کرپشن میں ڈوبا ملک ،شفاف انصاف کا متقاضی ہے!

15

دنیا کی ہر شے کی اساس اس کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب تعمیر کے لئے کسی عمارت کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو بڑی احتیاط برتی جاتی ہے۔ اگر ایک اینٹ بھی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو پوری عمارت ٹیڑھی ہو جاتی ہے جس سے بدصورتی بھی پیدا ہوتی ہے اور اس کی قیمت بھی گر جاتی ہے۔
انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو پہلی درسگاہ کی بنیادی تربیت گاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے۔ اگر اس درسگاہ سے اسے مثبت سوچ ملے گی تو وہ ایک اچھا انسان بنے گا۔ دوسرا پہلو تربیت کا منفی پہلو ہے۔ ہر انسان ایک سوچ رکھتا ہے۔ اس کی سوچ کو صحیح اور غلط سمت میں لے جانے کی ذمہ داری اس کے والدین کی ہوتی ہے۔ اولاد کا پیدا کر دینا کوئی بڑا کارنامہ نہیں اصل میں اس کی صحیح تربیت کرناایک کارنامہ ہے۔ اس کے بعد تعلیم کا نمبر آتا ہے۔ ایک ماحول سے نکل کر بچہ جب دوسرے ماحول سے روشناس ہوتا ہے یعنی اساتذہ، ہم جماعت وغیرہ وہ بھی اس کی سوچ پر خاصی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر وہ تعمیری ذہن رکھتا ہے تو ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے جو مثبت سوچ کے مالک ہوتے ہیں اور اگر ا سکی تربیت میں کجی رہ گئی ہو تو وہ بہت جلد بھٹک جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان کی بنیاد کی کجی انہیں غلط راستوں پر لے جاتی ہے۔
فی زمانہ آپ اچھی تعلیم اور بری بنیاد کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ایک وہ لوگ تھے جو یہ ملک بنا گئے اور ایک یہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو اجاڑ دیا۔ ان کے ذہنوں میں لالچ، ہوس، دولت سے حاصل تکبر کا بارود بھرا ہوا تھا۔ عیاشیوں کو ترسے ہوئے لوگ جب صاحب اختیار ہوئے دولت کے انبار دیکھے قومی خزانے کو لوٹا اور لوٹ کے مال سے انسانیت کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع کر دیا۔ ضمیر فروخت ہوئے، خریدے گئے۔ عدالتیں خریدی گئیں، پولیس جو عوام کے تحفظ کے لئے بنائی گئی تھی اُسے عوام کو لوٹنے کھوسٹنے کی طرف لگا دیا۔ پیسہ کسی کی ضرورت نہیں ہوتا۔ کمزور ذہنیت اور ضمیر کے مالک بہت جلد گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ جج عدالتی فیصلے اپنے آقائوں کی مرضی کے مطابق کرنے لگے۔ پولیس کے ذریعہ دشمنوں کو ٹھکانے لگایا جانے لگا۔ اُسے ٹارگٹ کلنگ کا نام دیا گیا۔ تعلیم کی دھجیاں اڑ گئیں۔ گریڈ رشوت سے ملنے لگے، جعلی ڈگریاں قابل حصول ہو گئیں۔ کون سا ادارہ تھا جو فروخت نہ ہوا اور ارباب اختیار کے زیر نگیں نہ آیا۔ جس درخت کی جڑوں کو محب وطن، پاکستان سے عشق کرنے والوں نے اپنے خون سے سینچاتھا۔ اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا گیا اور اب ICUمیں پڑا یہ ملک بہتر علاج کا متقاضی ہے۔ عوام ہوش میں آجائیں اور اس سسکتے ہوئے ملک کو طاقت دیں۔ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ جس طرح فوج نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے وہ بیرونی آفات ہیں۔ ان اندرونی آفات کا قلع قمع کرنا عوام کی ذمہ داری ہے کیونکہ اسی سے آپ کی زندگی آپ کی نسلوں کی بقا وابستہ ہے۔ یہ پھٹا ڈھول مافیا( پی ڈی ایم) اس کی تمام حقیقت آپ پر واضح ہے۔ یہ پھولن دیوی ام الفساد ہے۔ اس کے جلسوں میں وہی لوگ آتے ہیں جنہیں اس ٹبر کی طرح اپنی دولت بچانی ہے کیونکہ اگر یہ بڑے مگر مچھ ،اژدھے قانون کے شکنجوں میں کس دئیے گئے تو یہ کیچوے بھی نیست و نابود ہو جائیں گے۔ سب سے پہلے عدلیہ کی گندگی صاف کی جائے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ قانون چلانے کے لئے سختی برتی جائے گی تو ہر طرف مجرمان اپنے جرائم سے تائب ہو جائیں گے۔
عوام اتنے بے حس اور انجان کیوں ہو گئے۔ سوچو تمہیں پارس پتھر بھی ملے تھے لیکن تم نے اپنی ناسمجھی سے اغیار کے بہکاوے میں آ کر انہیں کھو دیا۔ جنرل محمد ایوب خان ایک محب وطن بہادر جنرل کے علاوہ ملک کی تعمیر وترقی میں بھی کوشاں رہا۔ اس کے زمانے میں ملک نے جو ترقی کی وہ پھر زوال پذیر تو ہوئی اوپر نہ اٹھ سکی۔ ایوب خان کے زمانے میں جتنی ایڈمنسٹریٹر بنی جتنے لوگ صاحب روزگار ہوئے پھر نہ ہو سکے۔ ایک بادشاہ شیر شاہ سوری نے جی ٹی روڈ تعمیر کروائی، جنرل ایوب کی شاہراہ فیصل لوگوں کے سامنے ہے یہ وہ وقت تھا جب 1965ء کی جنگ بڑی کامیابی سے جیتی گئی تھی اور ملکی معیشت میں کوئی دراڑ نہیں پڑی تھی۔ یہ ملک قرض لینے کے بجائے قرض دے رہا تھا۔ ڈیم بن رہے تھے اس کے بعد کوئی انڈسٹری نہ لگی تو نہ ڈیم بنے۔ اس بہادر محب وطن کو جب ایک غلیظ جانور کے نام سے پکارا گیا تو اس نے قلمدان حکومت چھوڑ دیا۔ اللہ ان کے مرتبے بلند کرے(آمین) ۔
بھٹو صاحب نے آکر سب تلپٹ کر دیا جسے ایوب خان کا پٹھا کہا جاتا تھا۔ چلتی ہوئی انڈسٹریز قومیا لی گئیں۔ تعلیمی ادارے پرائیوٹ سیکٹر سے حکومتی اداروں کی تحویل میں آگئے۔ سرکاری املاک پر مافیا کا قبضہ ہوا اور پھر زوال ہوتا ہی چلا گیا۔ اس کا فائدہ ضیاء الحق کے منہ بولے ناجائز بیٹے نواز شریف نے خوب اٹھایا۔ آج اس بھگوڑے کی بدکردار بیٹی بھگوڑے باپ کی خوبیاں بیان کرتے نہیں تھکتی۔ ساتھ میں وہ مولوی جس کی اللہ کے گھر جو تواضع ہو گی وہ خوب نظرآرہی ہے۔ ان چوروں کی پارٹیوں نے اپنا حسب نسب بتا دیا ہے او ان کا حشر نشر بھی عوام کے سامنے ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.