’’مرکزہ‘‘ ایک تجزیہ

328

’’مرکزہ‘‘ ڈاکٹر صابرہ شاہین کی نظموں کا مجموعہ ہے، یہ مجموعہ سانجھ پبلیکیشنز لاہور نے شائع کیا ہے، ڈاکٹر صابرہ شاہین کی اس کتاب پر ڈاکٹر ستیہ پال آنند اور کشور ناہید کی آرا شامل ہیں، صابرہ شاہین غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سے منسلک ہیں اور طویل عرصے سے اردو ادب پڑھاتی ہیں، جناب مختار صدیقی پر صابرہ شاہین نے بہ تفصیل لکھا ہے، یہ کتاب مختار صدیقی حیات و خدمات کے نام سے ’’الوقار پبلیکیشنز لاہور ‘‘ نے شائع کی ہے۔ یہ کتاب صابرہ شاہین کی نثر نگاری کے ہنر کی گواہ ہے، ڈیرہ غازی خان کے ادبی حلقوں میں ڈاکٹر صاحبہ شاہین ڈیروی کے نام سے بھی پہچانی جاتی ہیں، مرکزہ کاانتساب سماج کے نام ہے جو بقول شاعر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا ہنر رکھتا ہے، مگر اس کی گود میں پلنے والا ایک جگنو روشنی کو نابود نہیں ہونے دیتا، اس انتساب نے مجھے اس انتقادی جائزے کے ابتدائیے کی مگر تشکیل میں مدد کی ہے، سماج مٹی سے پھوٹتا ہے اور اسی مٹی سے اپنی طاقت کشید کرتا ہے، مگر بیرونی عوامل بھی اس کی صورت گری کرتے ہیں، مٹی سے جڑے GOE-SOCIO-POLITICAL FACTORSسماج کی ترتیب بناتے ہیں، یہ خمیر دنیا میں طاقت سے بنا، یہ نظام PARISHIONERSہاتھ میں کب چلا گیا اس کی تاریخ اتنی قدیم بھی نہیں جس پر قیاس ہی کیا جائے اور مستند گواہی نہ مل سکے، سماج ساری دنیا میں PATRIARCHALہی رہا ہے۔
کسی بھی فرد کا اپنے سماج سے اختلاف ایک غیر معمولی کیفیت ہے، اس کیفیت کو تخلیقی اظہار کی قوت مل جائے تو شاعر، مصور اور فنکار جنم لیتا ہے، کسی فنکار کی اپنی تخلیق کردہ جمالیات سماج کی موجودہ ترتیب سے مختلف ہوتی ہے، اس کا فکری تصادم سماج کے طبقاتی نظام سے ہوتا ہے اور پھر اس کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا ہے، اس کی کئی صورتیں انقلابِ فرانس، انگلینڈ میں چرچ اور پارلیمنٹ کے درمیان طویل جنگوں اور اشتراکیت کے نفاذ میں مل جاتی ہیں، جب یہ سب کچھ ظہور پذیر ہورہا تھا اسی وقت ادبی تحاریک بھی ابھر رہی تھیں، ہم آشنا ہی نہ تھے ان تحاریک سے، ادب ہمارے لئے نشاط اور تلذذ کا ہی ذریعہ رہا ہے، سو SURREALISMسے لے کر FEMINISM تک کوئی تھیوری سماج میں سرائیت کر ہی نہ سکی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی وضاحت پر بھی تکفیری فتویٰ آسکتا ہے، یہ اہل ادب، صاحبانِ قلم اور ذرائع ابلاغ کی شعوری منافقت رہی ہے کہ جدید فکر طالبانِ علم تک پہنچنے نہ پائے، کارل مارکس، سارتر اور نطشے کا نام سن کر اہل تقویٰ کا وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسٹیفن ہاکنز کی بات ہے، یہاں کسی کا ایک قول یاد آیا۔
WATCH YOUR THOUGHTS, THEY BECOME YOUR WORDS
WATCH YOUR WRODS, THE BECOME YOUR ACTION.
WATCH YOUR ACTIONS, THEY BECOME YOUR HABITS.
WATCH YOUR HABITS, THEY BECOME YOUR CHARACTER.
WATCH YOUR CHARACTER, IT BECOMES YOUR DESTINY
برصغیر کے ادب نے PERSIAN WISDOMسے اپنی قوت کشید کی ہے اور یہ بیشتر صوفیا کی تعلیمات سے مستعار لی گئی ہے اور عقیدوں کے پجاری یہ جب مانیں گے کہ تصوف اسلام نہیں ہے، مذکورہ بالا قول کے حوالے سے صوفیا کے THOUGHTSعقیدوں میں ڈھل کر DESTINYبن گئے اور درمیان کی ساری کڑیاں زندگی سے غائب ہو گئیں اور یہ علاقہ ذہنی طور پر بنجر بنا دیاگیا، اب اس بنجر زمین پر فکر کا پھول کھلتا نہیں۔
شاعر اور ادیب کو چبائے ہوئے نوالے اپنے منہ میں نہیں ڈالنے چاہیے مگر یہ سنت ادا کی جاتی ہے، پاکستان میں فہمیدہ ریاض، کشور ناہید اور سارہ شگفتہ کے مقابلے میں پروین شاکر کی ناقابل فہم ادبی پذیرائی یہ اعلان کرتی رہی کہ پاکستان میں نئی فکر کی جگہ کم ہے، اور پرانے مصلیٰ سے ہی محراب بنائی جا سکتی ہے، پاکستان میں SOCIAL LIBERTYہمیشہ سے ایک بڑا سوال رہی ہے، جس سماج میں طالب علم کو THOUGHT PROVOKINGمواد نہ ملے اور سوچنے کی آزادی نہ ہو اور خاص ذہن تخلیق کئے جارہے ہوں وہاں بڑے ادب کی تخلیق کی توقع نہیں کی جا سکتی، اور لطف یہ کہ نئی فکر کا استقبال کرتے ہوئے نقاد کے پر جلتے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُردو کا نقاد اور قاری اپنی پسند کا ادب چاہتا ہے، نئی فکر، تخلیق کی نئی ہیت اور نیا نظریہ اس کو ناپسند ہوتا ہے، دنیا بھر میں ادیب اور شاعر وہ نہیں لکھتے جو لکھا جا چکا ہو، تخلیق نیا وجدان اپنے قاری تک پہنچاتی ہے، اسی ترسیل پر قبولیت اور مقبولیت کا دارو مدار ہوتا ہے،
صابرہ شاہین پاکستان کے ادب میں ایک بالکل نئی آواز ہے، وہ ایسی تخلیق کار ہے جس نے ایک الگ راستہ چنا ہے۔ ’’مرکزہ‘‘ ان نظموں کا مجموعہ ہے، سو یہ نظمیں ہی میری گفتگو کا محور ہیں، عموماً کسی تخلیق کار کے لئے تین چیزیں اہم ہوتی ہیں جن کو CREATIVE TOOLSکہا جا سکتا ہے، تخلیق کار کی اپنی ذات کی تنہائی، اس کا اندرونی کرب اور کرب سے رستی ہوئی سوچ، شاہین اس تخلیقِ عذاب سے گزری ہے، اس کی ساری نظمیں یہی اعلان کررہی ہیں، تخلیق کار کی تنہائی دراصل اس کے سماج سے اختلاف کی بناء پر ہوتاہے، عورت ہی ہے شاہین، تو اس کا اپنے سماج سے اختلاف سماج میں اپنی حیثیت کے حوالے سے ہی ہے، وہ حیثیت جو مردانہ حاکمیت کے در پر کھڑی ہے، اس حیثیت کا تعین PARISHIONERSہی کرتے ہیں، یہی سماج کا قانون بن جاتا ہے، پاکستان میں شاہین کی نظموں میں اس روئیے کے خلاف شدید احتجاج ملتا ہے، شاہین کی تنہائی، تنہائی سے لپٹا کرب اور کرب میں بلکتی سوچ تخلیق کے چاک پر آتے ہیں تو اس نظم صورت گری ہوتی ہے جس سے پاکستان کا معاشرہ ناآشنا ہے، کیا قاری کیا نقاد، نظم کا قاری یوں بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتا، نظم کا نقاد بھی کسی COMPLEXکا شکار ملتا ہے، مجید امجد تاحال اپنے محقق کی تلاش میں ہے، عجیب اتفاق ہے کہ شاہین نے مروجہ ادب کے بہت سے DOGMATIC NARRATIVESکو مسترد کر کے ایک منفرد بیانیے کو نظم کی صورت دے دی ہے، میرا یقین ہے کہ ’’مرکزہ‘‘ کو پاکستان میں ایک توازن نقاد نصیب نہیں ہو گا، پاکستان کے سارے نقاد جو ستر کے پیٹے میں ہیں ابھی تک مسئلہ وحدت الوجود اور تحلیل نفسی سے نہیں نکلے، جدید تنقید سے واقفیت ان کے مسلک کے خلاف ہے، ROBERT BURNSاور ROBERT FROSTتک بھی ان کی رسائی نہیں، ہر جدید نقاد ہر نئی آواز اور نئے خیال کو خوش آمدید کہتا ہے مگر پاکستان اور بھارت میں ناقد اپنی ذمہ داری سے آگاہی نہیں رکھتا، شاہین کی آواز پر اہل ادب کو چونک جانا چاہیے تھا مگر شاید ایسا ہوا نہیں، سچ بات یہ ہے کہ شاہین کی نظم کو FEMINISMسے جوڑ کر تنقیدی اہداف کو چھوا نہیں جا سکتا، اس سے قبل نقاد کو FEMENISMکا جدید شعور درکار ہے اور شرط یہ بھی ہے کہ FEMINISMپر ایمان بھی لایا جائے جو یقینا ان بزرگانِ ادب کے لئے مشکل ہو گا جن کے ہاتھ سے تسبیح نہیں گرتی شاہین کے کرب کے مختلف MODESاور MOODSہیں، لڑکپن سے ایک MATUREDعورت تک کا سفر اور اس کے سارے احساسات اور محسوسات کا جائزہ لیجئے تو اس کے بیانے میں صداقتوں کی آبداری مشاہدے کی تابناکی اور استعجاب انگیز جمالیات کی دھنک اضافی رنگوں کے ساتھ موجود ہیں۔
سچ کا سفر
میرے ہاتھ کی نازک پوریں
کانپ اٹھیں تھیں
جس دم میں نے
کاغذ کے اک صاف ورق پر
دھیرے دھیرے حق لکھا تھا
سچ لکھا تھا
اب میرے وہ ہاتھ ہیں باقی
اور نہ پوریں
اور زباں بھی کٹ گئی آخر
لیکن!اب تک
میں زندہ ہوں
بس تنہا ہوں!
یہ نظم بہت کچھ کہہ رہی ہے، اسی قبیل کی ایک نظم ’’زرد تنہائی‘‘ ہے، یہ شکوہ دراز ہو جاتا ہے تو شاہین کے قلم سے ایک اور نظم تخلیق ہوتی ہے جو اس مجموعے میں نہیں ہے’’ کیا تو ایسا کر سکتا ہے‘‘ اس نظم میں خدا سے ایک سوال ہے، بڑا تیکھا سا، مگر نظم میں بات تو کہیں اور جا پڑی ہے، شاہین اس نظم تک بہت سی محبتوں، عبادتوں اور عقیدتوں کے بعد پہنچی ہے، یہ سوچ کا ایک طویل سفر ہے، جو شاہین کو طے کرنا پڑا ہے، یہ تنہائی کا عجب عالم ہے جہاں ہر سہارا معدوم ہونے لگتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ اس نظم کی وسعت کہاں تک دراز ہو جاتی ہے، یہ خیال کی تجسیم کا فکر انگیز مرحلہ ہوتا ہے جو تخلیقی توانائی کے ADAPTATIONسے ممنون ہے، روایتی تدریسی تنقید میں تخلیق اور تخلیق کار کے ٹکڑے کر کے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس روایتی روش سے انحراف کرتے ہوئے مجھے اجازت دیجئے کہ میں شاہین کی نظموں کے SUBJECT MATTERپر گفتگو کروں، شاہین کثیر الجہاتی فکر میں بٹنے کی بجائے اپنے مغیاتی نظام کو مستحکم کرتی ہے اور یہی عنصر قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے جو تلذذ سے دور ہے، شاہین اوہام اور مابعد الطبیعات میں گرفتار نہیں، بہت واضح پیغام اپنی پوری توانائی کے ساتھ اس کی نظم میں اترتا ہے اور کسی لہر کی مانند ذہن میں سفر کرتا ہے اور شعری جمالیات اپنے پر پھیلاتی جاتی ہے، جس کا تعلق عورت کے ساتھ ہونے والی معاشرتی بے انصافی، ہوسناکی اور پدرسری معاشرے کے جبر سے ہے، شاہین کی متعدد نظمیں اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت نئی ہیں، ساقی فاروقی اور افتخار نسیم کی بہت سی نظمیں گو کہ نئے افق تلاش کرتی ہیں ان دونوں شعراء کے ہاں موضوعات کی نیرنگی ہے اور وہ مضامین جو برتے نہیں گئے ان دونوں کے ہاں معنویت کے ساتھ موجود ہیں، مشکل یہ ہے کہ جو تخلیق کار نئی سوچ لے کر آتے ہیں ان کو قبولیت یا تو اس لئے نہیں ملتی کہ قاری اور نقاد کی اس علم اور خیال تک رسائی نہیں، یا پھر سماج کاانتہائی دبائو، شاہین نے ان کی پرواہ کئے بغیر بے باکی سے اپنی ہی دنیا سے کچھ موضوعات سمیٹے ہیں اور ان کو اپنے درد سے بُناہے شاہین کی نظموں کے موضوعات اور ان کا TREATMENTجاندار ہے اور قاری کی توجہ طلب کرتے ہیں کچھ عنوانات جو برتے جا چکے ہیں، شاہین نے ان کو نیا کر دیا ہے، MALE ’’طوائف ‘‘ اور ’’پستانوں سے زہر ٹپکاتی عورت‘‘ بہت منفرد موضوعات شاہین نے ایک نیا راستہ بنانے کی کوشش کی جو روندا ہوا نہیں ہے، میں یہ جانتا ہوں کہ اس راستے پر چل کر شاہین کے پائوں زخمی تو ہوں گے STANLEYنے لکھا شاعر سماج سے بدصورتی کھرچتا ہے اور ایک نیا چہرہ دینا چاہتا ہے، ’’مشرق میں جب جب یہ کوشش کی گئی سماج نے مذہب کے نام پر مزاحمت کی ہے، شاہین کو رجعت پسندانہ سوچ رکھنے والے ادبی حلقوں کی جانب سے اس قسم کی مزاحمت کا سامنا ہو گا، میں کشور ناہید کی اس نیک تمنا میں شریک ہوں کہ شاہین کو بہت دور تک جانا ہے اور جانتا ہوں کہ راستے میں کئی خار زار پڑتے ہیں، مگر تخلیق کار اپنے نظریے سے منہ نہیں موڑتا، مجموعے میں کچھ سطروں پر عروضی ناک منہ چڑھا سکتے ہیں مگر ان کو شائد LOUISE GLUCKکے بارے میں علم نہ ہو کس کو اس کی ناقابل بیان شاعری کی موضوعی مزاحمت پر نوبیل پرائز مل چکا ہے اور اس نے زبان و بیان کی بہت سے مروجہ سرحدوں کو تبدیل کر دیا ہے، جدید تنقید بیان اور فکر کو شاعری کا نیا جنم مانتی ہے۔
’’سانجھ‘‘ اس اہم مجموعے کو اہتمام سے شائع نہیں کیا، خوب صورت کتاب قاری کومطالعے کی دعوت دیتی ہے، بہرحال شاہین کے لئے بہت سی نیک تمنائیں، روشن منزلیں اس کی منتظر ہیں غالباً یہ مجموعہ شاہین کا پہلا مجموعہ ہے، پہلی کتاب اکثر شناخت نہیں بناتی مجھے امید ہے کہ شاہین اپنی آواز کا گلا نہیں گھونٹے گی!!!