ہم اپنی آنکھوں سے ڈرامہ دیکھ رہے ہیں یہ تو ہمیں بدترین قسم کی سقہ شاہی نظر آتی ہے جس میں وزیرِ اعظم، جس کے پاس تجارت کا قلمدان بھی ہے اپنی وزارتِ تجارت کی طرف سے بھیجی گئی ایک سمری پر منظوری دیتا ہے کہ ملک میں شکر اور کپاس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے یہ دونوں اشیأ پڑوسی بھارت سے درآمد کی جائیں۔ مشورہ صائب تھا کہ بھارت سے یہ دونوں اجناس منگوانے میں باربرداری کا خرچہ کم لگے گا اور وقت کی بچت الگ ہوگی۔ پھر وزیرِ اعظم کی سربراہی میں کلیدی اقتصادی رابطہ کونسل اس پر مزید صاد کردیتی ہے اور نیا وزیرِ مالیات، نوجوان حماٌد اظہر جوش میں آکر ایک پریس کانفرنس میں اس کا باضابطہ اعلان بھی کردیتا ہے اور پوری قوم واہ واہ کرتی ہے کہ یہ بہت اچھا اقدام ہوگا!
لیکن دوسرے ہی دن عمران خان ایک بار پھر وہ قلابازی کھاتے ہیں جس کیلئے وہ دن بہ دن رسوا ہورہے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں وزیرِ اعظم نے ان وزرأکے سامنے ہتھیار ڈال دئیے جن کا خیال یہ ہے کہ اس بھارت سے تجارت کرنا اصولی طور پہ غلط ہوگا جو کشمیر کو دبائے بیٹھا ہے اور بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے!
سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کو اس وقت ہوش نہیں تھا جب وہ سمری پہ منظوری دے رہے تھے کہ بھارت کشمیر کے مسئلہ پر آنا کانی کررہا ہے؟ اور کیا اسی بھارت سے ادویات نہیں منگوائی جارہیں جس سے کپاس یا شکر لینے میں آسمان سر پہ گر جائے گا اور پاکستان کی اصول پسندی رسوا ہوجائے گی۔!
رسوائی تو میاں اس قلابازی کے بعد ہورہی ہے جو عمران میاں نے کھائی ہے۔ حماد اظہر کے اعلان کے بعد دنیا نے اس کا خیر مقدم کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جمی ہوئی برف پگھلنا شروع ہوجائے گی اور تعلقات کو معمول پر لانے کا جو سلسلہ کشمیر کی سرحد، یعنی سیز فائر لائن پر جنگ بندی سے شروع ہوا ہے، دو ماہ پہلے، وہ آگے چلے گا اور مزید بہتری پیدا ہوگی۔ آپ اپنے عوام کو شکر کیلئے ترسا کر اور پاکستان کی ٹیکسٹائل کی صنعت کو کپاس سے محروم رکھ کر اپنے عوام اور اپنی معیشت کی کیا خدمت کرینگے؟
ٹھیک ہے آپ بھارت سے تجارت نہ کریں کیونکہ آپ کی اپنی کابینہ میں وہ عناصر بیٹھے ہوئے ہیں جنہیں شکر کی قلت سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔ یہی تو وہ ذخیرہ اندوز ہیں جو عوام کو مہنگے داموں شکر بیچ کر اپنی تجوریاں اور بھرنا چاہتے ہیں۔ ان کی ہوس کم نہیں ہوتی اور عمران کی قلابازیاں بھی کم ہونے کو نہیں آرہیں!
کوئی کپتان کو ہوش دلوائے کہ میاں حکومت کرنے کیلئے تدبر اور ذہانت درکار ہوتی ہے نہ کہ گنڈے تعویذ۔
کپتان کے پاس، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملک کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے نہ کوئی منصوبہ ہے نہ ایسے مشیر جو صائب مشورہ دے سکیں۔ مشیر کیوں نہیں ہیں اس میں بھی وزیر اعظم کی اپنی انا کو دخل ہے۔ ان میں مردم شناسی کا فقدان ہے جو ان کی قلابازیوں سے آئے دن الم نشرح ہوتا رہتا ہے۔ خدا کی پناہ معیشت بھنور میں گھری ہوئی ہے لیکن وزیر اعظم کو کوئی ایسا وزیرِ خزانہ نہیں مل رہا جو پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دے سکے۔ ان کی نظر ہر پھر کے انہیں پٹے ہوئے مہروں کی طرف جاتی ہے جو امریکہ اور اس کے زیرِ اثر عالمی مالیاتی اداروں کے غلام ہیں اور ان کے سامنے کاسۂ گدائی لیکر کھڑے ہونے کے سوا ان کے پاس اور کوئی حکمت، کوئی نسخہ نہیں ہے!
غضب خدا کا، ڈھائی پونے تین سال میں تین وزرائے خزانہ بدل چکے ہیں اور چوتھے سے بات چیت ہورہی ہے۔ حماد اظہر نوجوان ہیں، اچھے خاندان سے ہیں، ان کے دامن پہ کسی کی غلامی کا داغ نہیں ہے لیکن انہیں وزارتِ خزانہ کا قلمدان سونپے ایک دن ہوا تھا کہ وزیرِ اعظم کے قریبی حلقوں نے یہ راز فاش کردیا کہ وہ ایک اور پٹے ہوئے گھوڑے پہ داؤ لگانا چاہتے ہیں۔
شوکت ترین عمران کے پرانے دوست ہیں لیکن ترین صاحب عمران سے زیادہ امریکہ کے دوست ہیں کیونکہ وہ بھی شارٹ کٹ عزیز کی طرح امریکہ کے بنکوں کے پروردہ ہیں جن کی وفا داری ان بنکوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور پاکستان سے کم۔ ترین صاحب مشرف کے وزیر مالیات رہ چکے ہیں اور ان کے خلاف نیب کے پاس وافر مواد ہے ان کی کرپشن کی کارروائیوں کی۔ سنا ہے ترین صاحب اپنے دوست سے اصرار کررہے ہیں کہ وزارتِ خزانہ کا قلمدان سنبھالنے سے پہلے ان کے خلاف نیب کا کھاتہ بند کیا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے کھل کھیل سکیں۔ انہیں صاف سلیٹ چاہئے جس پر وہ پاکستانی معیشت کی تباہ حالی کی ایک نئی داستان لکھ سکیں!
ذکر ہوا ان ذاتِ شریف، شارٹ کٹ عزیز کا جنہوں نے مشرٌف کے وزیرِ اعظم بن کر ملکی معیشت کو جتنا ممکن ہوا اپنے بدیسی سرپرستوں کی گود میں ڈال دیا۔ ان کی تو تمام تر کوشش تھی کہ پاکستان اسٹیل ملز کو بھی اونے پونے داموں بیچ کر چھٹی کریں اور وہ یہ سودا ان بنیؤں کے ساتھ کرنا چاہتے تھے جن کی ملازمت انہوں نے پاکستان سے فارغ ہونے کے بعد کی۔ خیر وہ سودا تو افتخار چودہری نے نہیں ہونا دیا لیکن اب حال یہ ہے کہ کراچی میں اسٹیل ملز چھہ برس سے بند پڑا ہوا ہے۔ پہیہ مستقل جام ہے اس کا لیکن کسی کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی۔ نئے پاکستان بنانے کے دعویدار کو بھی اب تک ہوش نہیں آیا کہ یہ سفید ہاتھی اب ہمارے بس کا روگ نہیں ہے۔ اب ہمارے چینی دوست اس کو چلانا چاہتے ہیں اس میں اپنا سرمایہ لگا کر اسے فعال کرنا چاہ رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ عمران حکومت کے مذاکرات چیونٹی کی رفتار سے چل رہے ہیں۔ مغربی ساہوکاروں کے ساتھ ہمارے معاشی ماہرین اور بقراط سودا بہت عجلت میں نمٹا دیتے ہیں کیونکہ وہاں سے فضلِ ربی ہوجاتا ہے۔ چینی بیچارے اس جوڑ توڑ کے ماہر نہیں ہیں لہٰذا ان کے ساتھ معاملات نپٹنے میں ہزار دشواریاں ہوتی ہیں۔ یہی اسٹیل ملز کے معاملے میں ہورہا ہے۔
معیشت سسک رہی ہے، عوام اپنے سر پیٹ رہے ہیں لیکن کپتان اب بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے پیٹ نعروں اور ان دعووں سے بھر جائینگے جو اب بہت کھوکھلے لگتے ہیں۔ ہم یہ کالم ختم کرنے ہی والے تھے کہ ایک دوست نے پاکستان سے اس تقریر کا حوالہ بھیجا جو وزیرِ اعظم نے کسی مجموعے میں کی اور حسبِ عادت وہی انداز رکھنا چاہا کہ عوام بالکل نہ گھبرائیں!
کان پک گئے ہیں پاکستانی عوام کے یہ کھوکھلا اور بے مقصد مشورہ سنتے سنتے۔ سو اس مجمع میں موجود ایک خاتون کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا اور مجبور ہوکر انہوں نے کہہ ہی دیا کہ حضور،’’ اب تو گھبرانے کی اجازت دے دیجئے‘‘!
کوئی سمجھائے، کپتان کو کہ خدارا ہوش کے ناخن لو۔ اس سے پہلے کہ تمہاری بساط کوئی امپائر الٹ دے حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کرلو ورنہ یہ نہ ہو کہ ڈور بالکل ہی تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ یہ جو تم نے سقہ شاہی جمائی ہوئی ہے یہ نہ تمہارے حق میں ہے نہ پاکستان کے۔ فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے مضمرات پر غور کرلو ورنہ یہ الل ٹپ والی حکومت سازی اب زیادہ دیر تک نہیں چلے گی!
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ

Leave A Reply

Your email address will not be published.