کیا کھیل ختم ہو چکا

22

امریکہ استنبول میں افغان کانفرنس کا اہتمام کر رہا ہے اور طالبان لیڈر اپنی فتح کا اعلان کر رہے ہیںامریکہ کو یہ خبر سراج الدین حقانی کی ایک تقریر سے ملی چند روز پہلے کی گئی اس تقریر میں طالبان لیڈر نے اشرف غنی حکومت کو کٹھ پتلی اور نا جائز قرار دیتے ہوے کہا کہ اسکے دن گنے جا چکے ہیںاور اب اسکے بیرونی آقا اسکی حفاظت نہیں کر سکتے طالبان ویب سائٹ پرہر روز افغان نیشنل آرمی کے ہلاک ہونیوالے فوجیوں کی تعداد بتائی جاتی ہے آجکل اسمیں یہ اطلاع بھی دی جارہی ہے کہ طالبان جنگ جیت چکے ہیںاکتیس مارچ کے نیو یارک ٹائمز کی ایک خبرمیں لکھا ہے کہ This belief is grounded in military and political reality یعنی اس یقین کی جڑیں فوجی اور سیاسی حقائق میں ہیں‘ تو کیا مغربی دنیا کے سب سے بڑے لبرل اخبار کے اس تبصرے یا وضاحت کو اعتراف شکست یا افغان جنگ کا حرف آخر سمجھا جا سکتا ہے حقیقت جو بھی ہو یہ خبر اسلئے بھی اہم ہے کہ اسے کابل سے بھیجا گیا ہے اخبار کے فرنٹ پیج پر چھپنے والی اس خبر میں رپورٹر Adam Nossiter نے اطلاع دی ہے کہ یہ تاثر اب عام ہو رہا ہے کہ طالبان اس جنگ کے فاتح ہیں اور انہیں کسی بھی سمجھوتے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ طالبان کیونکہ امریکی حکومت کی اس پیشکش کو اہمیت نہیں دے رہے کہ کابل میں ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے اسلئے استنبول کانفرنس کے نتیجہ خیز ثابت ہو نیکا امکان نہیں ہے افغانستان کے عسکری اور سیاسی حقائق کے بارے میں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ہر ماہ افغان نیشنل آرمی کے تین ہزار فوجی ہلاک ہورہے ہیں جو کہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے Sustainable یا برقرار رہنے والی صورتحال نہیں کہا جا سکتا ان ہلاکتوں کی وجہ سے افغان فوجیوں کے حوصلے خاصے پست ہو چکے ہیں ‘ وہ اپنی چیک پوسٹوں کا دفاع کرنے کی بجائے راہ فرار اختیار کر رہے ہیںاسکے علاوہ طالبان یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ افغان فوجی ایک بڑی تعداد میںملازمت چھوڑ کر انکے ساتھ شامل ہو رہے ہیں ا س رپورٹ کے مطابق طالبان یہ بھی کہہ رہے کہ یہ جنگ انہوں نے اسی روز جیت لی تھی جب ایک سال پہلے امریکہ نے انکے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کئے تھے ایڈم نوسیٹر نے لکھا ہے کہ طالبان لیڈر آجکل بڑے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ ا نہوں نے دنیا کے طاقتور ترین ملک کو شکست دے دی ہے اب اسکے بعد جو کچھ بھی ہے وہ بچوں کا کھیل ہے اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کھیل ختم ہو چکا ہےThe game is essentially over
اس خبر میں کابل اور جلال آباد کے دو رپورٹروں کے علاوہ نیویارک میں اخبار کے نیوز ایڈیٹر نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے نیو یارک ٹائمز میں ہر روز دنیا بھر سے آئی ہوئی خبریں شائع ہوتی ہیں ان خبروں میں رپورٹر کے آزادی اظہار پر قدغن نہ لگانے کے علاوہ اخبار کی پالیسی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے اس خبر کے باقیماندہ حصے میں امریکہ اور افغانستان میں ماہرین سے پوچھا گیا ہے کہ کیا اس بات پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ طالبان یہ جنگ جیت چکے ہیں اس سوال کے جواب میں جاوید کوہستانی جو افغان حکومت میں سیکیورٹی افسر رہ چکے ہیں نے کہا ہے کہ طا لبان یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو شکست دے دی ہے اسلئے اب باقی جتنے بھی حریف میدان جنگ میں رہ گئے ہیں انہیں بھی شکست دی جا سکتی ہے افغان امور کے ماہر Antonio Giustozzi کی رائے میں طالبان جانتے ہیں کہ انہیں ایک ایسی ریاست پرحکومت کرنا ہوگی جو اپنے 80 فیصد اخراجات کیلئے بیرونی امدادپر انحصار کریگی اس صورتحال میں وہ بین الاقوامی برادری سے اسطرح کٹ کر نہیں رہ سکتے جسظرح وہ 1996—-2001 میں رہے تھے مگر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کابل حکومت دفاعی پوزیشن میں ہے اور طالبان مسلسل دیہاتی علاقوں کو زیر اثر لانے کے علاوہ چھوٹے شہروں پر بھی قبضہ کر رہے ہیں
بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ یکم مئی تک افواج واپس نہیں بلا سکتی اسکے جواب میں طالبان نے کہا ہے کہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی اور اسکا سخت جواب دیا جائیگا دوسری طرف اشرف غنی کسی وسیع البنیاد حکومت کو تسلیم کرنے پر اسلئے آمادہ نہیں کہ اس صورت میں انہیں صدارت سے دستبردار ہونا پڑیگاصدر اشرف غنی نے جنوری میں امریکہ کے Aspen Institute کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ We hope for the best but prepare for the worst یعنی ہم بہترین نتائج کی امید رکھتے ہیں مگر خراب ترین حالات کیلئے بھی تیار ہیںیہاں ’’ خراب ترین حالات‘‘ سے انکی مراد یہی ہے کہ وہ طالبان سے ایک طویل جنگ کا ارادہ رکھتے ہیںامریکی تجزیہ نگار Antonio Giustozzi کی رائے میں اشرف غنی کو یہ تسلیم کر لینا چاہیئے کہClearly the war has been lost اور حالات واضح طور پر طالبان کے حق میں ہیںبعض دوسرے امریکی ماہرین کی رائے میں طالبان اگر چہ کہ یہ سوچ رہے ہیں کہ جنگ انہوں نے جیت لی ہے مگر انہیں اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھنا چاہیئے کہ اس جنگ میں امریکہ کے علاوہ ایسے مسلح افغان گروہ بھی شامل ہیں جو کابل کو آسانی سے طالبان کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے ان ماہرین کا کہنا ہے کہ پچیس برس قبل جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تھا تو اسوقت بھی انہیں شمالی اور مشرقی علاقوں میںجنگجو سرداروں کا مقابلہ کرنا پڑا تھا جسکے نتیجے میں وہ پورے ملک پر حکمرانی نہ کر سکے تھے
صدر بائیڈن کے حالیہ بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی افواج اگر یکم مئی تک واپس نہ آ سکیں تو رواں سال کے آخر تک آ جائیں گی طالبان جمہوریت کو نہیں مانتے اور اقتدار میں شراکت داری بھی تسلیم نہیں کرتے اسلئے وہ فتح کابل تک جنگ جاری رکھیں گے بائیڈن انتظامیہ نے اشرف غنی حکومت کو امریکی انخلا کے بعد خلیجی ممالک میں اپنے اڈوں سے طالبان پر فضائی حملے جاری رکھنے کا یقین دلایا ہے نظر یہی آ رہا ہے کہ امریکی افواج کی واپسی کے بعد بھی افغان جنگ جاری رہیگی یہ جنگ کب ختم ہو گی اور اسکے پورے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اسکا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.