مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر فاتحہ خوانی

14

مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے مسئلے کو ستر سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے کہ جس میں کشمیر اور فلسطین کی آزادی ناممکن بن چکی ہے جس کے ذمہ دار مسلم ریاستوں کے حکمران ہیں جنہوں نے دونوں خطوں کے لئے کوئی ایسی مدد نہ کی کہ دونوں مقبوضہ علاقے ویت نام یا دوسرے ملکوں کی طرح آزاد اور خودمختار ہو جاتے۔کشمیر جس کو بھارت نے اپنے آئین میں زیادہ خودمختاری دے رکھی تھی وہ بھی چھین لی گئی ہے جس کے ذمہ دار بھارت اور پاکستان ہیں جنہوں نے اہل کشمیر کو اپنے نام نہاد مذاکرات میں شامل نہیں کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیریوں کو حق دینے کا وعدہ کیا گیا تھا کہ کشمیریوں سے پوچھا جائے کہ وہ کس کے ساتھ الحاق یا خودمختار ریاست چاہتے ہیں مگر بھارت نے آہستہ آہستہ کشمیر کی تمام دی آزادی چھین لی ، آج پاکستان بھی گلگت بلتستان کو اپنا صوبہ بنانے جارہا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق جموں، وادی، لداخ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سب کے سب علاقے کشمیر کہلاتے ہیں اگر کسی ایک کی آزادی سلب ہوتی ہے تو کشمیر کاز سے انحراف ہے جو اب پاکستان بھی بھارت کی طرح گلگت بلتستان کے خلاف کرنے جارہا ہے جو کل آزاد کشمیر کو بھی اپنا صوبہ بنا کر جنرل مشرف کے اس فارمولے کو پورا کر دے گا کہ ادھر تم ادھر ہم۔ تمہارا کشمیر تمہارا اور ہمارا کشمیر ہمارا جو کشمیریوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کے مترادف ہے کہ بھارت کی طرح پاکستان بھی کشمیر کو ہڑپ کر جائے۔
ظاہر ہے جب دو سال پہلے عمران خان کی امریکہ نے خاطر تواضع کی تھی کہ جن کے پاکستانی سپہ سالار کو ۲۱ توپوں کی سلامی دی گئی تھی جو پہلے کبھی پاکستانی جنرل کو یہ عزت نہ بخشی تھی تو اس کے نتائج یہی برآمد ہونے تھے جو آج ہمیں نظر آرہے ہیں کہ عمران خان کی اور جنرل باجوہ کی واپسی کے فوری بعد بھارتی سرکار نے کشمیریوں کی آئین میں دی گئی آزادی بھی سلب کر لی کہ جس میں کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل تھا کہ ساتھ ساتھ کشمیر میں کوئی غیر کشمیری جائیداد اور زمین نہیں خرید سکتا تھا جو اب بھارت کے دوسرے صوبوں کے برابر ہو چکا ہے جس کا مطلب اب کشمیر مستقل طور پر بھارت کا صوبہ بن چکا ہے جس سے اصل کشمیر کی آزادی اب ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ کشمیر کی طرح فلسطین کی آزادی بھی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے جس کو عربوں نے دھوکہ دیا جنہوں نے آزادی کی بجائے فلسطین پر قابض اور غالب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا جس میں اب اکثریتی عرب ریاستیں شامل ہیں جو آج بیت المقدس قبلہ اول سمیت اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کر چکی ہیں جو نظریہ انسانیت اور مذہب اسلام کے خلاف ہے مگر بے ضمیر اور بے غیرت عرب حکمرانوں نے اسرائیل کے قبضے کو مان لیا ہے جس سے مسئلہ کشمیر کا حل بھی ناممکن ہو چکا ہے۔
تاہم مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے دشمن عرب اور پاکستانی موجودہ حکمران ہیں جنہوں نے ثالثی کے ذریعے بھارت سے پاکستان کو مجبور کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کرے ورنہ امداد دینا بند کر دی جائے گی جس کی وجہ سے جنرل باجوہ کو بیان جاری کرنا پڑا کہ ہم بھارت کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔ پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کیا جائے جس کی بنا پر پاکستانی حکومت کے بھارت کے ساتھ گندم، آٹا، کپاس، دھاگے کی تجارت کا اعلان کر دیا ہے جس کی سخت مخالفت ہورہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر بھارت کے ساتھ تجارت ناممکن ہے۔ مگر نالائق خان بضد ہے کہ بھارت سے سستا آٹا اور کپڑا منگوایا جائے کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے گندم، کپاس، آلو، ٹماٹر سے محروم ہے جو شاید پیدا کرتا ہے مگر سرحدوں کے راستے سمگل ہو جاتا ہے جس پر پاکستانی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستان بھارت سے گندم،کپاس خریدنا چاہتا ے ورنہ پچھلے سال پاکستان میں بے تحاشا چینی پیدا ہوئی تھی جبکہ گندم کی کٹائی ہونے والی ہے۔ یہاں پنجاب میں گندم پورے برصغیر کو روٹی فراہم کر سکتی ہے مگر موجودہ جاگیرداری، وڈیرہ شاہی ،نوکر شاہی اور جنرل شاہی کی وجہ سے پاکستانی عوام آٹے، کپڑے، چینی، آلو اورٹماٹر سے محروم ہو چکے ہیں جو پید اہوتے ہی اڑوس پڑوس میں بھیج دی جاتی ہے جس کو مہنگے داموں واپس خرید کر پاکستانیوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں ورنہ افغانستان سے گندم اور چینی خریدنا ایک مذاق ہے کہ یہاں پہاڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے وہاں گندم، چینی وغیرہ پیدا ہورہی ہے جو دراصل بھارت کا مال ہوتا ہے جس کو مہنگے داموں خریدا جاتا ہے جس سے اہل وطن کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ بہرحال عربوں نے بھارت اور اسرائیل کے ساتھ خصوصی تعلقات کی بنا پر کشمیریوں اور فلسطینیوں کو بکرا بنا دیا جنہوں نے بھارت میں اربوں اور کھربوں کی سرمایہ کاری کررکھی ہے اس طرح عربوں نے اسرائیل کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات قائم کر لئے ہیں جس سے کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ کھٹائی میں پڑ چکا ہے جس کے ذمہ دار پاکستانی حکمران اشرافیہ اور عرب بادشاہ اور خلفاء ہیں جنہوں نے حسب معمول کشمیر اور فلسطین کے آزادی اور حریت پسندوں کو دھوکہ دیا ہے جس کا آج نہیں تو کل نقصانات سامنے آئیں گے جب عرب علاقوں پر اسرائیل قابض ہو گا جبکہ پاکستان کی توڑ پھوڑ میں بھارت اہم رول ادا کرے گا۔ جو اس وقت دیر ہوجائے گی کہ دو مسلم ریاستوں کے عوام کو دھوکہ دہی کا نتیجہ ہو گا کہ ان کی آزادی کو سلب کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.