آہ پی۔ ڈی۔ ایم! کل تک عمران خان کو سلیکٹڈ کہنے والے آج ایک دوسرے کوسلیکٹڈ کہہ رہے ہیں

10

ایک زمانے میں ہر ٹی وی چینل پر بیگم مریم صفدر اعوان کا پی ڈی ایم کے ایک جلسے میں خطاب کا مضحکہ خیز انداز بار بار دکھایا جارہا تھا جس میں موصوفہ طنزیہ طور پر کہہ رہی تھیں ’’ہاہاہا۔۔ پی ڈی ایم ٹوٹ گئی۔ ہاہاہا۔۔۔پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔‘‘ آج ایک مرتبہ پھر ہر ٹی وی چینل پر وہی سائونڈ بائٹ بار بار نشر ہورہا ہے اور مریم صفدر اور پی ڈی ایم کو کاٹ رہا ہے اور منہ چڑا رہا ہے کیونکہ واقعی میں پی ڈی ایم ٹوٹ گئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) نے باقاعدہ پی ڈی ایم کے جعلی اور غیر فطری اتحاد سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے اس پر شدید قسم کے الزامات بھی عائد کئے ہیں اور جس قسم کے تیز و تند بیانات پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی طرف سے روزانہ دئیے جارہے ہیں تو شاید اس کالم کے چھپنے تک پی پی پی بھی اس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر چکی ہو گی۔ یعنی بقول پنجابی محاورہ ’’جتھے دی کھوتی اُتھے جان کھلوتی‘‘ یا اردو محاورے کے مطابق ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘۔ ہم اس غیر فطری اتحاد کے پہلے دن سے ہی قارئین کو بتا رہے تھے کہ یہ ایک چوں چوں کا مربہ ہے اور اس ناپاک اتحاد کی ہانڈی چوک میں پھوٹے گی۔ ذرا غور سے سوچیئے کہ اس اتحاد میں ایک جماعت مولوی کی ہے جس کی صرف ایک ہی سیٹ ہے یعنی کہ مولانا ڈیزل مولوی فضل الرحمن جو کہ مدرسوں کے غریب، مسکین اور سادہ لوح طلباء کو دھرنے اور مارچ میں یہ جھوٹ بول کر لانے کے ماہر ہیں کہ یہ ایک جہاد ہے عمران خان کے خلاف اور عمران خان ایک یہودی ایجنٹ ہے ۔ دوسری جماعت تھی پاکستان پیپلز پارٹی جو ایک اشتراکی اور لادینی نظریات کی حامل پارٹی ہے جس کا نعرہ مذہب کے بجائے روٹی، کپڑا اور مکان ہے اور جو مدرسے کے طلباء اور دین اسلام کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کی سخت مخالف ہے۔ یاد رہے کہ ایک زمانے میں پنجاب کے پی پی پی کے گورنر سلمان تاثیر کو ایک مذہبی دہشت گرد نے توہین مذہب یا توہین رسالت کو بنیاد بنا کر گولیاں مار کر چھلنی کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے متعلق تو سب ہی جانتے ہیں کہ ایک اور مذہبی انتہا پسند صدرضیاء الحق نے پھانسی پر چڑھا دیا تھا کیونکہ وہ ملک کا خلیفۃ الاسلام بننا چاہتا تھا۔ تیسری جماعت مسلم لیگ نواز گروپ تھی جو نہ دینی ہے نہ ہی لادینی جس کے متعلق یہ پتہ ہی نہیں چل پاتا کہ وہ کس پاسے ہے۔ ہاں البتہ نواز لیگ کے میاں نواز شریف نے بے نظیر کے دور حکومت میں جان سے مارنے کے لئے اسامہ بن لادن کو فنڈنگ کی تھی کیونکہ اسامہ بن لادن کا ایمان تھا کہ اسلامی مملکت کی سربراہ کوئی خاتون نہیں ہو سکتی، یہ قطعاً غیر شرعی اور غیر اسلامی ہے۔ اسی ن لیگ کے ایک وزیر کے باپ نے محترمہ فاطمہ جناح قائداعظم بانی ٔ پاکستان کی ہمشیرہ مادرِ ملت کے خلاف گوجرانوالہ میں ایک کتیا کے گلے میں ان کا انتخابی نشان لالٹین پہنا کر اسے شہر میں یہ بورڈ گلے میں ڈال کر گھماتا تھا کہ ’’یہ کتی ہے‘‘۔ پی ڈی ایم کی بقیہ اویس نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان جیسی جماعتیں تو کسی گنتی ہی میں نہیں آتیں یعنی وہ نہ ہی تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں۔ عام لوگوں کو تو ان کے نام بھی نہیں معلوم۔ ہاں البتہ اے این پی یعنی عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا میں سرگرم ہے اور ان کے کچھ ارکان ممبران اسمبلی بھی ہیں لیکن انہوں نے جعلی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ تو یہ بات تو روز اول سے ہی بالکل روشن اور عیاں تھی کہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والا یہ کنبہ سربازار رُسوا ہو گا۔ ہمارے خیال میں تو عمران خان کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ یہ اتحاد اپنی موت آپ مر گیا۔ رہے نام اللہ کا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.