سنگاپور کی ترقی کا راز، حیرت انگیز کہانی

16

سنگا پور آج ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ یہ ایک پسماندہ ملک سے (جسے ملک کہنا بھی غلط تاثر دے گا، یہ محض ایک بڑا سا شہر ہے) پانچ چھ دہائیوں میں ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو گیا جب کہ ایشیا اور افریقہ کے ممالک آج تک ترقی یافتہ نہیںہو سکے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ سوشل میڈیا پر کسی نے ایک کہانی شائع کی ہے جس میں اس راز سے پردہ ایک دلچسپ انداز سے اٹھایا گیا ہے۔ لیجئے ، آپ بھی پڑھیے اور لطف انداز ہوں، اگرچہ دانشمندوں کے لیے اس میں بہت سے اسباق ہیں۔
یہ سنگاپور کے مرحوم وزیر اعظم لی کوان یوکا ایک فرضی خط ہے جو انہوں نے، چند دن پہلے، اپنی وفات(22 مارچ 2021) کے بعد گھانا (افریقہ) کے قائدین کو لکھا:
پیارے گھانا کے قائدین، آپ نے جو میری وفات پر تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں ان کا بہت شکریہ۔ میں 91سال کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوا ، جو کچی عمر نہیں تھی۔در حقیقت، سنگا پور میں، جہاں میں نے 31سال حکومت کی، توقع حیات مردوں کی 80سال اور عورتوں کی85 سال ہے۔اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ میں توقع حیات سے بھی11 سال زیادہ زندہ رہا۔ میری زندگی اچھی گذری جو میں نے اپنی قوم کی ترقی اور خوشحالی پر صرف کی۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں جو کچھ کیا اپنی قوم کی بہتری اور بھلائی کے لیے کیا، اور اپنی ذاتی مفاد کے لیے نہیں، اگرچہ اس میں مجھے کبھی سختی بھی کرنی پڑی۔میں نے دنیاایک مطمئن شخص کی طرح چھوڑی، جس کا مجھے کوئی افسوس نہیں۔
آپ کی اجازت کے ساتھ میں مختصراً سنگاپور کی کہانی بتاؤں جس کی وجہ سے آج دنیا میں سنگاپور کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے ،مایوس کن جزیرہ تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ ہماری بقا نا ممکن تھی۔ہم نے 1963 میں ملایا اور دوسرے ملکوں کے ساتھ ملکر ایک اتحاد بنایا۔جسے ملائیشیا کہتے ہیں۔ لیکن نسلی فسادات کی وجہ سے دو سال میں ہی ہمیں اس اتحاد سے نکال دیا گیا، جس پر میں رو پڑا کہ اب ہم کیسے زندہ رہیں گے؟حالات اتنے خراب تھے کہ پینے کا پانی نہیں تھاجو باہر سے لانا پڑتا تھا۔کوئی قدرتی وسائل نہیں تھے۔ نہ تیل، نہ سونا، نہ معدنیات۔ کچھ بھی نہیں۔جو کچھ تھا وہ ہمارے لوگ اور بندرگاہیں۔میرے پیارے گھانا والوں، ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اسی سے شروعات کریں گے۔اور اپنی قسمت بدلیں گے۔
آج ہماری کہانی بالکل بدل چکی ہے اور ہم پسماندہ ملک نہیں رہے۔ہم ایشیا کے چار شہروں میں سے ایک ہیں، جو اپنی حیرت انگیز ترقی کی وجہ سے مشہور ہیں۔سنگا پور ایشیا کا واحد ملک ہے جس کی تمام کریڈٹ ایجنسیوں میں AAA کی ریٹنگ ہے۔ہم دنیا کا چوتھا سب سے بڑا مالی مرکز ہیں۔ ہمارا ملک دنیا کی پانچویں مصروف ترین بندرگاہ ہے ۔ صنعت کاری ہماری معیشت کا تیس فیصد حصہ ہے۔سنگاپور ، فی کس کل ملکی پیداوار کے حساب سے دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے ۔گھانا کے مقابلہ میںہمارے ملک میں ایک قطرہ بھی تیل نہیں پیدا ہوتا۔لیکن ہم گھانا کے مقابلہ میں ، پٹرولیم کی مصنوعات کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہیں۔ہمارا ملک دنیا کے تین سب سے بڑے تیل کی ریفائنریز میں سے ایک ہے ۔ماضی میں ہم تیل کی تمام مصنوعات درآمد کیا کرتے تھے۔تمہیں اچنبھا ہو گا کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے تیل نکالنے کی مشین بنانے والے ہیں۔ اور عالمی بینک نے ہمیں دنیا میں بزنس کرنے کی آسان ترین جگہ قرار دیا ہے۔
ہم نے یہ سب کچھ کیسے کیا؟ ہم بھی آپ گھانا کے لوگوں کی طرح عام سے انسان ہیں۔کوئی شعبدہ باز نہیں، اور نہ ہی فرشتے ۔سب سے پہلے ہم نے یہ پہچان لیا کہ اعلیٰ انسانی قیادت کا کوئی بدل نہیں۔مجھے معلوم ہے کہ گھانا کے عوام کو ان کی مشکلات کا ذمہ وار سمجھا جاتا ہے، کہ جیسے عوام، ویسے ان کے قائدین۔ یہ غلط ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اچھے قائد ہوں تو عوام بھی اچھے ہوتے ہیں۔ قائد اہم فیصلے کرتے ہیں اور رستہ بتاتے ہیں، اسی لیے انہیں رہنما کہتے ہیں۔ایک مثل ہے کہ کتا دم کو ہلاتا ہے نہ کہ دم کتے کو۔اگر ڈرائیور گاڑی خراب چلا رہا ہے تو مسافروں کو برا نہیں کہہ سکتے۔ ملکوں کی تقدیر اچھی قیادت ہی بدلتی ہے۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ ترقی کا راز اعلیٰ سوچ پر منحصر ہے۔ وہ ایسے ہی ترقی نہیں کرتے۔ترقی منصوبہ بندی سے ہوتی ہے۔ایک قائد جسے سنگین مسائل کو سمجھنے کی لیاقت ہو، وہ اپنی ٹیم میں ایسے بندے چنتاہے جو ان مسائل سے نبٹنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ وہ انہیں اپنی سوچ میں شامل کرتا ہے، اور ان کو ذمہ واری سونپتا ہے، اور ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہاں سفر شروع ہوتا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ مسائل کا حل تعلیم ہے، بجلی ہے، صحت ہے، اور بنیادی ڈھانچہ تو لازمی ہیں،جن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ سب سے بڑی بات کہ قائدین کو ذاتی فائدوں،اور اپنی جیبیں بھرنے کا لالچ نہ ہو۔اور تم گھانا والوں، تمہارا یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔تمہیں عہدوں سے ملنے والی مراعات کاتعلق زیادہ ہے اور جس کام کے لیے تمہیں عہدہ دیا گیا ، وہ تم بھول جاتے ہو۔ میری معلومات کے مطابق، کہ شہر میں کھڑے صدارتی جیٹ جہازوں کے علاوہ تم کرایہ کے جیٹ طیارے لینے کے شوقین بھی ہو۔یہ کتنا بڑا اسراف ہے۔ایک چھوٹی سی کہانی سنو!
1973میں، میں اوٹاوا، کینیڈا میں کامن ویلتھ کی میٹنگ کے لیے گیا۔ وہاں بنگلہ دیش کا وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمنٰ، بڑے کر و فر کے ساتھ اپنے جہاز میں آیا۔ جب میں پہنچا تو دیکھا ایک بوئنگ 707 جس پر بنگلہ دیش لکھا تھا وہ کھڑا تھا۔ اور جب میں آٹھ دن کے بعد واپس جا رہا تھا، وہ جہاز وہیں کھڑا تھا۔آٹھ دن یہ جہاز بے کار کھڑا رہا اور نقصان اٹھاتا رہا۔جب میں ہوٹل سے نکل رہا تھا دو ٹرکوں پربنگلہ دیشی جہاز میںبڑے بڑے پیکیج رکھے جا رہے تھے۔ اور کانفرنس میں مجیب الرحمنٰ نے اپنے ملک کے لیے بیرونی امداد کی زوردار اپیل کی تھی۔اگر کوئی مجیب الرحمنٰ کو مشورہ دے سکتا تو کہتا کہ ایک طرف تم امداد کی اپیل کر رہے اور دوسری طرف، جہاز آٹھ دن تک رو ک کر اتنی بڑی فضول خرچی دکھا رہے ہو؟
کینیا اور نائجیریا کے صدور بھی اس طرح اپنے جہازوں میں آئے۔مجھے حیرت ہے کہ انہوںنے اگر دنیا سے خیرات مانگنی تھی تو کیوں نہیں سادگی کا مظاہرہ کیا؟ اقوام متحدہ میں ہمارے سفیر نے بتایا کہ جتنا غریب ملک ہوتا ہے اس کے قائد کے لیے اتنی ہی بڑی کیڈیلاک گاڑی کرایہ پر لی جاتی ہے ۔ اس لیے میں نے یہ اصول بنا لیاکہ میں عام ائرلاین پر سفر کرتا تھا، اور اس طرح کتنے سال میں سنگا پور کا ایک ترقی پذیر ملک کا مرتبہ قائم رکھ سکا۔لیکن90کی دہائی میں عالمی بینک نے زبردستی ہمیں ترقی یافتہ ملک قرار دے دیا جس سے ہمیں کئی مراعات ملنی بند ہو گئیں۔
میرے گھانا کے رہنماؤں، تم بہت زیادہ مذہبی ہو۔ تم میں سے جو مسلمان ہیں، دن میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں۔اکثر حج پر جاتے ہیں، رمضان میں روزے بھی رکھتے ہیں، اور ہر فقرے میں اللہ کئی بار بولتے ہیں۔جو عیسائی ہیں، وہ بھی زبانیں بولتے اور بتسمہ لیتے رہتے ہیں، اور عشرہ بھی دیتے ہیں، اور زبردست خیرات دیتے ہیں۔ اور ہر صبح گھر پر بھی دعائیں مانگتے ہیں۔ لیکن ان چیزوں کے باوجوداپنی ریاست کے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے میں تمہیں کوئی عار نہیں۔ٹھیکوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا،خونی قاتلوں کے جتھے رکھنا، اور ضمیر کو خاموش رکھ کر دیکھنا کہ لوگ صاف پانی اور اچھے ہسپتالوں کو کیسے ترستے ہیں۔بد قسمتی سے میں ایک بے مذہبی حیثیت سے مرا۔میں نے نہ خدا کی ہستی کا انکار کیا اور نہ اقرار۔میرے بھائی گرجے جاتے تھے لیکن میں نہیں۔ لیکن یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کو خداپر ایمان لانے سے منع کر رہا ہوں۔ میں صرف اس بات سے حیران ہوں کہ لوگ کیسے خدا پر ایمان بھی رکھتے ہیںاور اس کے ساتھ کس ڈھٹائی سے وہ کرتے ہیں جس سے انہیں بائبل اور قران منع کرتے ہیں؟ میں کبھی اس حیرت سے نہیں نکل سکتا کہ تم لوگ کس قدر دوغلے ہو، اور کیسے مذہب اور لالچ کو ساتھ ساتھ لیکر چل سکتے ہو؟
میں آپ لوگوں کا مشکور ہوں کہ میرے مر نے پر تعزیتی پیغامات بھیجے اور دکھ کا اظہار کیا۔ اور مجھے عظیم کہا۔ لیکن میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی عظیم بن سکتے ہیں، اگر آپ اپنی راحت کو اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے قربان کر دیں۔گھانا میں بھی لی کوان یو بن سکتا ہے۔میں تو قبر میں ایک خوش باش انسان جا رہا ہوں۔ اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ بھی ایسے ہی دنیا چھوڑیں گے؟
صاحبو! لی کوا ن یو نے سنگا پور کو کیا سے کیا بنا دیا، یہ دنیا میں ایک اچھی ریاست کی اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن جو کچھ اس کے نام پر کسی نے گھانا والوں کو مخاطب کر کے کہا، کیا پاکستانی سیاستدانوں پر جو کئی دہائیوں حکومت کرتے رہے، حرف بحرف پورا نہیں آتا؟پاکستان کے سابق حکمران اسی طرح پورا جہاز لیکر سفر کرتے رہے ہیں۔اسی طرح ملک کے خزانے لوٹتے اور ٹھیکوں کی رقمیں بڑھاتے رہے ہیں جیسے کہ گھانا والے۔ جن چیزوں کو سنگا پور میں ترقی کے اولین اہداف بنایا گیا پاکستانیوں نے انہی کو پس پشت رکھا جیسے تعلیم، صحت، بجلی اور بنیادی ڈھانچہ۔ بے شرم قائدین نے بے شرم قوم بنا دی جو رشوت کو اب ایک جائز حرکت سمجھتی ہے، اور راشیوں کے بادشاہ کو یاد کر کر کے روتی ہے۔
ستر سال پہلے سنگا پور، ملایا کا ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا جس کا کل رقبہ ۵۸۶ مربع کلو میٹر تھا۔اور 1970 کے اعداو شمار کے مطابق، اسکی کل آبادی 21لاکھ سے بھی کم تھی۔اس میں تین چوتھائی سے زیادہ چینی نژاد تھے، 15 فیصد ملایا کے اور 7 فیصد ہندوستانی۔ فی مربع میل 9,421 کی آبادی تھی۔ آبادی بڑھنے کی رفتار صرف 1.69فیصد سالانہ تھی۔اور ساری آبادی خواندہ تھی۔اس جزیرہ کی سب سے بڑی خوبی اس کی بندرگاہ تھی جسے انگریزوں نے کہا کہ ایشیا کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے ۔ یہاں ہی سے ملایا کا، ٹن اور ربڑ دساور کو جاتا تھا۔1951 میں سنگا پور کو برطانیہ نے ایک شہر کا درجہ دیا۔اور1965 میں یہ ایک خود مختار ریاست بنی۔دنیا کی دوسری شہری ریاست۔ پچاس سال بعد 2019میں اس کی آبادی 57 لاکھ تھی۔ اور اس کی کل ملکی پیداوار 392 بلین ڈالرکے قریب تھی۔ اور فی کس آمدن $68,487 سالانہ تھی۔ جو کہ دنیا میں ساتواں نمبر تھا۔
لی کوان یو کے ساتھ اس کے ہموطنوں نے بلا چوں چرا تعاون کیا۔ اور اس مخلص، بے لوث، اور سمجھدار قائدنے سنگا پور کو کیا سے کیا بنا دیا۔ حسن اتفاق سے پاکستان کو بھی آخر کار ایک ایسا قائد مل گیا ہے، اب دیکھیں پاکستانی اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.