اکھیوں کے جھروکوں سے!!

16

کچھ چیزیں ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس لئے ہم ان کے بارے میں زیادہ سوچتے نہیں ہیں۔ دن ہوتا ہے رات ہو جاتی ہے بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں اللہ میاں نے دنیا اسی طرح بنائی ہے یہ ہم سب جانتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ سولر سسٹم جس طرح چل رہا ہے اس کے متعلق دنیا میں شاید پانچ فیصدی لوگ بھی نہیں جانتے بس ہمیشہ سے دیکھ رہے ہیں تو سوچا ہی نہیں اسی طرح سے ہزاروں چیزیں ہماری آنکھوں کے سامنے ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں نہ ہم سوچتے ہیں نہ کوئی تحقیق کرتے ہیں۔ دوسری چیزوں کو تو چھوڑیں اللہ میاں کی دی گئی اتنی بڑی نعمت ’’آنکھیں‘‘ ان کے بارے میں بھی معدودے چند لوگ ہی سوچتے ہیں کہ وہ کیسے کام کرتی ہیں۔ کیوں ہم تھوڑی دیر میں پلکیں جھپکتے ہیں، کیوں یہ آنکھیں روتی ہیں، کبھی نہ سوچا؟ بس ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس لئے کبھی ان باریکیوں کی طرف دھیان ہی نہیں گیا۔
آپ نے بہت دنیا دیکھی ہو گی بہت کچھ اس کے بارے میں سیکھا ہو گا۔ آج ہم آپ کو آپ کی آنکھوں کے بارے میں کچھ بتائیں گے، کچھ ایسی نئی باتیں جو غالباً آپ کو نہیں معلوم ہوں گی۔ آنکھیں جنہیں ’’Windows of the world‘‘کہا گیا ہے۔
ایک بار پلک جھپکنا سیکنڈ کے دسویں حصے میں ہوتا ہے اور ہر انسان ایک منٹ میں پچیس بار پلکیں جھپکاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم پلکیں کیوں جھپکاتے ہیں تو اس کا جواب ہے آنسو روکنے کیلئے جی ہاں انسان کی آنکھیں ہر وقت آنسو بناتی رہتی ہیں اور پلکیں جھپکنے سے یہ آنسو صاف ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کام اتنی جلدی جلدی ہوتا ہے کہ آنسو بننے کا آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا ہے۔ دماغ کی ایک Nerveآنکھوں سے کہتی رہتی ہے کہ آنسو صاف کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔
آنکھوں سے متعلق دوسری حقیقت ’’رونا ہے‘‘ کبھی سوچا کہ انسانی آنکھ روتی کیوں ہے؟ انسانی دماغ جب جذباتی ہوتا ہے تو آنسو بنتا ہے جو آنکھوں سے بہتے ہیں۔ اللہ کی قدرت یہ ہے کہ ان میں الگ Pain Killerہوتا ہے جسے طبی اصطلاح میں Lecuuineenkephalin کہتے ہیں جس کے پیدا ہونے سے انسانی آنکھ بہتر محسوس کرتی ہے تب ہی لوگ کسی کو غم ہلکا کرنے کے لئے مشورہ دیتے ہیں ’’تھوڑا رولو‘‘ دل ہلکا ہو جائے گا۔
انسانی آنکھیں جتنی نازک ہیں اتنی مضبوط بھی ہیں۔ جہاں ہاتھ پائوں کی کوئی کھروچ دنوں ہفتوں میں ٹھیک ہوتی ہے وہیں آنکھوں پر لگی کھروچ احتیاط برتنے پر اڑتالیس گھنٹوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تب ہی انسانی آنکھوں پر کوئی Shieldنہ ہونے کے باعث مستقل مٹی دھول جاتی رہتی ہے مگر پھر بھی آنکھیں خراب نہیں ہوتیں۔
انسان کا سب سے اہم کام دیکھنا ہے یعنی بصیرت، انسان کے پانچ حواس خمسہ ہوتے ہیں اگر سروے کیا جائے اور لوگوں سے پوچھا جائے کہ کون سا حواس سب سے اہم ہے تو سب لوگ مختلف جوابات دیں گے لیکن ہر انسان کے اگر دماغ کے فنکشن سے پوچھا جائے تو ایک ہی جواب ہو گا ’’آنکھیں‘‘ سب سے ضروری ہیں اسی لئے انسان کا آدھا دماغ صرف دیکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
کبھی نہ کبھی آپ نے ایک پید اہوئے بچے کو روتے دیکھا ہو گا بلکہ اگر بچہ پیدا ہوتے ہی نہ روئے تو لوگ پریشان ہو جاتے ہیں پھر ہر کچھ گھنٹوں میں دودھ کے لئے رونا لیکن شاید آپ یہ بات جان کر حیران ہوں گے کہ ایک نوزائیدہ بچہ تو رو ہی نہیں سکتا۔ ایک بچے کی آنکھ اس کے چار سے تیرہ ہفتے کا ہو جانے کے بیچ آنسو بنانا شروع کرتی ہے اس سے پہلے بچہ صرف رونے کی آواز نکالتا ہے اس کاایک بھی آنسو نہیں نکلتا۔
آنکھیں واقعی بہت بڑی نعمت ہیں اگر آپ اس وقت یہ کالم اپنی آنکھوں سے پڑھ رہے ہیں سامنے رکھی چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں تو یقین کریں آپ دنیا کے خوش نصیب لوگوں میں سے ایک ہیں اگر آپ کی زندگی میں کوئی بھی پریشانی ہے تو یہ سوچ کر خوش ہو جائیں کہ آپ کی وہ آنکھیں سلامت ہیں جن سے آپ دنیا دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت انتالیس ملین لوگ مکمل طور پر نابینا ہیں اور دو سو تینتالیس ملین ایسے ہیں جنہیں بینائی سے متعلق کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے۔
انسان نے میڈیکل سائنس میں بہت ترقی کی ہے وہ دل جس کے چلنے پر ہی زندگی کا دارومدار ہے وہ تک انسان نقلی بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن آج بھی اتنی ترقی نہیں ہے کہ وہ انسانی آنکھ کو مصنوعی طور پر بنا کر لگا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھوں اور دماغ کے بیچ ایک ایسی نازک Nerveبنائی ہے جو اگر ضائع ہو جائے تو اسے مصنوعی طریقے سے دوبارہ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔
انسان کی آنکھ کا سائز تقریباً ایک انچ ہوتا ہے اور وزن پچیس اونس ہوتا ہے۔ انسان کیEye Ballکا سائز کبھی نہیں بدلتا۔ پیدائش سے لے کر زندگی کے آخری دن تک یہ ایک رہتا ہے۔
ہر انسان کی آنکھوں کے بیچ ایک بلائنڈ اسپاٹ ہوتا ہے ہر جگہ جو Ratinaکو ایک Nerveکے ذریعے دماغ سے جوڑتی ہے لیکن ہم کو اپنے سامنے ایک گہرا کالا دھبہ نظر نہیں آتا اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی پوری آنکھ مل کر کام کرتی ہے اور اس ایک نقطے کو چھپانے میں مدد کرتی ہے۔
وہ مسل جو انسان کی آنکھوں کو استعمال کرنے میں کام آتی ہے وہ انسانی جسم میں ہر وقت سب سے زیادہ متحرک رہتی ہے۔ دنیا بھر میں بہت سے ایسے آئی سپیشلسٹ ہیں جو یہ بات نہیں بتاتے کہ اسی فیصد آنکھوں کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں اگر آنکھوں کا خیال بھی دانتوں اور بالوں کی طرح رکھا جائے۔ اس سوال کے ساتھ اس کالم کو ختم کرتے ہیں کہ کیسے رکھتے ہیں آپ اپنی آنکھوں کا خیال؟؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.