ہاروی وائنسٹن نے قید کی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی

23

’ریپ‘ کا جرم ثابت ہونے پر مارچ 2020 سے 23 سال قید کی سزا کاٹنے والے 69 سالہ ہولی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن نے اپنی سزا کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کردی۔

ہاروی وائنسٹن کو امریکی ریاست نیویارک کی عدالت نے ’ریپ‘ کا جرم ثابت ہونے پر مارچ 2020 کو جیل بھیج دیا تھا اور انہیں 23 سال تک قید کی سزا سنائی تھی۔

ایک سال تک قید میں رہنے کے بعد اب ہاروی وائنسٹن نے نیویارک کی ہی اپیل کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ ان کے کیس کا دوبارہ ٹرائل کیا جائے، کیوں کہ ان کے پہلے ٹرائل میں شواہد کو نظر انداز کیا گیا تھا۔

وکلا کے ذریعے داخل کرائی گئی درخواست میں ہاروی وائنسٹن نے اپنی سزا ختم کرنے اور دوبارہ ٹرائل کی درخواست کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ جن تین خواتین گواہوں کی گواہی پر ہاروی وائنسٹن کو سزا سنائی گئی، ان میں سے دو خواتین کی گواہی کو صرف پروڈیوسر پر لگے الزامات جانچنے کے لیے اہم سمجھا جانا تھا مگر عدالت نے ان گواہوں کی گواہی پر فلم ساز کو سزا سنائی۔

ہاروی وائنسٹن کے وکلا کا کہنا تھا کہ حیران کن طور پر جن گواہوں کی گواہی پر فلم ساز کو سزا سنائی گئی، ان خواتین نے پروڈیوسر کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر نہیں کر رکھا تھا۔

فلم ساز نے درخواست میں کہا کہ ان کو سزا سنانے والے ٹرائل میں حقائق کو نظر انداز کرکے انہیں سزا سنائی گئی اور یہ کہ پروڈیوسر اتنی بڑی سزا کے مستحق بھی نہیں تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.