کم ظرفوں کی سیاست!

288

ظرف کسی فرد کا ہو یا کسی پارٹی کا اس کو ناپنے یا جانچنے کی کسوٹی یا مال و دولت ہے یا منصب و اقتدار!
ظرف والے دولت یا اقتدار یا دونوں پاجانے کے بعد بھی بے اعتدال نہیں ہوتے لیکن کم ظرف کو جو بھی ملے، مال یا منصب، اس کی اوقات کی پول کھلنے میں دیر نہیں لگتی۔ سیر کے برتن میں سوا سیر پڑجائے تو وہ چھلک جاتا ہے اور کم ظرف کو اس کی اوقات سے بڑھ کر جو بھی ملے، مال یا منصب، وہ اس کا بار اٹھا سکتا ہے نہ اس کا تقاضہ پورا کرسکتا ہے!
عمران کے سیاسی دشمنوں نے جو اپنی چنڈال چوکڑی جمائی تھی تو بڑے بڑے دعوے کئے تھے۔ ایک منافق اور کم ظرف ملا کی قیادت میں بڑا زعم دکھایا تھا کہ وہ یہ کردینگے اور وہ کردینگے۔ جارحیت کا وہ عالم تھا کہ ہر جلسے جلوس سے پہلے شیخی بگھاری جاتی تھی کہ عمران کا اقتدار اس وار کو نہیں سہہ سکے گا۔ لیکن ہوا کیا کہ شیطانو ں کی منافقتیں انہیں لے ڈوبیں اور ساجھے کی ہانڈی بیچ بازار چوک میں پھوٹ گئی جس کا تذکرہ ہم گزشتہ کالم میں کرچکے ہیں۔
لیکن کم ظرفوں کی اصل اوقات تو اب دکھائی دے رہی ہے جب ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کی جنگ زور وشور سے شروع ہوچکی ہے۔ کم ظرف میں اتنی اخلاقی جرأت تو ہوتی نہیں کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے یا قبول کرے کہ اس کی کوئی خطا تھی۔ کم ظرف ہمیشہ دوسرے کو الزام دیتا ہے اور یہی کچھ ان دنوں پی ڈی ایم کی چنڈال چوکڑی کے پٹے ہوئے مہرے ایک دوسرے کے خلاف کررہے ہیں۔
مفرور نواز کی مغرور دختر، مریم، کو اپنے بارے میں لگتا ہے سنجیدگی سے یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ وہ اپنے نام کی مناسبت سے اتنی معصوم، نیک اور پاک صاف ہیں کہ عوام ان کی ہر بات پہ آنکھ بند کرکے یقین کرلیں گے۔ عوام بھی ہمارے اتنے سادہ لوح یا عقل سے کورے ہیں کہ واقعی کر بھی لیتے ہیں اور آنکھ بند کرکے پیچھے چل پڑتے ہیں جعلسازوں اور شعبدہ بازوں کے۔ یہ لعنت ہے اس نظام ِ جبر کی جسے جاگیرداری کہتے ہیں اور جس میں عوام کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ غلامی کی بو ویسے بھی نسلوں تک نہیں جاتی اور پاکستانی معاشرے سے تو یوں اور بھی نہیں جارہی کہ نظامِ جبر پاکستان میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اور مضبوط اور توانا ہوتا رہا ہے۔ احساسِ غلامی ہمارے عوام کی رگ و پے میں خون بن کر گردش کررہا ہے۔!
تعلیم بھی اس غلامانہ ذہنیت کا کچھ نہیں بگاڑ سکی جس کا ثبوت یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اکثر ان جعلسازوں کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور یقین کرلیتے ہیں کہ مریم نواز یا بلاول جیسے موروثی سیاست کی کھیتی کی پیداوار واقعی اس قابل ہیں کہ ملک کی قیادت کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں سونپی جاسکے!
عوام کی چھوڑئیے۔ ہماری لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان جو بڑی شان سے عدالت میں منصف بن کر بیٹھتے ہیں اور ملک میں قانون کے محافظ اور انصاف کے رکھوالے سمجھے جاتے ہیں ان کا کردار اس نام کے شریف کنبے کے حوالے سے تو ان پڑھ اور سادہ لوح عوام سے بھی گیا گذرا ہے۔ یہ وہ کردار ہے جس کو دیکھ کر اور جس کا احساس کرکے تین حرف بھیجنے کو دل چاہتا ہے!
کمال کے بے حس اور موٹی کھال کے ہیں لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی!
یوں لگتا ہے جیسے شریف خاندان نے ان کو خرید لیا ہو۔ بلکہ زرخرید بھی اتنا نہیں گرتے جتنا اس کم ظرف اور کرپٹ خاندان کے بد کردار اور بدطینت افراد کو بچانے کے عمل میں لاہور ہائی کورٹ بارہا گرچکاہے اور حال ہی میں مریم نواز کو قبل از گرفتاری ضمانت کی سہولت دینے کا کارنامہ سرانجام دے کر اس عدل کے نام پر بدنما داغ لاہور ہائی کورٹ نے پھر یہ ثابت کردیا کہ یہ عدالت تو اپنا ضمیر اور اس کے ساتھ ساتھ اپنا انصاف سب کچھ اس ڈکیت خاندان کے ہاتھ بیچ چکی ہے اور اس شرمناک فعل پر اسے نہ کسی طرح کی شرم ہے نہ حیا!
مریم نواز کو ۶۲ مارچ کو لاہور میں نیب نے طلب کرلیا تھا لیکن اس کا اعلان ہوتے ہی چوروں کے ساہوکار ساجھے دار حرکت میں آگئے۔ ایک تو اب آزمودہ نسخہ ان کے ہاتھ دھوون دینے کا آگیا ہے۔ سو مریم کے ساتھ ملا فضلو نے بھی یہ دھمکی دی کہ وہ اور ان کے کارندے، جو دینی مدرسوں کے طلبأ ہوتے ہیں جو ملاؤں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلیوں کی طرح ان کے اشاروں پر عمل کرتے ہیں، سب مریم کے جلو میں نیب کی عدالت میں جائینگے۔ لیکن پھر لاہور ہائی کورٹ نے ایک طرف مریم کی مشکل آسان کردی تو دوسری طرف خود نیب کو یوں لگا جیسے غش آگیا ہو جس کے نتیجے میں مریم کی پیشی موخر کردی گئی۔ کب تک کیلئے؟ اس کی کوئی وضاحت تاحال نہیں دی گئی ہے۔ تاخیر کی نوبت کیوں آئی۔ کیا مریم اور ملا فضلو کی گیدڑ بھبھکیوں سے ڈر گئے یا پھر کہیں سے فرمان آگیا کہ اس بی بی کے بارے میں ہاتھ ہولا رکھو!؟
یہ ڈرامے، کم ظرفی کے، جو موروثی سیاسی گماشتے، ہماری عدالتوں کے بھرپور تعاون سے اسٹیج کرنے کے عادی بلکہ ماہر ہوچکے ہیں، یہی سبق پڑھاتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں نہ صرف ظرف کا فقدان ہے بلکہ گمراہی بھی ہے جو ملک و قوم کے حق میں زہر بن سکتی ہے!
عمران کو اقتدار سے محروم کردینے کے دعویداروں میں اب جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے اور زور شور سے ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالی جارہی ہے جو کم ظرفی کا معمول کا وطیرہ ہوا کرتا ہے۔
وہ جیسے پہلوانوں کے دنگل میں ہوتا ہے کہ بڑے پہلوان آپس میں کشتی کرنے سے پہلے اپنے پٹھوں کو اکھاڑے میں اتارتے ہیں تونواز تو لندن میں محفوظ فاصلے پر دبکا بیٹھا ہے اور زرداری خاموشی سے مریم اور فضلو کو چاروں خانے چت کرنے کے بعد اپنی بلاول ہاؤس کی پناہ گاہ سے نواز لیگ کی بیچارگی اور ذہنی افلاس کا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ لیکن ان دونوں کے پروردہ آپس میں دست و گریباں ہیں۔ مریم اور بلاول ایک دوسرے کو لڑاکا پڑوسنوں کی طرح طعنے دے رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کی اوقات دکھانے میں ہمہ تن مشغول ہے۔
سب سے قابلِ رحم حالت فضلو کی ہے جن کیلئے ہم نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ مولانا تو بیچارے دھوبی کا کتّا بن گئے ہیں جو گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ اب ان کا عالم کٹی پتنگ جیسا ہے جو ہوا کے تھپیڑے کھا رہی ہے اور کوئی اسے لوٹنے کو آمادہ نہیں ہے!
کم ظرفی کی سیاست صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پاکستان کے پڑوسی بھی اسی راستے پر گامزن نظر آتے ہیں۔
مودی نے دکھاوے کو تئیس مارچ، یعنی یومِ پاکستان پر سفارتی شعار برقرار رکھنے کو اپنے ہم منصب عمران خان کو مبارکباد کا ایک مختصر سا پیغام ارسال کیا لیکن چائے بیچتے بیچتے بھارت کا پردھان منتری بن جانے والا ظرف کہاں سے لائے۔ وہ تو خریدا نہیں جاسکتا نہ مستعار لیا جاسکتا ہے۔ سو یہی ہوا مودی جی کے پیغام کے ساتھ کہ جس میں انہوں نے حکومتِ پاکستان کا کہیں نام تک نہیں لیا۔ مبارکباد دی تو صرف پاکستانی عوام کو، اچھے تعلقات کا بات کی تو صرف پاکستانی عوام کی حد تک۔ اور پھر اپنی کم ظرفی کا بھرپور ثبوت دیتے ہوئے انہوں نے دہشت گردی کی بات چھیڑدی!
بھارت نے تیرہ برس پہلے ہونے والے ممبئی کے خونی حادثہ کے بعد پاکستان کے نام کے ساتھ دہشت گردی کو جوڑ دیا ہے اور کوئی موقع نہیں جاتا جو پاکستان اور دہشت گردی کو ایک ہی سانس اور ایک ہی جملے میں ادا نہ کیا جاتا ہو۔ گویا بھارت کی نظر میں پاکستان اور دہشت گردی لازم و ملزوم ہیں۔! مودی بھی کیا کرے۔ جو شخص بازاروں اور چوراہوں پر چائے بیچتا ہو اور پھر سیاست کی جادوگری اسے ملک کا پردھان منتری بنادے وہ اپنی ذہنیت سے نجات کہاں پاتا ہے۔ ذہنیت تو وہی چائے بیچنے والے کی ہے سو اس کی جھلک ہر تحریر اور تقریر میں نظر آجاتی ہے!
بنگلہ دیش کی حسینہ واجد بھی کم ظرفی میں مودی سے کم نہیں بلکہ دو ہاتھ آگے ہی ہیں۔ انہوں نے ۶۲ مارچ کو بنگلہ دیش کی آزادی کے پچاس سال پورے ہونے پر جو جشن منایا اس میں مہمان خصوصی اور کوئی نہیں بلکہ مودی جی تھے۔ اور مودی نے بڑے فخر سے اپنی تقریر میں، ڈھاکہ میں، یہ کہا کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی جدو جہد میں ان کا بھی حصہ ہے۔ وہ بھی انگلی کٹا کے شہیدوں میں شامل ہونے کے دعویدار ہیں!
حسینہ واجد نے مودی کو پاکستان دشمنی میں مدعو کیا تھا کیونکہ دونوں ہی پاکستان کے جانی دشمن ہیں لیکن حسینہ واجد نے اس بات کو بالکل نہیں گردانا، اور شاید جان بوجھ کے نظر انداز کیا، کہ مودی مسلمانوں کا بھی جانی دشمن ہے اور اس کی قیادت میں بھارت سرکار مسلم دشمنی کی راہ پرعرصہ سے گامزن ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ساتھ مودی سرکار نے جو کیا اس پر دنیا مودی کو بجا طور پر ذمہ دار ٹہراتی ہے۔ لیکن کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے ساتھ ساتھ مودی سرکار نے ان لاکھوں بنگلہ دیشی مسلمانوں کو بھی اپنی ریاست آسام سے بیدخل کردیا ہے جو بنگلہ دیش کی آزادی کے فوری بعد کے برسوں سے وہاں مقیم تھے!
لیکن حسینہ واجد کی پاکستان دشمنی نے ان تمام حقائق کی طرف سے ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دئیے۔ اس سے بدتر انہوں نے اپنی پست سوچ کا ثبوت اس سے دیا کہ مودی کے بنگلہ دیش آنے پر بنگلہ دیشی عوام کی غیرت نے جو انہیں للکارا تھا اس کے نتیجہ میں بنگلہ دیش کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں حکومت کے اس اقدام اور مودی کی مذمت میں مظاہرے ہوئے جنھیں حسینہ کے حکم پر کچلنے کیلئے بیدریغ طاقت کا استعمال کیا گیا اور درجنوں شہری ہلاک ہوگئے۔ یہ مظاہرے تادمِ تحریر جاری ہیں اور پاکستان سے نفرت کی آگ میں جلنے والی حسینہ واجد کی طاغوتی حکومت مظاہرین کا خون بہانے سے باز نہیں آرہی۔ یہ ہے کم ظرف کے ہاتھ میں اقتدار دینے کا کڑوا ثمر جو بنگلہ دیش کے غیور عوام کھارہے ہیں یا کھانے پہ مجبور ہیں!
کم ظرف حکمراں اپنے زوال کے آخری لمحات تک تائب نہیں ہوتے کیونکہ قدرت کم ظرفوں سے یہ استعداد سلب کرلیتی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا ادراک کرسکیں یا اپنے شیطانی عمل سے باز آجائیں۔ لیکن تاریخ ایسے اتھلے، چھچورے حکمرانوں اور لیڈروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ وہ چاہے مودی ہو، حسینہ واجد ہو یا حکمرانی کے خواب دیکھنے والے بلاول یا مریم ہوں۔ آخرِ کار وقت انہیں ان کے کالے کرتوتوں کی سزا کے طور پر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے تاکہ دنیا اس سبق کو یاد رکھے کہ مٹی وہیں پہ ملتی ہے جہاں سے اس کا خمیر اٹھایا گیا ہو!
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ