چار اپریل بھٹو کی پھانسی کا دن – پھانسی کو بیالیس سال گزرنے کے باوجود بھی بھٹو پاکستانی سیاست میں زندہ ہے

11

بھٹو آج بھی زندہ ہے بلکہ میں تو اکثر یہ کہتا ہوں کہ جو سیاستدان مر گیا وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ ہر الیکشن میں ووٹ بھی لیتا ہے اور جو سیاستدان زندہ ہیں وہ درحقیقت مردہ ہیں- خیر ہم بات کر رہے تھے بھٹو کی جو بیالیس سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی سیاست میں زندہ ہے اور جئے بھٹو کے نعرے آج بھی پاکستان اور خصوصی طور پر صوبہ سندھ میں گونجتے ہیں- بھٹو کے بعد بھٹو کی بیٹی بے نظیر پاکستان کی دو مرتبہ سربراہ بنیں جبکہ بینظیر کی موت کے بعد اْن کے شوہر آصف زرداری بھی پاکستان کے سربراہ بنے اور اب اْن کا بیٹا بلاول زرداری بھی پاکستان کا وزیراعظم بننے کی کوششوں میں مصروف ہے بلکہ بلاول کے باپ زرداری جو پہلے اپنے بچوں کے ساتھ ‘‘ بھٹو’’ نام نہیں لگانا چاہتے تھے اْنہوں نے بینظیر کی موت کے بعد تو باقاعدہ شجرہ نصب تبدیل کرتے ہوئے بلاول کے نام کے ساتھ بھٹو بھی لگا دیا ہے – بات کہاں سے کہاں نکل گئی ہم بتا یہ رہے تھے کہ بھٹو کی پھانسی کو بیالیس سال گزرنے کے باوجود بھی پاکستان کی سیاست میں بھٹو زندہ ہے-
چار اپریل 1979 سے چار اپریل 2021 یہ کم و بیش بیالیس سال کا سفر ہے، اس دوران منظر بھی بدل گئے اور حالات بھی، مگر بھٹو دور کی تلخ یادیں نہیں مٹ سکیں، تلخی ایسی تھی کہ چار اپریل 1979 کی شام قصور میں اس قبرستان پر چراغاں کیا گیا جہاں نواب محمد احمد خان مدفون تھے، انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، قاتلوں کی پھانسی پر مقتول کی قبر پر چراغاں کیا گیا ہو، یہ تھا اس وقت تلخی کا ماحول، اور دوسری جانب کا منظر یہ تھا کہ تلخی ایسی کہ بے نظیر بھٹو اور بھٹو کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کو آخری دیدار تک نہیں کرنے دیا گیا، بھٹو دور میں ڈاکٹر نذیر احمد، خواجہ محمد رفیق، عبدالصمد اچکزئی جیسے سیاسی کارکن شہید ہوئے اور قاتل گم رہے، گورنر ہائوس پنجاب، اغواء کاروں کی پناہ گاہ تھا، اغواء شدہ طالبات وہاں سے برآمد ہوئی تھیں، داعی حق میاں طفیل محمد جیسے فرشہ صفت انسان کی ڈاڑھی تھانے میں کھینچی گئی، سب کو علم ہے کہ حکم کس کا تھا؟ کسی بھی انسان کی غیر فطری موت تکلیف دہ بھی ہے اور عبرت ناک بھی، بھٹو کی پھانسی کا سفر 10نومبر 1974 کو شروع ہوا جب نواب محمد احمد خان لاہور میں شادمان کالونی کے شاہ جمال چوک میں قتل کر دیے گئے، نواب زادہ احمد رضا قصوری کہتے ہیں کہ اصل میں ہدف وہ تھے، اس قتل کی ایف آئی آر تھانہ اچھرہ میں درج کی گئی،
نواب محمد احمد خان قتل کیس کی تفتیش کے لیے سب سے پہلے جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں ٹربیونل بنا، یہ 1975 کی بات ہے اور بھٹو بر سراقتدار تھے، ٹربیونل نے اپنی رپورٹ مرتب کی اور داخل دفتر کردی، اس کیس میں سب سے خطرناک بات اور پہلو یہی تھا، اب مقتول پارٹی کسی اچھے وقت کا انتظار کرنے لگی، بھٹو حکومت ختم ہوئی تو نواب احمد رضا قصوری قالین کے نیچے دفن اس کیس کو باہر لے آئے، 24 جولائی 1977 کو ایف ایس ایف کے انسپکٹر ارشد اقبال گرفتار ہوئے، ان کے بعد رانا افتخار کی گرفتاری ہوئی، پھر صوفی غلام مصطفی گرفتار کیے گئے ان کے بعد مسعود محمود اور میاں عباس گرفتار ہوئے،3 ستمبر 1977 کو بھٹو گرفتار کرلیے گئے، ہائی کورٹ کے جج جسٹس صمدانی نے ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا، پیپلزپارٹی کی رہنماء ریحانہ سرور اور رانا شوکت محمود نے ضمانتی مچلکے پیش کیے،10 اکتوبر 1977 کو دوبارہ گرفتار کر لیے گئے، اس کے بعد وہ پھانسی کے بعد ہی جیل سے باہر آئے، اس کیس میں ایک جانب شریف الدین پیرزادہ اور دوسری جانب یحییٰ بختیار تھے، دونوں کی معاونت کے لیے ملک کے پائے کے وکلا کی ٹیم تھی، دوست محمد اعوان، بیرسٹر انور، اعجاز بٹالوی جیسے نام، اس کیس میں عدلیہ کے رو برو پیش ہوئے، جسٹس مشتاق حسین، جسٹس آفتاب حسین، جسٹس ذکی الدین پال، جسٹس گل باز خان، جسٹس ایم ایچ قریشی پر مشتمل بنچ نے طویل سماعت کی اور فیصلہ سنایا، پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دی، ضیاء الحق کے ساتھ کے ایم عارف لکھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی بھٹو کی رہائی کے لیے سنجیدہ ہی نہیں تھی، پیرزادہ، کوثر نیازی، جتوئی، کھر جیسے رہنماء سیاسی لحاظ سے وہ جوبن نہ دکھا سکے جو ان سے توقع تھی۔
کے ایم عارف ورکنگ ود ضیاء میں لکھتے ہیں، پیپلزپارٹی اگر ملک میں دبائو بڑھا دیتی تو بھٹو کی رہائی ممکن ہوجاتی، پیپلزپارٹی نے ملک کے اندر کام کرنے کے بجائے عالمی رہنمائوں سے رابطوں اور ان کی کوششوں پر انحصار کیے رکھا، بھٹو کیس میں سب سے بڑی کمزوی یہ رہی کہ اسے قتل کے مقدمہ کی طرح لڑا ہی نہیں گیا، وکلا صفائی کی غیر ضروری طوالت نے کیس میں بھٹو کے دفاع کا موقع ضائع کیا، بھٹو صاحب کے وکلا میں سے کسی کے پاس بھی فوجداری مقدمے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، استغاثہ کی جانب سے اعجاز بٹالوی پائے کے وکیل تھے، ایک موقع ایسا بھی آیا کہ بیگم بھٹو نے اپنے وکلا کی معاونت کے لیے سرگودھا کے ایک وکیل سید احسان قادر کی خدمات حاصل کیں، انہیں فوجداری مقدمات میں قانون پر دسترس تھی، مگر انہیں بھٹو کے سینئر وکلا یحییٰ بختیار اور دوست اعوان نے جرح کے وقت استعمال ہی نہ کیا۔ بھٹو کی جانب سے مقدمے کی کارروائی کا بائی کاٹ کردینا ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے دفاع کا موقع ہی ضائع کردیا، وعدہ معاف گواہوں کے بیان پر جرح بھی نہیں کی، یوں یہ سارا مقدمہ یک طرفہ ہوگیا، اب پیپلزپارٹی جو کچھ بھی کہتی رہے، یہ اس کا سیاسی حق اور حکمت عملی تو ہوسکتی ہے قتل کے مقدمے میں سنجیدہ پیروی نہ دکھا کر پیپلزپارٹی نے بھٹو کو کھو دیا، یہ واقعات اور حقائق بھٹو کے مقدمے سے جڑے ہوئے تاریخی حقائق ہیں انہیں مسخ نہیں کیا جاسکتا، پارٹی کی سب سے بڑی غلطی اور غلط فہمی تھی کہ بھٹو صاحب کو کوئی پھانسی نہیں دے سکتا، یہی خوش فہمی بھٹو کو تختہ دار تک لے گئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.